Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Meri Tehreer: Mizah – Betukiyaan

meri-tehreer-mizah-betukiyaan

Meri Tehreer: Mizah – Betukiyaan

بے تکیاں – اردو ادب!

اشعاروغزلیں

اُردو ادب کا نام سنتے ہی کچھ لوگوں کے پیٹ میں مڑوڑ اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں۔! منہ پہ پڑنے والے نقشہ جات بتاتے ہیں کہ موصوف کسی سخت لقوے کی حالت میں ہیں۔! لیکن دراصل انہیں یہی ہوتاہے کہ اب بوریت سے بھرے اشعاروغزلیں سننے کو ملیں گی! اورغضب خدا داسے جن کے واقعی سروں کے اُوپر سے بات گزر جائے گی! وہ لوگ واہ واہ کرتے رہیں گے۔!

لوگ خشک میوہ تو نگل جاتے ہیں! مگر اُردو ادب کا نام سنتے ہی کچیچیاں بھرنا شروع کردیتے ہیں۔! اب صاحب ہمارا ادب ایسا بھی بور نہیں جیسا مِیرا کا رقص، وہ بھی پورے لباس میں!

خیر اُردو ادب کی دیگوں میں کیا پکتا ہے! اِس پر تو ہمیں بحث نہیں مگر اُن دیگوں کو پکانے والے کون ہیں!؟ ہمیں آج صرف انہیں سے سروکار ہے۔! اور ان میں سے اکثر نائیوں ۔ میرا مطلب ہے شاعر حضرات ۔ کا نام سنتے ہی ہماری بے چین روح کو تسکین مل جاتی ہے۔

شعرأ

ایک شاعر ہیں اصغرصاحب،! جب انہیں شاعری کا شوق ہوا تو ان کا پڑوسی ان سے بہت نالاں ہوا،! اصغرؔ صاحب نے بھی انہیں خوب ستایا اور اپنا تخلص رکھا:! اصغر ؔ گونڈوی، ہم ایک مدت تک اِسے پنجابی والا گوانڈی سمجھتے رہے۔! بعد میں پتہ چلا کہ ہماری املا غلت تھی۔!

اسی طرح ایک صاحب تھے جنہوں نے اپنا تخلص پنہاں ؔ رکھا تو ہم اکثر سوچ میں پڑ جاتے کہ اردو میں محاورہ کیوں بنا تھا کہ چھپ کر وار کرنا، پنہاںؔ صاحب چھپ کر شعر اِس لیے کہتے تھے کہ کوئی انہیں انکا حریف رازؔ ؔ مرادآبادی نہ دیکھ لے کہ پنہاں کس زمین میں چھپ کروار او سوری شعرگوئی کر رہے ہیں، ویسے پنہاںؔ کی باتیں راز ہی سمجھیں،سانوں کی….

سرحد پار ایک شاعر تھے کیفیؔ اعظمی۔ جب ہم نے ان کا نام پہلی بار سنا تو لگا کسی کیفے ٹیریا کی کوئی الہڑ سی مٹیار یعنی بارٹینڈر ہوگی مگر جب دیکھا تو کیفی صاحب کا اپناہی قافیہ بگڑاہوا ہے بلکہ اُس طرح جیسے ہمارے ایک قابل شاعر نے اپنا حلیہ بگاڑ لیا جب اپنا تخلص رکھا: خمارؔ ؔ ۔ بعد میں پتہ چلا کہ کہیں خمارؔ کو سکون دینے کے لیے سرُورؔ باربنکوی نے بھی جنم لے لیا ہے!

آزمائش

ہمارے ایک چچا کو بھی شاعری کا جنون ہوا اور کیا جنون تھا کہ ہر شے پر غالبؔ ! غالبؔ چچا نے اپنے تخلص کا بھی خوب (نا)جائز فائدہ اٹھایا اور رمضان کے دنوں میں آموں کے مزے اڑائے، کسی نے سرزنش کی تو بے دھڑک بول پڑتے: کیا کروں یار شیطان غالبؔ ہے!

ایک اور انکل تھے، بے حد جرأت ؔ پسند! بے چارے نابینا تو تھے ہی مگر جرأت دیکھو تو شعر کیا کہتے ہیں:

اُسکی زلف پہ پھبتی ہے شبِ دیجور کی

اب وہ بیچارے دیکھ تو نہیں سکتے تھے کہ کون مسخرہ پاس بیٹھا ہوا ہے، کسی نے قریب سے شعر کو یوں مکمل کیا:

اُسکی زلف پہ پھبتی ہے شبِ دیجور کی

 اندھے کو اندھیرے میں سوجی بڑے دور کی

کچھ میرے جیسے لوگ زبردستی کے شاعر بن جاتے ہیں، اور پڑھے لکھے لوگ پھر اُن کا امتحان لینا شروع کردیتے ہیں۔ ایک انکل نے میرا امتحان لینا شروع کردیا کہ مسعود بتاؤ، میرے اِس مصرع کو آسان اُردو میں: کُشتۂ شوخئ رندانہ نگاہ ہیں ہم بھی، اب مجھ جیسے تین جماعتیں پاس کو اتنی گھمبیر اُردو کی سمجھ کہاں؟ بہت دماغ ماری کے بعد شعر کا ستیاناس کر دیاکچھ یوں:

کُشتۂ شوخئ رِندانہ نگاہ ہیں ہم بھی

 کسی اُلو کی پٹھی کے غم میں تباہ ہیں ہم بھی

(اِس کے بعد اُن انکل نے میرا امتحان نہیں لیا)

علاقۂ غیر؟

شعرأ کرام کی ایک بات بہت قابلِ ستائش ہے! یہ لوگ اپنے علاقے کا خوب پرچار کرتے ہیں، جیسے دہلی کو ایک داغ ؔ لگا، مرادآباد کا جگرؔ تڑپا، سلطان پور کو کسی نے مجروحؔ کیا، اکبرآباد میں ایک شمیم ؔ تھا یا تھی۔

اِسی طرح کھاریاں کے قریب ایک گاؤں ہے دُھنی،وہاں پر ہمارے ایک عزیز کو شاعری کا چسکا ہوا تو انہوں نے اپنا تخلص رکھا، اکبر دُھنی والا، اب ہم سوچ میں پڑ گئے کہ کیا صرف اکبر ہی دُھنی والا ہو سکتا ہے؟ باقی لوگ دُھنی کے بغیر ہیں(سوچیں)۔

مرد شعرأ کی طرح خواتین شعرأ نے بھی شعرگوئی سے منہ ماری کی ہے۔ سننے میں آیا ہے کہ بھوپال کی ایک ثریا تھیں جنہوں نے گانے بجانے کے ساتھ ساتھ کچھ شاعری کو بھی ٹھمکے لگائے ہیں۔ اُن کی شہرت کو دیکھ کر کالی کٹ (جنوبی ہندوستان) میں ایک شیداں پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنا تخلص رکھا: شیداں کالی کٹی! (ہم ٹھہرے کٹر پنجابی، ہمیں کالی کٹی سے جگالی کرنے والی مخلوق ہی یاد آتی ہیں)۔

اب اِن باتوں پر غور کریں تو کون کہتاہے کہ ہمارا ادب مزاح سے خالی ہے۔ شعرأ کا نام ہی سُن کر ہماری بخیہ گریاں شروع ہو جاتی ہیں اور جب اِس سمندر میں غوطے لگائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارا ادب کتناخودکفیل ہے۔ دراصل شاعری دل ودماغ کی چند سوچوں کو مترنم طریقے سے پیش کرنے کا فن ہے جو بلاشبہ ایک عطیہ ہے، ایک سرود ہے ایک نغمہ ہے۔
خوش رہیے۔

Meri Tehreer: Mizah – Betukiyaan

مسعود،۱۹ نومبر۲۰۰۶

Meri Tehreer: Mizah – Betukiyaan

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment