Columns Politics

Kisi Moajzey Ka Intizaar Kijiye

Kisi Moajzey Ka Intizaar Kijiye
Kisi Moajzey Ka Intizaar Kijiye

اس تصویر کو ذرا غور سے دیکھیں!

Kisi Moajzey Ka Intizaar Kijiye

یہ جاپان کی آٹوموبائل انڈسٹری کے باوے آدم سمجھے جاتے ہیں! انہوں نے اپنی زندگیوں میں جاپان کو بدترین جنگوں میں مسلط دیکھا ہے جس کی انتہادوسری جنگِ عظیم میں جاپان کی مکمل تباہی پر ختم ہوا! جاپان جس پر ایٹم بم گرائے گئے اور کوئی اکتیس لاکھ جاپانی ہلاک ہوئے۔ اس جنگ کے بعد جاپان معاشی بدحالی کا شکار ہوا! یہاں تک کہ اس کی  rebuildingمیں پاکستان تک نے قرضہ دیا!

ذرا اوپر کا جملہ غور سے پڑھیں! پاکستان نے جرمنی کیساتھ ساتھ جاپان کو بھی تعمیرِ نو کے لیے قرض دیا! حالانکہ پاکستان اس وقت ابھی ایک نوریاست تھا! آزادی کو ابھی کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔  بیشک تقسیم ہند کے وقت پاکستان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا اور جو اثاثہ پاکستان کا حق تھا اسے نہیں دیا گیا! پاکستان کی سرحدوں کیساتھ بھی غبن کیا گیا جسکا اقرار ابھی حال ہی میں انگلستان کی پارلیمنٹ میں کیا گا!    مگر پھر بھی پاکستان کے حالات اچھے تھے۔ معیشت بہتر تھی! ایک نومولود ریاست ترقی کی جذبے سے سرشار تھی۔ 

بابائے قوم حضرت قائدِ اعظم کی زندگی ہی میں مغربی سائنسدانوں نے پاکستان سے روابط شروع کر دیے اور 1948 ہی میں ایٹمی پلانٹ لگانے کی پیش کش کر ڈالی اور اسکے لیے تمامتر خدمات سرانجام دینے کا اظہار کیا! فضائی تحقیق میں ناسا کے بعد دنیا کا دوسرا منظم اور بڑا ادارہ پاکستان میں اسپارکو کے نام سے تشکیل دیا گیاجس میں مغرب کے فضائی ماہرین شامل تھے۔

یہ تصویر بھی غور سے دیکھیں۔ یہ اٹلی کے شہر روم کے ائر پورٹ کی ہے۔ جس میں امریکہ کی اسوقت کی بہت بڑی ائرلائن TWA کھڑی ہے اور ساتھ ہی پاکستان کا پئ آئی اے کا طیارہ کھڑا ہے۔ پی آئی اے اس دور میں دنیا کی بہترین ترین اور مقبول ترین ائرویز ہونے کیساتھ ساتھ جدید ترین ائر ویز کے طور پر جانی جاتی تھی۔ اس تصویر کی کیپشن میں لکھا ہے کہ عام طیاروں جن میں  ٹی ڈبلیو اے کا طیارہ کھڑا ہے ساتھ ہی دنیا کا جدید ترین طیارہ پی آئی اے کھڑا ہے۔ پی آئی اے کو دنیا بھر میں عزت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔ شان تھی۔ شوکت تھی۔ عظمت تھی۔ عظیم ائر ویز تھی۔ Kisi Moajzey Ka Intizaar Kijiye

یہ پی آئی اے ہی ہے جس نے عربوں کو aviation کے اصول بتائے۔ جس میں اکثر موجودہ دور کی بہترین ترین ائر ویز میں شامل ہے، انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے والا پی آئی اے ہی تھا۔ یہ بھی پی آئی اے ہی تھا جس نے تھائی ائر کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے میں مدد دی۔ وہ دور پی آئی اے کی عظمت کا دور تھا۔یہ پاکستان ہی تھا جس نےجنوبی کوریا کو معیشت کے اصول سکھائے۔  دماغ زرخیز تھے۔ تحقیقات پر زور تھا۔ہر قسم کے مواقع موجود تھے کہ پاکستان تمامتر سیاسی تذبذب کے باوجود ایک اعلیٰ ترقی یافتہ اور علم وفن و ہنر کی دنیا میں سرِ فہرست کی دنیا کے ممالک میں شامل ہو سکتا تھا۔ اس دور میں یورپ میں پاکستان کو تعلیم یافتہ اور ہندوستان کو ایک جاھل ملک سمجھا جاتا تھا۔

مگر کیا ہوا؟ جاپان نے 31 لاکھ افراد مروا کر، دو ایٹم بم خود پر گروا کر علم و فن و ہنر میں وہ انقلاب پیدا کر دیا کہ خود ایٹم بم گرانے والے انکی تحقیقات سے سبق سیکھنے لگے۔ جاپان آج دنیا کا عظیم ترین ملک سمجھا جاتا ہے، انکا پاسپورٹ دنیا کا مضبوط ترین پاسپورٹ گردانا جاتا ہے۔ انکی علمی تحقیق کی دنیا قائل ہے اور جو علمی بات وہاں سے شروع ہوتئ ہے اسے معتبرترین سمجھا جاتا ہے۔ صرف انکی آٹو موبائل کو دیکھیں – دنیا بھر میں چھائی ہوئی ہے۔ یہی حال دوسری جنگِ عظیم میں سب سے بدترین شکست کھانے والے ملک جرمنی کی ہے۔ موجودہ دنیا کے عظیم ترین ممالک بن گئے۔۔۔۔ اور ہم نے انہیں قرض دیا تھا۔

خود ہندوستان آج چاند پر جا پہنچا ہے جبکہ ہم نے کیا کیا؟ اسقدر زرخیز دماغ والے ملک میں جہاں تمامتر مواقع موجود تھے ہم آج دنیا کے پست ترین، خنزیر ترین ، بدنام ترین اور رسوا ترین ممالک کی فہرست میں آخری نمبروں پر ہیں! کیوں؟ اگر ہم جنوبی کوریا کو ٹیکس کے نظام کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتے ہیں تو اپنے ملک میں ایسا کیوں نہیں کر سکے؟

اس لیے کہ جہاں پاکستان نے عسکری محاظ پر جدت اختیار کی اور فوج زبردست مضبوط ہوئی اسکے ساتھ ہی فوج میں شدید ترین کرپٹ جرنلز پیدا ہوئے۔ وہ جرنلز جو اپنی طاقت کی ہوس میں اسقدر ڈوبے ہوئے تھے کہ انہوں نے ملک میں ترقی کی راہیں کھولنے کی بجائے مغربی طاقتوں اور خاص کر امریکہ پر اندھا اعتماد کیا جبکہ امریکہ نے پاکستانی جرنیلوں کو زبردست کرپٹ کیا۔ اقتدار کے ہوس میں ڈوبے جرنیلوں نے پھر ایسے سیاستدان پیدا کیے جو بدعنوانی اور کرپشن میں ان سے دو ہاتھ آگے نکلے۔ جرنیلوں کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا خوب بات ہوتی کہ سیاستدان شدید ترین کرپٹ نکلے – جب سیاسی ماحول کرپٹ ہوتا ہے تو وہاں کوئی کسی کا احتساب نہیں کر سکتا – یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں آج تک کرپٹ جرنیلوں نے جب بھی غداری سے حکومت ہتھیائی ہے انہوں نے کسی بدعنوان سیاستدان کا احتساب نہیں اور جو بھی سیاسی حکومت آئی ہے وہ کرپٹ جرنیلوں کا احتساب نہیں کر پائی – کیونکہ جب ایک حمام میں سبھی ننگے ہوئے تو کوئی کسی پر انگلی نہیں اٹھاتا۔

پچھلے 64 سالوں سے پاکستان کے سیاسی حمام میں ایسے تین خنزیر گھسے ہوئے ہیں جوکرپشن، بدعنوانیوں،  بداعمالیوں اور ملک کیساتھ بدترین غداریوں میں ملوث ہیں۔ جنہوں نے اس ملک کے ساتھ بدعنوانیوں کے وہ زنا کیے ہیں جو کسی بھی معتبر معاشرے میں ناقابلِ معافی جرائم ہوتے ہیں۔دنیا کی تاریخ میں  کسی بھی ملک کے سیاسی نظام میں اس قدرفوجی غداری کی مثالیں نہیں ملتی جس قدر فوجی غداری پاکستان میں کی گئی ہے۔ ملک کی 75 سالہ تاریخ میں ایک بھی دور ایسا نہیں گزرا جہاں فوج نے ملکی سیاست میں تذبذب پیدا نہ کیا ہو! فوج نے اپنی غداریوں کو دھونے کے لیے ایسے خنزیر صفت سیاستدان پیدا کیے جنہوں نے اپن تئیں اس ملک کی رگوں میں ناسور گھولا۔ چونکہ یہ سیاستدان بھی ننگ وطن اور غدارِ وطن ہیں لہذا ان میں جرأت نہیں کہ وہ فوج کا احتساب کرتے! فوج کو کرپٹ سیاستدان پسند ہیں اور وہ اپنے سامنے کبھی کسی مضبوط عوامی لیڈر کو قبول نہیں کر سکتے۔ 

اور یوں ان 3 خنزیروں کی کارستانیوں کی وجہ سے ایک ذہنی طور پر زرخیز ملک جو علم و فن کی ترقیوں کو چھو سکتا تھا آج جہالت اور ذہنی زنگ آلودگی کی بدترین مثال بن چکا ہے۔ ملکی حالات اس قدر گھمبیر ہیں کہ فوج ملک چلا رہی ہے اور سامنے چند کٹھ پتلی خنزیروں کومنہ ہلا کر اداکاری کرنے کے لیے رکھا ہوا جنہیں حکومت کہا جاتا ہے۔فیصلے امریکہ کرتا ہے اور یہ کٹھ پتلی خنزیر چاہیے وہ کرپٹ جرنیل ہوں یا سیاسی لیڈرز ان فیصلوں پر عمل کرتے ہیں۔  عوام کی یہ حالت ہے کہ عوام کو ملکی حالات سے رتی برابر سروکار نہیں۔ انکی دوڑ صرف اور صرف دولت کے حصول پر لگی ہے۔ ڈاکے، قتل، بدعنوانیاں، جھوٹ، غبن اور ہرطرح کی معاشی و اخلاقی بیماری اس معاشرے میں پائی جاتی ہے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔

علما شدید ترین منافق اور بدکردار ہیں۔ ان میں ایسا کوئی عمل پایا نہیں جاتا کہ لوگ انکے پیچھے چلیں، جبکہ کڑوڑں افراد مذہب کے نام پر جاہلانہ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے پاس اتنا علم نہیں کہ وہ نام نہاد ملاؤں سے انکی منافقت اور بددینی پر سوال اٹھا سکیں۔ ملاؤں نے عوام کے دماغوں کی اسقدر ماؤف کر رکھا ہے کہ عوام یہ سوچ کر بھی اگر ہم نے ان ملاؤں کی بات نہ مانی تو کافر ہو جائیں گے – اسقدر مذہبی جہالت اس ملک کی عوام کو دی گئی ہے۔ منافق اور بدعمل ملا دین کے نام پر قوم کا برین واش کر رہے ہیں اور قوم کے 98 فیصد لوگ دین کے نام پر فتنہ فساد اور بلوے کرنے کو تیار ہے مگر دین کے اصولوں کو سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کو تیار نہیں! حیوانی ہوس کا یہ عالم ہے کہ قرآن کی ایک آیت کے آدھے حصے کو استعمال کر کے دوسری تیسری چوتھی شادی کی حواہش رکھنے والے مرد اسی قرآن کی اسی آیت کے دوسرے حصے کو اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں!!!! شدید منافق قوم – اور پھر جیسی قوم ویسے لیڈر!

علم کی شدید کمی ہے! جن کے پاس علم ہے انکے پاس عمل نہیں! جن کے پاس عمل ہے ان کے پاس تربیت نہیں! جنکے پاس تربیت ہے وہ رسوائی کے خوف سے عنقا ہو گئے ہیں۔ اور یہی ماحول ان 3 خنزیروں کو راس آتا ہے: جہاں جسقدر جہالت ہو گئی وہاں کی عوام اتنی آسانی سے نعرہ بازیوں، بڑھکوں اور آوے ہی آوے میں لگی رہے گی جبکہ بدعنوان طبقہ ان پر حکومت کرتا رہے گا۔ جس قوم میں فوجی غداری پر احتساب کی بجائے اس بات پر نعرہ بازیاں شروع ہوجائیں کہ ہمارا چیف آف آرمی اسٹاف حافظِ قرآن ہے اس قوم کی عقل پر ماتم کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا!!!! حالات بدل نہیں سکتے – کسی معجزے کا انتطار کیجیے!!!!

Kisi Moajzey Ka Intizaar Kijiye


بقلم: مسعود

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW