Humara Moashra Meri Tehreerein

Meri Tehreer: Gheebat?

ethics-in-procurement-1
ethics-in-procurement-1

غیبت؟

سوال: کیا سیاستدانوں، علماؤں، مولویوں، فنکاروں، کھلاڑیوں کے اعمال پر بات کرنا غیبت ہے؟

ہم بات شروع کرتے ہیں سیاستدانوں سے۔۔۔

 سیاستدان انسانوں کے ایک گروپ کی ترجمانی کرتا ہے، اُن کے حقوق کی علمبرداری کرتاہے۔ اگر حکومت میں ہو تو سارے ملک کی، سارے معاشرے کی، ساری قوم کی ترجمانی کرتا ہے۔ اُس کے افعال جو بحثیت سیاستدان ہوں، اُسکے اپنے نہیں ہوتے، وہ قوم ، ملک اور معاشرے کے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی قوم ، اپنے ملک اور اپنے معاشرے کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے۔ اِس لیے اُسے باکردار ہونا چاہیے۔ اسکو صادق اور امین ہونا چاہیے۔

اگر ایسا کوئی سیاستدان اپنے دورِ سیاست میں منفی اعمال کرتا ہے یا غلط پالیساں تیار کرتا ہے، تو اُس کا impactسارے معاشرے، ساری قوم اور ملک پر پڑتا ہے۔ ایسی غلطیوں، ایسی بُرائیوں ، ایسی کوتاہیوں کو بے نقاب کرنا، ان پر سوال اٹھانا، اسکا احتساب کرنا ہر محبِ وطن شہری کا فرض ہے۔

مثال کے طور پر، کہتے ہیں کہ مصطفی جتوئی یا غلام مصطفی کھر (یا غالباً کوئی اور تھا مجھے اب اُس کا نام یاد نہیں آ رہا، مگر تھا نام کچھ ایسا ہی) اُس نے ۶۰ سال کی عمر میں ایک پچیس سالہ لڑکی سے شادی رچائی: اب یہ اُسکا ذاتی عمل تھا جس سے قوم، ملک یا معاشرے پر کوئی فرق نہیں پڑتااور نہ ہی یہ گناہ ہے یا غلط فعل ہے، اِس پر وہ برحق تھا ، اِس بات پر اُسے لوگوں میں بدنام کرنے کی سعی ، کہ وہ اتنا بُرا تھا کہ پچیس سالہ لڑکی سے شادی کر لی، یہ غیبت ہے۔

جبکہ اگر نواز شریف اپنے دورِ حکومت میں عرب کے شیخوں کو مری میں بلا کر عیاشی کراتا ہے اور ملک کے نام پر قرضہ حاصل کرتا ہے مگر وہ قرضہ اپنے مفاد میں لگاتا ہے، تو یہ قوم کے ساتھ غداری اور غبن ہے اِسے بے نقاب کرنا میرے نذدیک فرض ہے، کیونکہ نوازشریف کے اِس عمل کا امپیکٹ قوم، ملک اور معاشرے پر پڑتا ہے۔

اسی طرح میں جب ۲۰۰۹ میں پاکستان سے واپس آیا تھا اور آکر ایک مضمون لکھا تھا، جس میں رحیم یار خان میں ہونے والی بدکاری کا وہ حال بیان کیا تھا جہاں عرب آکر اپنی ہوس کی آگ بجھاتے ہیں، یہ وہ گناہ ہے جسکا امپیکٹ ہمارے ملک، ہمارے معاشرے اور ہماری سوسائٹی پر پڑتاہے، ایسی باتوں کے خلاف آواز اُٹھانا بذاتِ خود ایک جہاد ہے۔ایک لمحہ بھر کے لیے  سوچیں، ہوس کا نشانہ بننے والی بچیاں کون ہیں؟ کن کی بیٹیاں ہیں؟ اگر ہم چپ رہیں تو کیوں؟ فرض کیجیے اُن بچیوں میں ہماری اپنی ماں جنی بہنیں ہوں تو ہم کیسے reactکریں گے؟ کیا ہم اُس وقت بھی خاموش ہو جائیں گے؟ فیصلہ آپ خود کیجیے!(یہاں پر کچھ اعلیٰ سوچ رکھنے والے ناقدین ضرور استفسار کریں گے کہ میں نے کیا کیا؟ تو عرض یہ ہے کہ میں اُس وقت وہاں جو کر سکتا تھا کر آیا تھا)۔

نہ ہی تو مجھے نواز شریف کی پرائیویٹ زندگی سے کوئی غرض و غائیت ہے اور نہ ہی زرداری کی۔ مگر جیسے ہی وہ بحثیت قوم کے رہنماکوئی قدم اُٹھائیں گے تو اُسے مانٹر کیا جائے گا اور پھر اُس کا احتساب کیا جائے گا۔ظالم حاکم کے سامنے کلمۂ حق کہنا بھی جہاد ہے۔

یوں مجھے اس بات سے رتی برابر غرض و غائیت نہیں کہ فیس بک پر مریم نواز کے قطری کے ساتھ چکر کی باتیں گھمائی جاتی ہیں، یا یہ کہ مریم صفدر نے شادی کے چار ماہ بعد ہی بچہ پیدا کیا، یہ اسکے افعال ہیں، مگر مجھے اس بات کا ملال ہے کہ مریم صفدر نے عدالت میں فوجری کی، غلط بیانی کی اور جعلی دستاویزات پیش کیں، یہ جرم ہے اور اسکا امپیکٹ پاکستان پر ہے، لہٰذا اس پر اسے بے نقاب ہی نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس پر اسے سزا دلوانی چاہیے۔

اِس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ بہت سارے لوگ عمران خان کو اِس لیے بھی پسند نہیں کرتے کہ وہ اپنے شباب میں پلے بوائے کی زندگی گزارتا رہا ہے، اور کچھ اِس لیے بھی پسند نہیں کرتے کہ اُس نے ایک یہودی کی بیٹی سے شادی کی ہے۔ اب اِن دونوں باتوں کا عوامی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا، یہ اُسکے ذاتی عمل ہیں، جن سے کسی بھی دوسرے انسان کو غرض نہیں ہونی چاہیے۔ مگر یہ بات جو پھیلائی گئی ہے کہ عمران خان  نے سیلاب زدگان کے نام پر عوام سے پیسہ بٹورا اور اسے پھر کئی اور صرف کیا یہ عوام کے ساتھ دھوکہ اور فریب ہے اوراِسے بے نقاب ہونا چاہیے، ایسی باتوں کی تفتیش ہونی چاہیے۔ اگر ثابت ہو جائیں تو ایسے انسان کا رہنما ہونا، ملک اور معاشرے کے ساتھ غداری ہے۔ 

یادرکھیں کہ سیاستدانوں اور حکمرانوں کے وہ اعمال جن کی عوام کیساتھ نسبت ہواُن کی پوچھ گچھ اللہ کے حضور بھی ہو گی۔ اور حکمرانوں کی پوچھ گچھ سب سے سخت ہو گی۔

حضرت عمر فاروق ؓ کی نسبت سے ایک واقعہ بیان کرتا ہوں، غورفرمائیے:

’’آپؓ حسب عادت اپنے رات کے دورے پر تھے کہ آپؓ کو کسی بچے کے رونے کی آواز آئی۔ آپؓ اُس سمت چل پڑے۔ دیکھا تو بچہ بلک بلک کر رو رہا ہے۔ آپؓ بچے کی والدہ سے کہتے ہیں کہ اِسے چپ کیوں نہیں کراتی؟ ۔ عورت کہتی ہے کہ امیرالمومنین کا حکم ہے کہ جب تک بچہ ماں کا دودھ پیتاہے، اُس کا وظیفہ شروع نہیں ہوگا، میں اِس کا دودھ چھڑانا چاہتی ہوں تاکہ اِس کا وظیفہ شروع ہو سکے۔ یہ سُن کر حضرت عمرفاروقؓ کوبہت ملال ہوا اور آپؓ نے فجر کی نماز کے فوراً بعد نیا آرڈیننس جاری کیا کہ بچوں کا وظیفہ اُس وقت ہی شروع ہوا کرے جب وہ پیدا ہوں۔ (یہ قانون آج یورپ کے اکثر ممالک میں رائج ہے، سبحان اللہ)

اِس واقعہ سے ہمیں کیا سبق ملتاہے؟ کہ خلیفہ وقت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اُٹھانا، ہر شہری کا حق ہے۔ایک عورت کی آواز نے عمرِ فاروق ؓ جیسے امیرالمومنین کو اپنا قانون بدلنے پر مجبور کر دیا،کیوں؟ اِس لیے کہ اُن کے قانون کا امپیکٹ عوام پر تھا، اور عوام کی ذمہ داری کی جوابدہی خدا کے حضور ہو گی۔

ایک دوسرا طبقہ علماؤں کا ہے۔ علماؤں کی نسبت بہت  سنجیدہ اور نازک ہے! ان کا تعلق دین سے ہے اور دین ایک ایسا معاملہ ہے جس کی نسبت عوام کا علم انتہائی محدود ہونے کی وجہ سے  سخت خوف اور تذبذب میں ڈوبا ہوا ہے۔ عام انسان علماؤں کی نسبت کچھ کہنے سے  اس لیے خوفزدہ ہے کہ اگر میں نے ان کے حوالے سے کچھ کہہ دیا توکہیں کفر کے ضمرے میں نہ شامل ہو جائے۔  درحقیقت یہ خوف انہیں علماؤں نے عوام کے ذہن میں ڈالا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالم اس مقام پر ہے کہ اگر اس نے ایک بھی جنبش غلط ہو گئی تو ایک طبقہ، ایک گروہ، ایک فرقہ تباہ ہو جائے گا۔  اگر ہم عالمِ اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو یہی تو سامنے آتا ہے کہ علماؤں نے اپنی اپنی دکانیں  چمکانے کے لیے اسلام میں ایسے ایسے فرقے پیدا کر دئیے ہیں کہ جنہوں نے انسانیت کا خون انتہائی بیدردی سے بہایا ہے۔  یہاں تک کہ کفر کا فتویٰ کوئی معیوب بات نہیں سمجھی جاتی۔ چونکہ عوام الناس کے پاس دین کا علم نہیں، نہ ہی عوام دین کا علم حاصل کرنے کی سعی کرتی ہے انکے لیے عالم کا کہہ دینا ایسا ہی ہے گویا قرآن کہہ رہا ہے۔ اور یہ عالمِ اسلام کی موجودہ صورتحال کی وجہ ہے۔   علمائے سہو کی نسبت ہمیں نبی پاک ﷺ کی احادیث مبارکہ یاد رکھنی چاہیے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ علماؤں کا امتحان انتہائی سخت ہو گا کیونکہ انکا، انکے اعمال کا، انکے افعال کا امپیکٹ عوام پر بہت ہی شدید ہوتا ہے۔

اسی طرح سپورٹس مین ہیں جو آپ کے ملک کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر وہ انگلینڈ جا کراپنی ہی شکست پر سٹہ کھیل کر، یا میچ فکسنگ کر کے اپنے ملک کے نام کو بدنام کریں گے، تو اُن کے خلاف آواز اُٹھانا نہ صرف درست ہے بلکہ جہاد ہے۔(انگلینڈ صرف ایک حالیہ مثال کے طور پر استعمال کیا ہے)۔  فنکار جو کئی لوگوں کا آئیدیل ہوتے ہیں انکے افعال و اعمال عوام پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ہمیں غیبت میں اور اخلاقی، سماجی اور معاشرتی فرض میں فرق کرنے کی تمیز آنی چاہیے ۔

مسعودؔ

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment