Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Meri Tehreer: Basant

Meri Tehreer: Basant

 Meri Tehreer: Basant

بسنت

Meri Tehreer: Basant

دسمبر 2004 میں مشہورِ زمانہ سونامی آیا جس میں لاکھوں انسانوں لقمہ اجل بنے، ہمارے ملک میں عذاب عذاب عذاب کا ڈھول پیٹا گیا اس اس قیامتِ صغریٰ سے سبق سیکھنے کے والویلے کیے گئے، ڈیڑھ ہی ماہ بعد ہمارے ملک میں شان و شوکت سے بسنت منائی گئی، اور خبریں عام ہوئیں کہ ہوٹلوں میں شراب کے پرمٹ ختم ہو گئے، عیاشیاں عروج پر تھیں، اس پر میرا یہ مضمون۔۔۔

سویا ہوا محل

بچپن میں ایک کہانی پڑی تھی جس میں ایک جادوگر اپنے جادو کے بل بوتے پر ایک ہنستے بستے شہر کو سلا دیتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ہمارے ملک کو بھی اسی طرح کسی ظالم جادوگر نے جادوکرکے سلا دیا ہے۔

ہماری قوم بھی اسی طرح کی ایک سوئی ہوئی قوم ہے جس پر غفلت نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ایسی غفلت جس نے ہمیں حقائق سے بہت دور کردیا ہے اور ہم محض جھوٹی خوشیوں پر زندہ ہیں۔ ہمیں اپنے گردونواح میں ہونے والے واقعات سے کوئی دلچسپی نہیں۔

ایک ذرا برابر فکر نہیں ہمیں اپنے ہم وطنوں کی، ہم مذہبوں کی! ہمیں قطعی اِس بات کی پروا نہیں کہ دشمن کون سی چالیں چلنے کے لیے پر تول رہا ہے، ہمارے پاس ان باتوں کے لیے کوئی وقت نہیں کہ ملکی حالات کو سدھارنے کے لیے ہمیں کیا کرناچاہیے، کیسے اقدام کرنے چاہیے۔

ہمیں اپنے سیاسی افق پرامڈتے ہوئے کالے سیاہ بادل بھی پریشان نہیں کرتے۔ ملکی حالات ابتر ہیں اور دن بدن مزید ابتری کا شکار ہوئے جاتے ہیں۔ یہ کیسے سنوریں گے اس بات سے ہمیں بالکل سروکار نہیں بلکہ ہم اسی بات پرخوش ہیں کہ یہ ہمارا کام نہیں۔

گناہوں کی بستی

ابھی سونامی کی ہولناکیاں ختم نہیں ہوئیں اور ہمارے ملک میں بسنت شان وشوکت سے منائی گئی ہے۔

کیا سبق سیکھا ہے ہم نے اتنی بڑی تباہی سے؟ کچھ نہیں! کڑوڑوں رپیہ چند لمحوں کے رنق میلے پربرباد کردیا گیا ہے۔

ایسی فیسٹیول جس کا ہمارے مذہب سے قطعاً کوئی تعلق نہیں اُسے سرکاری سطح پر پزیرائی ہوئی ہے۔

لاہور میں ہوٹلوں کی بکنگ پر لاکھوں روپے لگے ہیں، ہوٹلوں،گیسٹ ہاؤسزاور رہائش گاہوں کی چھتیں کڑوڑوں روپوں میں بک ہوئی ہیں، ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسز کے کرائے عام کراؤں سے تین گناہ زیادہ تک وصول کیے گئے۔ آخر ہماری قوم کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آگیا ہے جو ایسی بیہودہ اور فضول رسم میں برباد کیا گیا ہے۔

شراب کے پرمٹ ہولڈروں کے ایک ماہ کا کوٹہ دو دن میں ختم ہوگیا، تمام چھوٹے بڑے ہوٹلوں سے شراب نایاب ہوگئی۔ جنگ اخبار کے مطابق فی بوتل پرپانچ سو سے ایک ہزار روپے زائدقیمت وصول کی گئی!!!!

اے امتِ رسولؐ کے رکھوالو! کیا شان ہے آپ لوگوں کی!! کیا خوب اپنی آخرت سنوارنے کاذریعہ ڈھونڈ لیا ہے آپ نے! بے خودی اور ضمیر فروشی کی حد ہوتی ہے!

 Meri Tehreer: Basant

عیاشی

اگر لاکھوں روپے کی شرابیں بیچی گئی ہیں تو زنا کتنے لاکھ کا ہوا ہے؟ کس کس بھیانک صورت رکھنے والے انسان نے اپنے نفس کو تسکین دینے کے لیے رات کی سیاہی میں اپنے چہرے کو مکروہ کیا ہے!

کب تک گناہوں کا یہ کھیل مہذب انداز میں کھیلا جائے گا؟ کب تک انا اور تقدیسِ مشرق کے رکھوالے سوئے رہیں گے؟

یہ بات ذہن نشین کر لیں: توبہ کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے، قبل اِس کے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اِس حق سے محروم کردیں، آئیے اپنے راستے کا تعین کریں اور اپنا آخرت کو سنواریں!

ایک کاغذکی پتنگ انسان کو اپنی جانوں سے زیادہ عزیز دکھائی دیتی ہے۔ پتنگیں لوٹتے ہوئے موتیں ہو تی ہیں۔

ہر دکھی پاکستانی کے ضمیر پر ایک ہی سوال ہے۔ اے پاکستان کے رکھوالو! کیا یہی قیمت ہے آپ کے نذدیک آزادی کی کہ آپ کو آنے والے بھیانک طوفان کی کوئی فکر نہیں؟

جس سے بات کرو وہ یہی کہتا ہے کہ آپ enjoyکرو کیوں اپنی جان کو فکروں میں ڈالتے ہو!!

بے حس، بے جان، مردہ لوگو! صرف اتنا بتا دو! دل میں اپنی قوم کا غم رکھنے والا پاکستانی کس اندھیرے کنویں میں ڈوب مرے ؟؟ کہاں وہ امان پائے!

محض وقت برباد کرنے سے کیا حاصل، کون ہے جو تعمیر کی جانب پہلا قدم اٹھائے ؟؟ شاید کوئی نہیں! ہرکوئی قوم کا وقت برباد کرنے میں لگا ہوا ہے۔

میں بھی! بے سُری بانسری بجا کر!!!

مسعود ۷ فروری ۲۰۰۵
نوٹ: اس واقعہ کے آٹھ ماہ بعد پاکستان میں زلزلہ آیا جس میں ہزاروں انسان موت کے گھاٹ اتر گئے! کڑوڑں کا نقصان ہوا مگر اسکے باوجود اس قوم میں ایسے ناسور موجود تھے! جو زلزلے میں بے سہارا لڑکیوں کو اغوا کرنے لگا اور انہیں بد کرداری پر مجبور کرنے لگا!!!

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment