Current Affairs

پاکستانی جمہوریت

پاکستانی جمہوریت
پاکستانی جمہوریت

پاکستانی جمہوریت!

پاکستان کے آئین کے مطابق کسی بھی جمہوری حکومت کو معذول کرنے کے بعد 90 دن کے اندر اندر دوبارہ الیکشن کروانا لازمی ہے! عمران خان کی جائز حکومت پر فوجی شبخون مارنے کے بعد اب کوئی ڈیڑھ سال ہونے کو ہے الیکشن کا نام و نشان تک نہیں! اور اگر الیکشن ہو بھی جائیں تو سب کا سب جھوٹ اور مکروفریب پر مبنی ہو گا کیونکہ پاکستان میں سیاسی اعتبار سے کیا ہوگا اسکا تعین پہلے ہی سے کیا جا چکا ہے!

پاکستان میں حکومت کون بنائے گا؟
اس کا فیصلہ واشنگٹن سے ہو گا۔ حکومت اسی کی ہو گی جو امریکہ اور مغربی طاقتوں کے لیے کھلونا بن کر کھیلنے کو تیار ہو گا۔ انکا غلام ہو گا اور انکے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرے گا۔ اسکی اپنی کوئی سوچ نہیں ہو گی۔ اس کے اندر غیرت نام کی کوئی شے نہیں ہو گی اور پاکستان اسکے لیے فقط دولت کمانے کا ایک آلہ ہو گا۔ اسکے تمامتر فیصلے امریکہ سے پاس ہونگے۔

حکومت کون کون سے کام کریگی؟
اس کا فیصلہ ورلڈ بنک ، آئی ایم ایف کیساتھ ساتھ عرب کریں گے۔ ایک مکمل ٹاسک لسٹ بنائی جائے گی جس کے تحت کٹھ پتلی حکومت کو ایک وقتِ مقررہ کے اندر اندر وہ ٹاسک لسٹ پوری کرنے کا حکم دیا جائے گا۔ اس ٹاسک لسٹ میں پاکستانی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے جو بھی کام ہو گا وہ برائے نام ہو گا۔ زیادہ تر کام وہی ہونگے جس کا فائدہ مغربی طاقتوں کیساتھ ساتھ عربوں کو ہو گا۔ کیونکہ یہی لوگ پاکستان کو ڈالرز دیتے ہیں اور پاکستان کو جب بھی دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہوتا ہے یہی لوگ قرض در قرض دیکر اس ملک کو بچاتے ہیں! یہی لوگ پاکستان کو قرض دیتے ہیں اور پھر قرض اتارنے کے لیے قرض دیتے ہیں۔ اسطرح پاکستانی عوام اگلی کئی سو سال تک قرضوں کے بوجھ تلے دبی رہی گی۔پاکستان میں ترقی مشروط ہو گی! 
اپنی مرضی سے سر نہیں اٹھاسکے گی کیونکہ غلام قومیں سر نہیں اٹھاتیں! اور جب جب اس قوم میں عمران خان جیسا لیڈر پیدا ہو گا، اسکو راستے سے ہٹانے کے لیے شیطانی کارندے موجود ہیں!

ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟
پاکستان میں امریکہ  کی ایک جدید ترین ایمبیسی ہے جس سے پاکستان کی سیاست میں ہونے والی نقل و حرکت پر نظر رکھی جاتی ہے۔ ساتھ ہی امریکہ کی تین ملٹری بیس ہیں جہاں سے پاکستان کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ یہ چاہیں تو براہِ راست پاکستان کے سیاسی ماحول کو کنٹرول کر لیں مگر اس سے وہ عالمی قوانین کی خلاف وزری میں ملوث ہوتے ہیں لہذا اس کام کے لیے مغرب نے، نیٹو نے اور عربوں نے پاکستان آرمی کو پال رکھا ہے۔پاکستان آرمی جب چاہے پاکستان کی سیاست کو متزلزل کر سکتی ہے۔ جب چاہے جس حکومت کو چاہے الٹ کر رکھ سکتے ہیں۔ یہ کام پاکستان آرمی کم وبیش 75 سالوں سے کر رہے ہیں۔ پاکستانی سیاست مکمل طور پر فوج کے پاؤں کی جوتی بنی ہوئی ہے۔ فوج 75 سالوں سے مسلسل جھوٹ بول رہے رہی ہے کہ سیاست میں انکا کوئی عمل دخل نہیں۔ ہر فوجی سپہ سالار یہی کہتے ہوئے یہی کام کرتے چلا جاتا ہے۔

الیکشن میں کس پارٹی کو کتنی سیٹیں دی جانی ہیں، اسکا فیصلہ فوج کریگی۔ کہیں اگر کسی کو برتری حاصل ہونے کا خدشہ ہوا راتوں رات اس کے نتائج کو بدل دیا جائے گا۔ بالکل ایسا 2013 کے الیکشن میں ہوا جب پی ٹی آئی واضح برتری سے جیت رہی تھی راتوں رات اس کے نتائج کو فوج نے سبوتاژ کیا اور نون گینگ کو جتوا دیا۔ پھر دوبارہ 2018 کے الیکشن میں ہوا جب پی ٹی آئی زبردست واضح برتری سے جیت رہی تھی کہ سب آئی ٹی سسٹم ڈاؤن کر دئیے گے اور کئی ایک پولنگ کے رزلٹ بدل دیے گئے۔ فوج کبھی پاکستان میں ایک مکمل خودمختار  حکومت یا حکمران برداشت نہیں کر سکتی ہے۔

فوج پاکستان میں مغربی احکامات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔ اور مغربی احکامات یہ ہیں کہ پاکستان میں کوئی ایسی حکومت نہیں آنی چاہیے جو خوددار ہو، جو اپنے فیصلے خود کرنا چاہتی ہو۔ جو مغرب اور پاکستان فوج کے لیے خطرہ بن سکے۔ ایسی حکمران کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔  اور یہی ہوا!

9 مئی اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ اور مضحکہ خیز بات ہے! اسکو عوام نے بالکل قبول نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسکے بعد ہر اس انسان جسکا تعلق عمران خان سے ہو اس کو عبرت کا نشانہ بنایا گیا اور بنایا جا رہا ہے۔ جو جہاں کے کتے بلوں پلوؤں سے کتابیں لکھوائی جا رہی ہیں ، من پسند کے ٹی وی انٹرویوز دلوائے جا رہے ہیں۔ اور ہر وہ خنزیر حرکت کی جارہی ہے جس سے عوام کے دل و دماغ پر عمران خان کے خلاف نفرت پھیلائی جا سکے مگر انکی ہر حرکت انکے اپنے ہی خلاف جا رہی ہے۔ کوئی بھی حربہ کامیاب ہوتا ہوا نظر نہیں ہو تا نظر آ رہا ہے۔

جھوٹ کبھی پروان نہیں چڑھتا! 

1970 میں بنگال میں جو کچھ کیا وہ بھی جھوٹ تھا، جو کچھ آج ہو رہا ہے وہ بھی جھوٹ ہے! پاکستان میں جمہوریت ایک مسلسل جھوٹ ہے! دراصل پاکستان فوج کے قبضے میں ہے اور فوج ہی مغربی احکامات پر ملک چلا رہی ہے!


تحریر: مسعود


SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW