Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Meri Tehreer: Mun-chaley Ka “Man-SHOR”

Meri Tehreer: Mun-chaley Ka "Man-SHOR"

Meri Tehreer: Mun-chaley Ka “Man-SHOR”

منچلے کا’’ من۔شور‘‘ ۔ ایک خاکہ

رات کے آٹھ بجنے والے ہیں۔ساری قوم جوق در جوق اپنے اپنے ٹیلیوژن سیٹ کے سامنے جمع ہو رہی ہے۔  جو جہاں جہاں ہے وہ کہیں بھی ٹی وی نظر آئے وہیں جام ہوئے جا رہا ہے۔ جن کے پاس ٹی وی نہیں وہ ریڈیوز کانوں سے لگائے منتظر ہیں، قوم کا ہر فرد کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طور انتظار میں ہے

Meri Tehreer: Mun-chaley Ka “Man-SHOR”

تلاوتِ قرآنِ پاک:

Meri Tehreer: Mun-chaley Ka “Man-SHOR”

ٹھیک آٹھ بجے ٹیلیوژن کی سکرین پر تلاوتِ قرآن مجید دکھائی جاتی ہے:

قومی ترانہ:
تلاوت کے بعد ہوا میں لہراتے ہوئے سبز ہلالی پرچم پر قومی ترانہ کا ساز بجتا ہے:

اناؤنسمنٹ:

معزز خواتین و حضرات۔ صدرِ پاکستان مسعود!

صدرمسعودسکرین پر نمودار ہوتے ہیں اور تقریر شروع ہوتی ہے۔

تقریر:


بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
میرے معزز ہموطنو!میرے بھائیو! میری بہنو! میرے بزرگو!
آج سے چار سال پہلے آپ نے ایک غیر معروف پارٹی ’تحریکِ پیغامِ عمل‘ کو جب بھاری اکثریت سے کامیاب کرایا تھا تو اِس لیے کہ ہمارا منشور (تلفظ :مَن ۔ شَور) یہ تھا کہ ہم اپنے چارسالہ دورِ حکومت میں پاکستان کو ایک آئیڈیل سٹیٹ بنادیں گے۔ آج الحمداللہ ہم یہ بات کہنے کے حق بجانب ہیں کہ ہم نے آپ کی تواقعات کے مطابق کام کیا ہے اور facts and figures ہماری کامیابیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ہماری حکومت نے دن رات محنت کی ہے، اِس لیے کہ ہم دنیا میں کامیابی کی دوڑ میں اتنا پیچھے رہ گئے ہیں کہ ہمیں ۲۴ گھنٹے کی محنت کرنا پڑی ہے۔ مگر ہماری کامیابی صرف ہماری محنت کا پھل نہیں، اِس میں ہماری عوام کا بھی پورا پورا ہاتھ ہے۔ آپ لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا اور ہم نے آپ کے اعتماد کو اپنے اعمال سے ظاہر کر دکھایا۔ جو جو اہم وعدے ہم نے آپ سے کیے تھے اُن میں کچھ خاص پر بات کرتے ہیں:

ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ سانس لینے کے لیے آلودگی سے پاک فضا مہیاکریں گے ! ہم نے آپ کے گلی کوچوں کو، محلوں کو، راہوں کو، سڑکوں کو کوڑا کرکٹ سے پاک کیا ہے، یہ بات عوام کے شعور میں بٹھائی ہے کہ اگر آپ اپنے گھروں میں گند برداشت نہیں کرتے تو اپنے محلوں میں اپنے گلی کوچوں میں کیسے برداشت کرتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ عوام کارپوریشن کی جانب سے جگہ جگہ نصب کیے ہوئے کوڑاکرکٹ کے containersمیں گند پھینکتے ہیں اور کہیں محلوں میں نہیں پھینکتے۔ہم نے پھٹیچرگاڑیوں کا خاتمہ کیا ہے، دھواں چھوڑتی ہوئی گاڑیوں کے سلنسر تبدیل کروائے ہیں، گاڑیوں کی ہرسال سروس لازمی قرار دی ہے، تیز رفتاری پر کنٹرول کیا ہے، ہم نے جگہ جگہ درخت لگائے ہیں تاکہ کہ تازہ آکسیجن میسرآئے،پھولوں کے باغات لگائے ہیں ،جگہ جگہ man-madeجھیلیں کھدوائی ہیں اور آج ہمارے ماحول میں ایک خوبصورتی ہے۔آج ہمارا ملک جنت کا نمونہ لگتاہے۔

ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ پینے کا صاف ستھرا پانی ہر پاکستانی کے گھر میں میسر ہوگا، آج اگر ایک بھی گھر ہے جس میں پینے کا صاف پانی ۲۴ گھنٹے میسر نہیں تو میں اِسے اپنی حکومت کی ناکامی سمجھوں گا۔ عوام نے اِس ضرورت کو محسوس کیا اورپانی کی پائپ لائنز بچھانے کی اجازت دی۔ بارشوں کے پانی کو قید کرنے کے لیے جھیلیں کھودیں، کالا باغ ڈیم بنایا اور ملک بھر میں مزید نہری سسٹم بچھایا ، پانی صاف کرنے کے پلانٹ جگہ جگہ نصب کیے تاکہ آپ کے گھروں تک صاف ستھرا پانی میسر ہو!بنجر زمینوں کو آباد کیا، جنگل اگائے،آج ہمارا ملک ایک لہلاتا کھیت ہے!

ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ ہر پاکستانی کو تحفظ میسر ہوگا، انصاف آپ کے دہلیز پر ملے گا، ہماری حکومت نے ہر قسم کی اصلحہ پر پابندی لگائی، کوئی بھی پاکستانی ۔چاہے وہ سرحد کا پٹھان ہو یا سندھ کا وڈیرا۔کوئی بھی اپنے گھر میں بندوق نہیں رکھ سکتا۔ اصلحہ کا ہر قسم کا لائسنس منسوخ کیا، جنہوں نے اِس کے خلاف بغاوت کی انہیں سخت سزا دی گئی۔ قانون ساز اداروں کی از سرِنو ترتیب دی گئی ، اِن کے حالات میں اتنی آسانی دی گئی کہ یہ لوگ رشوت سے دور گئے۔ آج ہم رات کو بھی گھروں سے باہر نکلتے ہوئے پریشان نہیں ہوتے!عوام کا پولیس پر اعتماد بحال ہوا، قانون امیر اور غریب کے لیے ایک ہوگیا! اور یہی سے ہماری خوشحالی شروع ہوئی۔

ہم نے وعدہ کیا تھا کہ جرائم پر قابو پائیں گے! آج الحمداللہ ہمارے ملک میں جرائم میں زبردست کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ سب کیسے ہوا؟ دیکھیں جرائم ہمیشہ وہاں جنم لیتے ہیں جہاں حق تلفی ہو، جب جس کی حق تلفی ہو وہ سر اٹھاتا ہے تو بہت شدید قسم کی جرائم جنم لیتے ہیں۔خالی دماغ شیطان کا    گھرہوتاہے۔ ہم نے بیروزگاروں کو کام پر لگایا ہے۔ عوام کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھنے کے لیے مختلف قسم کی activitiesکا environmentمہیا کیا ہے۔ مساجد کو تحفظ دیا ہے، جگہ جگہ لائبریریاں قائم کی ہیں، جگہ جگہ پر سپورٹس کمپلیکس قائم کیے ہیں تاکہ عوام زیادہ سے زیادہ مصروف رہے۔ بچوں سے لیکر بزرگوں تک کے لیے کوئی نہ کوئی مصروفیت پیدا کی ہے تاکہ عوام جرائم سے دور رہ سکے۔

ہم نے وعدہ کیا تھا کہ تعلیم مفت کردی جائے گی۔ آج ہم اِس قانون پر سختی سے عمل پیرأ ہیں کہ ہر بچہ جو پڑھنے کی عمر میں ہے اُسے سکول میں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی بچہ سکول رجسٹر نہیں تو اُس کے والدین کو سزا دی جاتی ہے!ہر سکول پڑھنے والے بچے کے لیے تعلیم مفت ہے اور اُس کے لیے وظیفہ مقررہے۔ہم نے مساجد اور سکولوں میں ایک interlinkپیدا کیا ہے کہ مساجد میں دین اور حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے اور سکولوں میں دنیاوی !ہمارا دعویٰ ہے کہ جب تک ایک بچہ دین،حدیث، فقہ کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم سے واقف نہیں ہوتا وہ ایک اچھا عالم نہیں بن سکتا!!! صرف دینی تعلیم کبھی ایک اچھا عالم پیدا نہیں کرسکتی!

ہم نے وعدہ کیا تھا کہ بڑھتی ہوئی بیروزگاری پر قابو پایا جائے گا۔ ہم نے اپنے چارہ سالہ قلیل دورِ حکومت میں اِس لعنت پر بھی کافی حدتک قابو پایا ہے۔ بڑے شہروں سے آبادی کو کم کرنے کے لیے ہم نے بلوچستان کے غیرآباد علاقوں میں کارخانے لگا کر انہیں آباد کیاہے ، نئے شہر بسائے ہیں،لاکھوں لوگوں کو روزگارمہیا کیا ہے۔ ہم نے اپنے ملک میں سڑکوں کا ، نکاسی کا نظام درست کیا ہے۔ہمارے ملک میں ہسپتال کا نظام تنزیلی کاشکار تھا، ہم نے اُس پر بھی ایک خاص توجہ دی ہے۔

میرے معزز ہموطنو! اگر میں اپنی حکومت کی اِن کارکردگیوں پر روشنی نہ بھی ڈالتا تو بھی facts and figures اِن کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ ۱۵ اپریل کا دن آپ کے لیے ایک بہت اہم دن ہے۔ ایک نئی صبح جنم لے گی، ایک نئے پیغام کا آغاز ہے، ہمارے پیغام کا آغاز جس میں آپ نے اپنے ووٹ کا صحیح صحیح استعمال کرنا ہے، ابھی ہمیں پاکستان کے لیے بہت کام کرنا ہے، ابھی ہماری منزل بہت دور ہے اور چار سالہ دورِحکومت ہمیں ہماری منزل پر نہیں پہنچا سکتا۔ ابھی بہت محنت کرنا ہے۔ اپنے ووٹ کا صحیح استمال کیجیے اور ہمارا ساتھ دیجیے تاکہ ہم پاکستان کا وہ مقام دلائیں جو کہ اِس کا حق ہے۔یاد رکھیں کہ کوئی ملک اُس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ملک کی حکومت کے ساتھ ساتھ اُس کی عوام مخلص نہ ہو، ماضی ہمارا داغدار تھا،ہماری حکومتیں اور ہماری عوام کبھی اپنے ملک کے لیے مخلص نہیں رہی مگر آج جب بھی یہ ملی نغمہ گونجتا ہے تو میرا من فخر سے جھوم اٹھتا ہے کہ قائداعظم نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا ’تحریکِ پیغامِ عمل‘ نے وہ مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

جیوے جیوے جیوے پاکستان
پاکستان پاکستان جیوے پاکستان
جھیل گئے دکھ جھیلنے والے اب ہے کام ہمارا
ایک رہیں گے ایک رہے گا ایک ہے نام ہمارا
پاکستان۔پاکستان


اتنے میں ایک ماں کی آواز آتی ہے:

ماں کی آواز:

’’سُودے پتر! اور سُودے پتر! اب جلدی سے اُٹھ جاؤ بچہ اورصبح صبح جا کر چاندنی چوک (راولپنڈی کاایک مشہور چوک) پر قبضہ کر لو! اگر تم سے پہلے کو ئی بچہ وہاں پہنچ گیا تو اتنے پیسے نہیں کما سکو گے۔ اُٹھ جا میرا پتر! میں نے گاڑیاں دھونے کا صابن، تولیہ اور پانی کی بالٹی رکھ دی ہے، جا پتر جا کر کچھ پیسے کما لا۔ گھر میں کافی دنوں کا فاقہ ہے۔ اور ہاں پترآج چائے اور ناشتہ نہیں ملے گا، تھوڑا سا دودھ ہے وہ مُنی کے لیے ہے۔ تم میرالال کسی ہوٹل والے کی منت سماجت کر لینا اور ایک کپ چائے اور ایک دو رس سے ناشتہ کرلینا۔ اُٹھ جا میرا لال بڑے لوگوں کی گاڑیاں دھونا پیسے زیادہ ملیں گے………………‘‘

کہیں دور کسی ہوٹل کے ریڈیو پر نورجہاں مرحومہ کے گانے آواز سنائی دی:

گانا:

وہ خواب سہانا ٹوٹ گیا ……. امید گئی ارمان گئے………..

تحریر: مسعودؔ   –  کوپن ہیگن   4 جولائی 2007

Meri Tehreer: Mun-chaley Ka “Man-SHOR”


About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment