گلدستۂ غزل

Janey Is Dil Ka Haal Kya Hoga

Janey Is Dil Ka Haal Kya Hoga
Janey Is Dil Ka Haal Kya Hoga

جانے اس دل کا حال کیا ہو گا
تیرا وعدہ اگر وفا ہو گا

ہم نہ باز آئیں گے محبت سے
جان جائے گی اور کیا ہو گا

بے سبب تو نہیں تڑپ دل کی
تیرے رخ سے نقاب اٹھا ہو گا

تیری بیداد ، میری خاموشی
حشر میں اس کا فیصلہ ہو گا

حشر میں میرا حشر کیا ہو گا؟
تیری جانب اگر خدا ہو گا!

تیرا غم یہ سمجھ کے سہتا ہوں
میری قسمت ہی میں لکھا ہو گا

تیری مہندی میں اتنا رنگ کہاں؟
خونِ عاشق ملا ہوا ہو گا

ان کے در کا ہے یہ نشاں عالمؔ
در پہ میلا سا ایک لگا ہو گا

شاعر:عالم

تم نے وعدہ کیا! پھر وعدہ نبھانے کا وعدہ کیا!پھر وعدے کو بھول نہ جانے کا وعدہ کیا! پھر ایفائے عہد کی قسمیں کھائیں!
اور میں سوچتا ہی رہ گیا کہ اس دل ِ نادان کا حال ہی کیا ہوگا اگر تمہارا یہ وعدہ پورا ہو گیا؟ کیا میرا دل تمہارے ایفائے عہد کو قبول بھی کر پائے گا؟ کیونکہ تم تو سراپا بیوفائی کے پتلے ہو۔ تم نے جب بھی وعدہ کیا اسے بھولا دیا۔ تم نے محبت بھی کی تو دو دن کی۔ تمہاری محبت بھی کہان کی محبت تھی وہ تو فقط ایک دل لگی تھی۔ اور ہم نے تو محبت کی ہے ! بلکہ محبت نہیں محبت بھی عبادت سمجھ کر کی ہے! ہم تو کبھی بھی اس محبت کی عبادت سے باز نہیں آنے والے، ہم اپنے دل کے پابند ہیں اس کے لیے زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟ ہماری جان ہی جا سکتی ہے نا؟ تو چلی جائے مگر ہم محبت سے باز نہیں آئیں گے۔ محبت کرنے والے کبھی انجاموں سے نہیں ڈرتے۔ جو انجام سے ڈرتا ہے وہ محبت نہیں کرتا۔ اور تم نے کہاں محبت کی۔ تم نے کہاں محبت کا وعدہ کیا۔ تم نے وقت گزارا کیا۔
ہمارا دل! تمہاری محبت کا گہوارا! شدید ترین تڑپ کا شکار ہے کیوں؟ شاید آج رخِ یار سے نقاب ڈھلکا ہو گا! شاید آج رخِ روشن سے خرمنِ دل پر بجلیاں گری ہوں گی! آج عام دیدارِ یار ہوا ہو گا!  مگر دیدار کہاں؟ ہمارا دل تو تمہاری بیداد سے بوجھل ہو چکا ہے۔ اسقدرجوروستم اور پھر بھی ہماری خاموشی۔ اب اس کا فیصلہ بھی حشر ہی میں ہو گا کہ تمہاری کج روی کی کیا سزا ہو گی!تمہاری کٹھورپن کا فیصلہ ہو گا! مگر پھر یہ سوچ کر بے چین سا ہو جاتا ہوں کہ اگر حشر پر بھی خدا تمہارے حال میں شامل رہا تو میرا کیا بنے گا؟ اس دل پر لگے زخموں کی دوا اگر وہاں بھی نہ ملی تو اس سے آگے تو کوئی ٹھکانہ نہیں! اگر خدا نے بھی تمہارے حق میں فیصلہ دیا تو میرا کیا بنے گا؟ میرا کیا ہو گا؟
پھر بھی تمہارا غم یہی سمجھ کر سہہ لیتا ہوں کہ شاید میری قسمت میں تمہارا درد ہی لکھا ہے: اور اس دل میں کیا رکھا ہے، تیرا ہی درد بسا رکھا ہے! کیونکہ تمہاری مہندی کا رنگ بتا رہا ہےکہ یہ کوئی عام مہندی نہیں یہ مہندی میرے لہو سے نکھری ہے، اسکا رنگ روپ میرے دل کے خون کے قطروں سے رنگی ہے۔ اور نامراد عاشقِ زار کے لہو سے نکھری مہندی کا تماشا دیکھنے کے لیے تمہارے در پہ ایک میلہ سا لگا ہے، یہ میلہ محبت  کا قتل گاہ ہے! جانے اس دل کا حال کیا ہوتا اگر تمہارے وعدے وفا ہو جاتے؟

تبصرہ مسعود

About the author

Masood

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW