Current Affairs

ہمارے ہیروز

ہمارے ہیروز

ہمارے ہیروز

آج T20 Cricket World Cup کا فائنل نیوزیلینڈ اور آسٹریلیا کے مابین کھیلا جائے گا! 

آسٹریلیا نے سمی فائنل میں پاکستان کو ایک مشکل میچ کے بعد پانچ وکٹوں سے شکست دی! ایک ایسے وقت پر جب ابھی پاکستان کی فتح کے چانسز زیادہ تھے اور اٹھارویں اوور میں شاھین شاہ آفریدی کی بال پر حسن علی نے ویڈ کا کیچ چھوڑ دیا۔ جسکے بعد ویڈ نے یکے بعد دیگرے چھکے لگا کر آسٹریلیا کو کامیابی دلادی۔ ہمارے ہیروز

ہمارے ہیروز
Hasan Ali dropped an important catch.

حسن علی وہ آسان کیچ پکڑ لیتا تو کیا ہوتا؟ یہ کسی کو نہیں معلوم! ہوسکتا ہے آفریدی کی اگلی بال ایک اور وکٹ لے لیتی ۔۔۔ کسی کوکچھ علم نہیں! حقیقت یہ ہے کہ ایک آسان کیچ چھوڑنے سے میچ پر بہت اہم اثر پڑا!

میچ کے بعد سوشل میڈیا پر حسن علی کے خلاف محاذ کھل گیا جبکہ دوسرے جانب حسن علی کی حمایت میں دھڑادھڑ تعریفی پوسٹیں اور ٹویٹس آنی شروع ہو گئیں۔ حاصل کلام ان تعریفی ٹویٹس کا یہ تھا کہ حسن علی نے ماضی میں کئی ایک میچز میں بہت عمدہ کھیل پیش کیا اور کئی بار پاکستان کو فتح دلائی! لہٰذا وہ ہمارا قومی ہیرو ہے اسے کچھ مت کہا جائے! 

سچ یہ ہے کہ فقط سمی فائنل ہی میں نہیں ورلڈکپ کے دوسرے کئی میچز میں حسن علی کی پرفارمنس کچھ اچھی نہیں رہی اور پاکستانی بولنگ کا سب سے کمزور پہلو رہا ہے! ہمارے ہیروز

بہرحال  اس بات کو رہنے دیتے ہیں اور بات کرتے ہیں ہیروازم پر! ہمارے ہیروز ہمارے ہیروز ہمارے ہیروز 

ایک تو صاحب ہماری قوم کو ہیروازم لے ڈوبی ہے! ہم نے شخصیات کو ایسے ایسے ہیرو بنا دیا ہے کہ انکے برخلاف بات سننا ہمیں گوارا ہی نہیں ہوتا چاہے کچھ بھی ہو جائے!

ایک صاحب نے پل بنوادئیے، موٹرویز بنوادئیے – بس جی صاحب وہ صاحب اس قوم کے لیے ایسا ناقابلِ شخصت ہیرو بن گیا کہ وہ غبن کرے جائز! وہ اس قوم کے پیسے پر ڈاکے ڈال کر پیسہ یورپ لے جائے  جائز! وہ کمیشنیں کھائے جائز! وہ آف شور دولت خانے قائم کرے جائز!

ایک صاحب نے ورلڈکپ جیت لیا – بس جی صاحب وہ صاحب ہماری قوم کے لیے ناقابلِ شکست ہیرو ہے! ایسا ہیرو جسکے خلاف کوئی بات نہیں کہی جاسکتی ! 

بلاشبہ دنیا بھر میں اسپورٹس کے شعبے میں کارہائے نمایاں دکھانے والے ہیرو ہوتے ہیں اور ہونا بھی چاہیے مگر یہ کیا کہ قوم اس قدر کند ذہن بن جائے کہ ان کی خامیوں کا احتساب نہ کرے! لیونل میسی سے بڑا فٹبال کے دنیا کا ہیرو کون ہو گا؟ مگر اس پر ہمیشہ اور برحق تنقیدہوتی رہی ہے کہ اس نے اپنی قومی ٹیم ارجنٹائن کے لیے کوئی ایسا کارنامہ سرانجام نہیں دیا جس سے ارجنٹائن کوئی بڑا ٹورنامنٹ جیت پایا ہو۔۔۔ بالآ خر ساؤتھ امریکن چمئن شپ جیتنے میں کامیاب ہوا!

بلاشبہ حسن علی کا کیچ چھوڑنا پاکستان کے لیے بہت مہنگا رہا ہے! مگر اس طرح  پاکستانی سپراسٹار ماضی میں اکثر کرتے رہے ہیں۔ عین ایسے موقع پر جب آپ کو یقین ہو جائے کہ اب فتح ہماری ہے ہمارے ہیروز ایسی حرکات کر دیتے رہے ہیں کہ قوم کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا۔۔۔ اسکے باوجود یہ ہمارے ہیروز رہے ہیں۔ بھلے یہ منشتیات استعمال کرتے رہے ہوں! بھلے یہ اپنی ہی شکست پر سٹے کھیلتے رہے ہوں! بھلے یہ جان بوجھ کر نو بالز کرانے کا ریکارڈز قائم کرتے رہے ہوں۔۔۔ ہیں پھر بھی ہیروز!

ایسے ہی ایک ہیرو کے ساتھ ایک واقعہ کچھ دن پہلے سرکاری ٹی وی کے اسپورٹس چینل پر پیش آیا جب ایک پروگرام کے ہوسٹ نعمان نے ماضی کے سپراسٹار شعیب اختر کو لائیو پروگرام میں اپنے پروگرام سے نکل جانے کو کہا! اسکے بعد سوشل میڈیا پر ایسا ہی ہیروازم کا بازارگرم ہو گیا!

پچھلے کچھ عرصے سے مولوی خادم حسین کے لونڈے کے چاہنے والوں نے ملک بھر میں ایک ہنگامِ بدتمیزی پھیلایا کہ کوئی بھی مہذب قوم پاکستان سے بات کرنا گوارا نہ کرے! ایسی جاھلیت دیکھکر کوئی بھی ذی عقل یہ سمجھنے سے قاصر نہیں رہ سکتا ہے کہ اس قوم کو ازم                (ism)            لے ڈوبے ہیں!

کوئی دین کے نام پر ملاازم کا شکار ہے! کوئی سیاست کے نام پر بدمعاشوں، بدکماشوں اور کرپٹ ترین امیرزادوں کی سیاست-ازم کا شکار ہے! کوئی آرام دہ پیسہ لیکر کر صحافی-ازم کا شکار ہے اور کوئی اسپورٹسمین-ازم کا شکار ہے!

علم بہت بڑی طاقت ہے! 

علم قوموں کو شعور دیتا ہے کہ کوئی کن ٹٹا سیاستدان اگر کہیں کو سڑک یا پل بنوادے تو یہ اسکا کسی پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ اس ذمے داری میں آتا ہے جو یہ قوم اسے سونپتی ہے! بلکہ مہذب قوموں میں سڑکیں بنوانا پل بنوانا کسی سیاستدان کا کام ہے ہی نہیں بلکہ یہ ایک ریاستی ادارے کی ذمے داری ہوتی ہے! مگر ہمارے ہاں کے کرپٹ ترین سیاستدان اداروں کو غیر فعال اسی لیے کرتے ہیں کہ وہ اس جاھل قوم کے کندذہن پر اپنی سخاوت کے مہرلگا سکیں اور یہ قوم ان کو اپنا قوم ہیرو بنا لے! 

جب کوئی سیاستدان ٹائلٹوں پر اپنی تصویر لگا کر اپنی سخاوت کی مشہوری کرے تو سمجھ لیجیے کہ وہ سیاستدان اور اسکو سراہنے والی قوم ذہنی شعور کی کس بلندی یا پستی پر ہے!!!!

Hasan Ali Shaoib Akther Pakistan


بقلم:  مسعودؔ

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

November 2021
MTWTFSS
1234567
891011121314
15161718192021
22232425262728
2930 

PG Special

Pegham

FREE
VIEW