Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Meri Tehreer: Bolo Ji Tum Kya Kya Khareedo Gey

Meri Tehreer: Bolo Ji Tum Kya Kya Khareedo Gey
Seller and Buyer

Meri Tehreer: Bolo Ji Tum Kya Kya Khareedo Gey

 !

بولو جی تم کیا کیا خریدو گے

منڈی اپنے عروج پر ہے۔ ہر طرف ایک بازار گرم ہے جہاں بیچنے والے بیچتے چلے جارہے ہیں اور خریدنے والے خریدتے۔

قیمتوں کا بھاؤ  ہوتا ہے اور ہر چیز بِک جاتی ہے۔

نہ بیچنے والے کو فکر ہے کہ خریدنے والے کے پیسے حلال کے ہیں کہ حرام کے اور نہ ہی خریدنے والے کو اس بات کی فکر ہے کہ مال قانونی ہے یا غیر قانونی۔

من کی پسند کا سودا ہوتا ہے اور چیزیں بِک جاتی ہیں۔

نہ مہنگائی کی پروا رہتی ہے نہ کوالٹی کی۔جو جتنی مہنگی شے خریدتا ہے وہ اتنا بلند اسٹیٹس کا ماناجاتا ہے۔

نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے مگر اِس منڈی کی تجارت پر کبھی زوال نہیں آیابلکہ دِن بدن منڈی کی رونق بڑھتی چلی جارہی ہے۔

تاجروں کی توجہ اس منڈی میں جذب رکھنے کے لیے نئے نئے اقدام کیے جارہے ہیں۔ اِس منڈی میں انسانوں کی بھیڑ ہے مگر حسرتیں صرف دھن وانوں کی پوری ہوتی ہیں۔

میں ابھی ایک جانب کھڑااِس منڈی کا جائزہ لے رہا ہوں کہ کہاں سے شروع کروں۔

لباس سے میں بھی کوئی تاجر لگتا ہوں اور کوئی بہت بڑا سودہ کرنے کے نیت سے منڈی میں داخل ہوتا ہوں، ہرجانب سے ایک ہی صدا سنائی دے رہی ہے:

بولو جی تم کیا کیا خریدو گے؟


About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment