Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Doghla’pan

Doghla'pan

Doghla’pan

دوغلا پن

پس منظر

میں ایک فورم سے وابستہ تھا، جہاں پاکستانیت کا پرچار کیا جاتا تھا، مگر مجال ہے پاکستان کے مسائل پر ایک بھی بات ہوتی ہو، میں نے سچ لکھنا شروع کیا، بین ہو گیا، پھر جب بحال ہوا تو دیکھا کہ ایک انڈین ولن کی موت پو بڑے بڑے تھریڈ داغے گئے مگر اس سے چند ہی دن بعد بلوچستان میں ایک انتہائی غؒیظ واقع ہوا جس پر اس فورم پر خبر تک نہ لگائی گئی، اس پر میرا خون کھول اٹھا

میں نے سوچا تھا کہ اپنے قلم کو خاموش کرلوں گا اور ہر بات کو نظر انداز کردوں گا مگر میرا قلم خاموش نہیں رہ سکتا!

حالاتِ حاضرہ سیکشن میں امریش پوری کی موت کی خبر دیکھ کر بہت افسوس ہوا! اِس بات پر نہیں کہ وہ فوت ہوگیا ہے۔ بلکہ اِس بات پر کہ ہمارے ملک کے لیے اُس کا فوت ہوناکئی درجہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔    اُس کے لیے فورم پر ایک مکمل تھریڈداغا گیا۔ جبکہ بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کسی توجہ کے قابل نہیں! یہاں تک کے بریکنگ نیوز میں بھی یہ خبر جگہ نہیں پاسکی!

بلوچستان

بہت سے لوگ تو یہ بھی نہیں جانتے ہونگے کہ بلوچستان میں ہو کیا رہا ہے؟ (میڈیا زندہ باد)۔ بلوچستان کی حالت خطرناک ہوتی جارہی ہے۔ حکومت نے سوئی گیس پائپ لائنوں پر مسلسل حملوں کے نتیجے میں تین ہزار سے زیادہ فوجی جوانوں کو اُس علاقے میں ہیلی کاپٹروں سمیت تعینات کیا ہے۔ بلوچیوں کو شدید وارننگ دی ہے کہ اگر وہ ان حملوں سے باز نہ آئے تو سخت سے سخت کاروائی کی جائے گی۔ “فورم ھٰذا” کے لیے بہت معمولی خبر!

اب یقیناً پڑھنے والے یہ جاننا چاہیں گے کہ یہ حملے کیوں ہو رہے؟ جس سے گیس کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔ اور بہت سی انڈسٹریز بھی بند ہوسکتی ہیں۔ ماضی میں بھی ایسے واقعات وہاں ہوتے رہے ہیں مگر اِس بار وجہ کیا ہے؟

واقعہ

سوئی کے علاقے میں ایک لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد کو دو اور تین جنوری کے درمیانی شب زنابالجبر کا نشانہ بنا گیا تھا۔ نشانہ بنانے والے ابھی تک گرفتار نہیں ہوسکے۔ کہنے والوں کے مطابق یہ حرکت ڈیفنس سیکیورٹی کے ایک آفیسر اور دو جوانوں نے کی ہے۔ یہ شاید کوئی اتنا بڑا واقعہ نہ ہو (!) ایسے کئی ایک واقعات ہمارے مہذب ملک میں ہوتے رہتے ہیں جہاں پر ہر قصور عورت کا تصور کیا جاتا ہے۔ ایک بار پھر یہ واقعہ اِس سوچ کے منہ پر ایک طمانچہ ہے کہ اگر عورتیں گھروں میں بیٹھ جائیں تو ایسے واقعات نہ ہوں۔ وہ ایک ڈاکٹر ہے اور اُس کا تقدس ہر شہری پر لازم ہے مگر جب سیکیورٹی کے باعزت مرد اِس قسم کی گھٹیاحرکت کریں گے تو مجھے شاید بلوچیوں کے ردِّ عمل کا افسوس نہیں، اور شاید ہے بھی!

دوغلاپن
مگر اِس سے زیادہ بڑا افسوس مجھے اِس بات کا ہوتا ہے کہ سونامی کی آفت میں مرنے والوں کا سوگ منایا جارہا ہے مگر اپنے گریبان میں موجود غلاظت کو صاف کرنے کی کوشش نہیں کی جارہی۔ ہندوستانیوں کو میری قوم اپنا دشمن گرادنتی ہے مگر ایک ہندو کے مرنے پر سراپا غم بن گئے ہیں۔

کیا یہ ایک دوغلا پن نہیں؟؟؟؟

Doghla’pan

مسعودؔ (۱۳ جنوری ۲۰۰۵)

Doghla’pan

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment