Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Pegham: Message on 14 August

۱۴ اگست کا پیغام ۔ پیغام کے ممبران کے نام

بسم اللہ الرحمن الرحیم
سب تعریف اللہ ہی کے لائق ہے جو مالک ہے ہر ہر شے کا۔

عزیزانِ پیغام!
آج ہمارے پیارے ملک پاکستان کو وجود میں آئے ۵۸ سال مکمل ہوتے ہیں۔اِن اٹھاون سالو ں میں پاکستانی قوم نے کیا پایا کیا کھویا؟ اگر ہم اِس کاتجزیہ کرنے بیٹھیں تودردِ دل کے سوا ہمارے سینے میں کچھ نہیں رہے گا!وہ دل جو خلوص سے بھرے ہیں اُن میں سوائے نفرت کے کچھ باقی نہیں بچے گا،ہم آپس میں ایک دوسرے کے پہلے ہی دشمن بن چکے ہیں ، اب مزید یہ دشمنی تقویت پائے گی۔ تو بہتر یہی ہوگا کہ جو ہوچکا ہے ہمیں اُسے اپنے سینوں میں دفن کرکے اپنے حال کی فکر کرنی چاہیے۔ ماضی ہمارے ہاتھوں سے نکل چکا ہے، ہم نے بہت کچھ کھویا ہے، اب ہم حال ہی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اِسی حال پہ ہم اپنے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں،ایسے مستقبل کی جو ہمارا مستقبل ہوگا، نہ کہ ایسا مستقبل جہاں ہم ہمیشہ کی طرح suffer ہوتے رہیں گے۔ ہماری تقدیر تو لکھی جا چکی ہے مگر تقدیردعاؤں سے بدل سکتی ہے۔ اپنے آپ کو تقدیر کے سہارے پرچھوڑنے سے پہلے کچھ تدبیر کرنا ہمارا فرض ہے اور یہی ایک مقام ہے جہاں پر ہم نے بہت مار کھائی ہے۔ ہمارے ہاتھ ناکارہ ہوتے جارہے ہیں، ہم محنت مزدوری ،مشقت کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ جب ایسا ہوتو قومیں مرجاتی ہیں، ہم بھی اُسی موت کی جانب جارہے ہیں اگر ہم نے خود کو نہ سنبھالاتو!
ہم خود کو کیسے سنبھال سکتے ہیں؟ہم بکھری ہوئی روحیں ہیں ہم کیا کرسکتے ہیں؟ ہماری کون چلنے دے گا؟ ہمارے اختیار ہی میں کیا ہے؟یہ وہ معذرتیں ہیں جو ہم اکثرخود بھی پیش کرتے ہیں اور دوسروں کی زبان سے بھی سنتے ہیں۔بہت حد تک درست بھی ہے،لیکن اگرہم انہیں سوچوں کو لیکر بیٹھے رہے تو ہم واقعی کچھ نہیں کر سکیں گے۔ ہم بکھرے ہوئے ضرور ہیں مگر اپنی اپنی استعداد کے مطابق ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ ہم اپنے گھروں سے شروع کریں تو بہت سے معاشرتی بیماریوں کو ختم کرسکتے ہیں، جب ہرانسان کاایسا ہی جذبہ ہوتو راستے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں۔
عزیزانِ پیغام! میں ایک ناچیزانسان ہوں مگر اپنے دل میں ایک بہت بڑا کام کرنے کا جذبہ رکھتا ہوں۔ میں آپ کو اپنے ساتھ لیکر چلنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنے اِس خوبصورت فورم کے توسط سے کسمپرسی کی زندگی گزارتی ہوئی عوام کے لیے کچھ کریں۔چودہ اگست کا دن ہے اور آج آزادی کا دن ہے! میں پیغام کے ممبران کے لیے آزادی کا تحفہ ایک سوچ کی صورت میں لیکر آیا ہوں جس میں مجھے ایک ایک ممبر کی معاونت کی ضرورت ہے۔میں اپنے ملک کی آزادی پر پیغام کو ایک ایسا پلیٹ فارم بنانے کا اعلان کرتا ہوں جہاں پر ہم دکھی انسانیت کی خدمت کرنے کے لیے کام کریں گے۔ ہم خصوصاً بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اتنی استعداد ضرور رکھتے ہیں کہ ہم اپنی وسعت کے مطابق انسانیت کی خدمت کر سکیں ۔ تو آئیے! پیغام کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیجیے اور انسانیت کی خدمت کرنے کا عزم پیدا کیجیے!ہماری زندگیاں تو بہت حد تک آزاد ہیں، آئیے ان میں بھی آزادی کا شعور پیداکرتے ہیں! پلیٹ فارم ہم نے فراہم کردیا ہے،ساتھ دینا آپ کا کام ہے!!!
والسلام

مسعود

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment