ساغرصدیقی گلدستۂ غزل

پوچھا کسی نے حال

پوچھا کسی نے حال

 پوچھا کسی نے حال

پوچھا کسی نے حال کسی کا تو رو دئیے
پانی میں عکس چاند کا دیکھا تو رو دئیے

نغمہ کسی نے ساز پر چھیڑا تو رو دئیے
غنچہ کسی نے شاخ سے توڑا تو رو دئیے

اڑتا ہوا غبار سرِ راۃ دیکھ کر
انجام ہم نے عشق کا سوچا تو رو دئیے

بادل فضا میں آپ کی تصویر بن گئے
سایہ کوئی خیال سے گزرا تو رو دئیے

رنگِ شفق سے آگ شگوفوں میں لگ گئی
ساغرؔ ہمارے ہاتھ سے چھلکا تو رو دئیے

شاعر: ساغرصدیقی
 
سرِ بازار کسی نے روکا اور پوچھا کہ فلاں کا کیا حال ہے؟ فلاں کا نام سنتے ہی دل کے سمندروں مٰن طلاطم آ گیا، سوچوں کے صحراؤں میں طوفان مچ گیا، دل رو پڑا کہ یہ نام تو کچھ کچھ جانا پہنچانا ہے۔ یہ نام تو اسکا ہے جس سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ یہ نام تو کبھی میری پہچان تھا۔ یہ نام تو کبھی میرے لیے سکوں کی گھڑی تھی۔ آج یہ نام کسی کے ہونٹوں سے سن کر دل بے اختیار رو پڑا۔ بھولی بسری یادیں تازہ ہو گئیں۔ اب تو جس طرف دیکھتا ہوں تم ہی نظر آنے لگے ہو۔ اپنی بیخودی میں جب بھی سرِ بازار چلتے ہوئے بادلوں پر نظر پڑتی ہے تو لگتا ہے کہ ابرِ کرم بھی تمہاری تصویر بن گئے ہیں۔ تیکھی نظریں، خوش پیشانی، گہری نیلگوں آنکھیں ، ایک ایک پل تمہارا خیال تمہارا تصور۔۔۔ پانی پر عکس چاند کا بھی دیکھ بھی دل فسردہ ہو جاتا ہے، چاند کی ماہ رخی تمہارے جمال سے کس قدر مماثلت رکھتی ہے۔ ماہ رخ، نازنین اچنبا اور ایک دلکش دلربا اور پرسکوں سا ساز۔۔۔ ایسا ساز جو چھڑتا ہے تو دل روتا ہے۔۔۔ مگر اسکی کسک نہ سنے گزارا بھی ممکن نہیں۔ دور۔۔۔ کہیں دور ساز چھڑا اور دل رویا۔۔۔ اس ساز کے ایک ایک سر میں تیرا سوز جاگ اٹھا، دل کا راگ بول اٹھا۔۔ تمہارے ہونٹوں کا لمس یاد آیا، ہائے وہ ہونٹ وہ دلکش ہونت جو نرم و نازک ہیں جو پھول کی پتیوں کی طرح ملائم ہیں جب بھی کوئی پھول کا غنچہ توڑتا ہے دل روتا ہے۔۔۔ بھلا کوئی کیسے تمہارے ہونٹ جیسے غنچوؤں کو توڑ سکتا ہے؟ لیکن جب ہوائیں میرے تصورات کے دیوانوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں تو غبارِ راہ سے سبق ملتا ہے کہ عشق کا انجام بھی کیا متزلزل ہے۔ کوئی پائداری نہیں۔ شکستہ۔ ناتواں۔۔۔ عشق بھی ایک بھونچال ہے۔۔۔ ادھر آیا ادھر گیا۔۔۔  جب آگ لگتی ہے تو سب کچھ جلا کر راکھ کر دیتی ہے – جب ہمارے ہاتھ سے ہمارے اثاثہ جو کہ تمہاری یادوں کی صورت میں ہیں چھوٹتے ہیں تو ہم بے اختیار رو دیتے ہیں۔۔۔۔


تبصرہ: مسعود

 

lgourdu

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW