Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Meri Tehreer: Aaj

Meri Tehreer: Aaj

Meri Tehreer: Aaj

“آج”

آج

…….. ہم  “آج” جس مقام پر کھڑے ہیں ہماری تاریخ اِس بات کی گواہ ہے! کہ ہم ہمیشہ اُسی “آج” پر ہی کھڑے رہے تھے اور ہیں۔

ہماری تاریخ میں گنتی کے چند گنے چنے حکمراں یا قائد تھے! جو یہ سوچتے کہ ہمیں ’’کل‘‘ کو کہاں ہونا چاہیے۔

’آج‘ ہی کو درست کرنے کے لیے ہر دور کے حکمراں اپنی اپنی حکومتوں توسیع دینے! دوسرے مسلم حکمراں کو نقصان پہنچانے پر تلے رہتے تھے۔

کبھی دو حکمراں مل کر یہ سوچتے کہ ہمیں اِس ’آج ‘ سے نکل کر یہ سوچنا چاہیے! کہ ہمیں آج سے پچاس سال، سو سال بعدکہاں ہونا چاہیے؟ !اور اِس کو حاصل کرنے کے لیے کیا کچھ کرنا چاہیے؟! تو شاید ہماری تاریخ کچھ اور ہوتی مگر یہ سوچ صرف کفارکوہی آتی ہے! اور اِسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری تاریخ نے ہمیشہ ایسے حکمران پیداکیے ہیں جو اپنی حکومت پر سب کچھ قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا کرتے تھے۔

اکبرِ اعظم اِس کا منہ بولتا ثبوت ہے !کہ اُس حکمران نے اپنی حکومت کو عروج دینے کے لیے  !اور ہندوستان کے ایک وسیع رقبے پر پھیلی ہوئی ہندو عوام کو خوش کرنے کے لیے اسلامی عقائد میں ہندی اور نصرانی سوچ کو جذب کرنے کی کوشش کی! اور ’دینِ الہی‘ کا اجراح کیا!  اکبرِاعظم ایک بہت جلیل القدر بادشاہ تھا، مگر اس نے اسلام اور مسلمانوں کو عروج دینے کی بجائے اپنے تخت کو توازن بخشا۔

تخت و سطوت کے لیے مسلمان بادشاہوں نے اپنے سگے بھائیوں کی آنکھیں نکلوایں،! انکے قتل کرائے، سازشیں کی فساد کرائے، قتل و غارات کرائی مگر  کس لیے؟ صرف “آج” کے لیے؟

Meri Tehreer: Aaj

حکمران

آج بھی جو کچھ ہو رہا ہے یہ اُسی تربیت کا نتیجہ ہے! جس میں ہم اور ہمارے حکمران پل کر بڑے ہوئے ہیں۔! انہیں بھی اپنی اپنی حکومتوں اور اقتدار کی اُسی طرح ہوس اور لالچ ہے جیسے ہمارے آباؤ اجداد کو ہواکرتی تھی،! کل بھی اہلِ اسلام اپنے ضمیر بیچا کرتے تھے اور آج بھی!

شاہ فہد فوت ہوچکے ہیں۔! اللہ انکی مغفرت فرمائیں، کیا یہ یا انکے اباؤ اجداد یا انکی موجودہ نسلیں خود کو پاسبانِ حرمین شریفین کہلانے کے حق دار ہیں؟ !یہ وہی خاندان ہے جس نے انگریزوں کو اپنے ملک کے وسائل کو نکالنے اور اُسے اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کی کھلی اجازت دی! اور خود اُس تیل سے ملنے والی دولت کو عیاشی کے اڈوں پر صرف کرنا شروع کردیا!

انگریز نے جب محسوس کیا کہ عرب کل کے سوچ رہے ہیں! تو انہوں نے عربوں میں پھوٹ ڈلوائی اور متحدہ عرب امارات تشکیل دلوا کے عربوں کے ایک طبقے کو اس سوچ میں محدود کر دیا کہ تمہارا جو کچھ ہے! “آج” ہے اگر کل کی سوچ سوچی تو تمہیں تخت سے تاراج کر دیا جائے! لہذا وہ عرب مسلمانوں کے عروج کی سوچ سوچنے کی بجائے اپنے محلوں کی فکر میں لگ گئے۔

فلک بوس اعمارتوں کی تعمیر میں لگ گئے،! زیرِ سمندر قحبہ خانے بنانے میں لگ گئے، صحرواؤں میں برف جمانے میں لگ گئے،! ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے لیے انگریزوں کوے ٹکے ٹکے کے فٹبال کلب بیش قیمت خرید کر عیاشیوں میں لگ گئے،! ان میں کہیں کوئی ایک ایسی یونیورسٹی بتادیں جس میں مسلم سائنسدان پیدا کیے ہوں؟ !جس نے جدید اسلحے کے پروجیکٹ لگائے ہوں؟ جس نے علم کو اگلی سطح پر عروج دیا ہو؟

Meri Tehreer: Aaj

نیل کے ساحل سے لیکر

کاشغر سے لیکر نیل تک مسلم ممالک نہ کبھی ایک ہوئے تھے اور نہ ہوسکتے ہیں۔

اِس کی بنیادی وجہ وہی ہوس پرستیاں اور تن آسانیاں ہیں !جو ہماری رگوں میں خون کی طرح گردش کرتی ہیں۔ !سکوں کی جھنکار پر ہمارے ضمیر یوں ناچنا شروع ہوجاتے ہیں جیسے کوئی طوائف! ہر حبِ وطنی، حبِ اسلام دفن ہوجاتی ہے۔! غلامی کی زنجیریں تو ہم کب کی پہن چکے ہیں۔

اب اگر کوئی ایکا دکا سر اٹھاتا ہے تو وہ اِسی لیے کچل دیا جاتا ہے کہ کوئی کام کسی سوچ، کسی پلاننگ کے تحت نہیں ہوتا۔

ہماری آذانوں میں تاثیر نہیں رہی، مسجدیں چیختی رہ جاتی ہیں نمازی نہیں آتے کہ ہمارے ایمان ڈگمگاتے ہیں۔! “آج” کا ملا فسادی ہے! ملاؤں کی باتوں میں فساد  ہے فتنہ ہے،! برین واش کر کے جوانانِ اسلام کو برباد کیا جا رہا ہے، اسلام کم مولوی ازم پھیلایا جا رہا ہے۔

عقل اور شعور کی بات کوئی کرے تو وہ کافر ہے، وہابی ہے، قادیانی ہے،!  وہ مولوی جن کے زبانیں گالی آلود ہیں وہ فتوے دے رہے ہیں،! یا سنتی طریقے سے کھیرا کاٹنے کا سبق دے رہے ہیں۔۔

Meri Tehreer: Aaj

ہنوز وقت ہے!

ہماری حالت ابھی اتنی نہیں بگڑی کہ اسے سنبھالا نہ دیا جاسکے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کون دے گا؟ کسے رہنما کرے کوئی؟

ہم مسلمان کفار کے ہاتھوں تباہ کبھی نہیں ہوئے !ہمیں اپنوں نے ہی مارا ہے۔ ہماری قوموں میں دردرکھنے والے بھی موجود ہیں! مگر وہ سب بکھرے ہوئے ہیں، جب تک ہم متحد نہیں ہوتے ایک اور صرف ایک لیڈر کے ہاتھ پر لبیک نہیں کہتے، !ہمیں ذلیل و رسوا ہی رہیں گے۔

میں اِس بات کے حق میں ہوں کہ ایک انقلاب لانے کی ضرورت ہے اور انقلاب  میں بھی لا سکتا ہوں،آپ بھی لا سکتے ہیں ہم سب لا سکتے ہیں۔

ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہم ایسے باتیں پڑھ کر مزید منتشر نہ ہوجائیں کہ پہلے کون سا کچھ ہوا ہے جو اب ہوگا؟! اسی سوچ نے ہمیں تباہ کیا ہے اور یہی سوچ ہمیں تباہ کردے گی۔! ایک دیہ جلتا ہے تو کئی ایک دئیے جلتے ہیں، آپ ہی اِس دئیے کو روشن کیجیے اور میں آپ کے ساتھ ہوں!

انشااللہ وہ دن دور نہیں جب ہمیں وہ لیڈر ملے گا جو ہمارا راہبر ہوگا!

بقلم: مسعود

Where we stand today, Muslim World Today, Muslim issues, Why Muslims are targeted.

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment