گلدستۂ غزل

کچھ عشق تھا، کچھ مجبوری تھی

کچھ عشق تھا، کچھ مجبوری تھی

کچھ عشق تھا، کچھ مجبوری تھی، سو میں نے جیون وار دیا
میں کیسا زندہ آدمی تھا اِک شخص نے مجھ کو مار دیا
یہ سجا سجایا گھر ساقی میری ذات نہیں میرا حال نہیں
اے کاش کبھی تم جان سکو جو اُس سکھ نے آزار دیا
میں کھلی ہوئی اِک سچائی مجھے جاننے والے جانتے ہیں
میں نے کن لوگوں سے نفرت کی اور کن لوگوں سے پیار کیا
وہ عشق بہت مشکل تھا مگر آسان نہ تھا یوں جینا بھی
اُس عشق نے زندہ رہنے کا مجھے ظرف دیا پندار دیا
میں روتا ہوں اور آسمان سے تارے ٹوٹتے دیکھتا ہوں
اُن لوگوں پر جن لوگوں نے میرے لوگوں کو آزار دیا
وہ یار ہوں یا محبوب میرے یا کبھی کبھی ملنے والے
اِک لذت سب کے ملنے میں وہ زخم دیا یا پیار دیا

شاعر:عبیداللہ علیم

کوئی کیا جانے کہ ہر مہکنے والے پھول کی خوشبو کے پیچھے کیا کیا دکھ ہو سکتے ہیں، کبھی کبھی سب کچھ  ہونے کے باوجود انسان کے پاس کچھ نہیں ہوتا، مجبوری میں عشق سے بھی سمجھوتہ ہو جاتا ہے! ایک جانب عشق تھا اور ایک جانب دنیاوی مجبوری مجھے آخر کار اپنی شخصیت  کو بانٹنا ہی پڑا۔ جب عشق کی مرادیں پوری نہ ہوئی ہوں اور زندگی کہیں سے کہیں لے جائے تو ایسا ہی تو کرنا پڑتا ہے! تم نے بھی تو ایسا ہی کیا ہے! کیسا عشق تھا ہمارا! کیسا جنون تھا! مگر آخر کار ہمیں اپنا اپنا جیون یہاں وہاں بانٹنا ہی پڑا۔ یاد ہے لوگ مجھے کیا زندہ دل انسان کی طرح جانتے تھے۔ محفل کی رونق! محفل کی جان!  مگر تم نے میرے مزاج کو ایسا بدمزہ کیا کہ میں ایک مردہ دل انسان بن کر رہ گیا!
تم یہ جو دیکھ رہے ہو کہ میں ایک ہشاش بشاش خوش و خرم گھر میں رہتا ہوں ، یہ میری شریکِ سفر، یہ میرے بچے، یہ میری رونقیں – مگر نہیں یہ میرے ذات نہیں! یہ میں نہیں یا یہ میں وہ نہیں، یہ میں یہ ہوں! ایک مردہ دل انسان! یہ میری ذات سے بہت دور ہے! جومیری اداسیوں کی داستان نہیں بیان کر سکتا! مگر تم نہیں سمجھو گے! تم میرے روشن گھربار کو دیکھکر میرے دل کے زخموں کا اھاطہ نہیں کرسکتے کہ یہ سکھ ہے کہ آزار!
میری محبت بہتے ہوئے پانی کی طرح شفاف تھی اور ہے! ساری دنیا جانتی ہے کہ میں نے کس سے محبت کی ہے! اورکون ہے جو میری نفرت سے ہوکر گزرا ہے! میں ایک کھلی کتاب کی طرح سب پر روشن ہوں، کھلے کھلے اوراق، جو چاہے پڑھ لے، میں کوئی مشکل سبق نہیں اور نہ ہی کوئی فلسفہ ہوں جو سمجھ نہ آ سکے۔ میری خوشحالی سے یہ نہ سمجھ لینا کہ میرے لیے یوں جینا آسان ہے، ہرگز نہیں بلکہ یہ بھی اس عشق کی طرح کٹھن! مشکل! مگر اتنا ضرور ہے کہ اس عشق نے مجھے زندگی جینے کا ظرف عطا کر دیا! مجھے فکرِ حال و موجود کا ظرف دیا ہے!
میرے دل کا کرب جب آنسو بن کر بہتا ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ آسمان سے عذاب ان لوگوں پر برس رہا ہے جن لوگوں نے میرے لوگوں کو دکھ تکلیف دی! میرے لوگ! ان میں کچھ اپنے تھے کچھ بیگانے اور کچھ تو کبھی کبھی ملتے تھے۔۔۔ مگر ہر کسی کے ملنے میں ایک عجیب طرح کے زخم کی لذت تھی! ایک ایسی لذت جو کسی دوسری بات میں نہیں تھی۔ یہ بات صرف ہم ہی سمجھ سکتے ہیں!

تبصرہ مسعود

[embedyt] https://www.youtube.com/watch?v=nxRlR9EdCjY[/embedyt]

کچھ عشق تھا، کچھ مجبوری تھی کچھ عشق تھا، کچھ مجبوری تھی کچھ عشق تھا، کچھ مجبوری تھی کچھ عشق تھا، کچھ مجبوری تھی کچھ عشق تھا، کچھ مجبوری تھی کچھ عشق تھا، کچھ مجبوری تھی

lgourdu

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW