Meri Tehreerein Politics Shab-o-Roz

Ik Arz Hai Hukaam-e-Bala Sey

Pakistan: Ik Arz Hai Hukaam-e-Bala Sey

Ik Arz Hai Hukaam-e-Bala Sey

اک عرض ہے حکامِ بالا سے

۶۳۶ کا واقعہ ہے۔

قیصرِ روم نے مسلمانوں کو شام میں فیصلہ کن شکست دینے کے لئے! ڈیڑھ لاکھ فوج بھیج دی۔ مسلمانوں نے اپنے سے چار گنا زیادہ فوج کا مقابلہ کرنے کے لئے !ضروری سمجھا کہ دمشق کو چھوڑ دیا جائے۔! ابو عبیدہؓ اور خالدؓبن ولید نے کچھ ہی دن پہلے رومیوں کو شکست دے کر دمشق کو فتح کیا تھا۔! انہوں نے دمشق کے ہر شہری سے اِس شرط پر جزیہ وصول کیا تھا! کہ اُن کی حفاظت اور ضروریاتِ زندگی کے ذمہ دار مسلمان ہوں گے۔! لیکن مسلمانوں کو جنگی ضرورت کے تحت دمشق چھوڑنا پڑا۔

انہوں نے ہر شہری کو اُس سے وصول کیا ہوا جزیہ واپس کردیا۔! اہلِ دمشق مسلمانوں کے سلوک سے اتنے متاثر تھے! کہ وہ جزیہ واپس نہیں لے رہے تھے۔

’’ہم نے جزیہ اِس شرط پر لیا تھا! کہ تمہاری حفاظت اور ضروریاتِ زندگی کے ذمہ دار ہم ہونگے‘‘! ابوعبیدہؓ نے انہیں کہا۔ ’’ہم یہ شرطیں پوری نہیں کر سکتے کیونکہ ہم جارہے ہیں‘‘۔! انہوں نے جزیہ واپس کردیا۔

ابوعبیدہؓ اور خالدؓبن ولید اُسی اسلام کے سپہ سالار تھے! جس اسلام کے چرچے گزشہ سالہاسال سے موجودہ امتِ مسلمہ میں ہورہے ہیں۔! مگر آج ہمارے سپہ سالار جو ہربات اسلام سے شروع کرتے اور اسلام پر ہی ختم کرتے ہیں!، اہلِ پاکستان سے جزیہ وصول کرتے چلے جارہے ہیں! اور اِس کے عوض انہیں تحفظ نہیں دیتے۔

اب ذرا اپنے ملک میں جرائم کی کیفیت دیکھ لیجیے۔

کوئی دن ایسا نہیں جاتا جس دن اخباروں میں! یہ خبر نہ ہوکہ ڈاکو دن دیہاڑے ایک گھر میں داخل ہوگئے !اور گھر والوں کو ریوالور دیکھا کر زیورات اور نقدی لے گئے، کسی نے مزاحمت کی اسے گولی ماردی گئی ۔! بنک سے کوئی اپنی جمع پونجی لے کر نکلے تو اُسے سرِ عام لوٹ لیا جائے ،! ایک ۱۵ لاکھ کی گاڑی کے پیچھے انسان کو قتل کردیا ۔

ایسی ’دلیرانہ‘ وارداتیں روز مرہ کا معمول بن گئی ہیں، !چلتی بسوں ،ویگنوں، فلائنگ کوچز کو سرعام لوٹ لیا جاتا ہے۔!بھرے بازار میں ہجوم سے سامنے گاڑی رکتی ہے ،دوتین آدمی کلاشنکوفیں لیے نکلتے ہیں اور لڑکیوں کوجبراً اغواکرلیا جاتا ہے،! تاوان وصول کیے جاتے ہیں، عزتیں تارتارکی جاتی ہیں۔!ہر انسان اپنی عزت اور ناموس کی فکر میں پریشان نظرآتاہے، ابتری کی بد ترین مثال، کالجز، یونیورسٹیز میں گناہوں کے بازار گرم ہیں۔

قتل تو ہمارے ہاں یوں ہوتے ہیں گویا کسی نے مکھی ماردی ہو،! بے کفن لاشیں بے یارومددگار پڑی ہیں۔! قاتل سرعام دندناتے پھرتے ہیں اور پولیس! لاحول والاقوۃٰ!پولیس کو تو اکثر جرائم میں پشت پناہی کرتے پایا گیا ہے۔! پولیس تو تحفظ ہی اُسی کو دیتی ہیں جو ظالم ہو،جابر ہو۔! اگر کسی کو پکڑ بھی لے تو رشوت لے کر کیس ختم کرادیتی ہے۔
بے چارہ عام انسان کدھرجائے؟

ضروریاتِ زندگی کی چیزوں کی یہ کیفیت ہے! کہ دکاندار اپنی اپنی مرضی سے قیمتیں لگاتے ہیں، قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرتی نظرآتی ہیں،! چینی، دودھ ،گوشت تو ایک طرف دالیں بھی اتنی مہنگی ہیں! کہ عام آدمی تو سوچ کرخریدتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی حالت کسی کباڑخانے سے اچھی نظر نہیں آتی علاج بھی پیسہ ہوتو ملتا ہے،!تعلیم کا نظام اِس قدر خستہ ہے کہ ایک بی اے پاس کی تعلیم سے مایوسی ہوتی ہے….

کس کس محرومی کا ذکرکیا جائے؟

ہماری محرومیوں کی لسٹ بہت لمبی ہے۔! اگر تفصیل لکھنے بیٹھوں تو شاید پورا پیغام محرومیوں کے نام ہو جائے،۔ عرض صرف یہ ہے کہ حکمرانِ بالا صرف اورصرف اپنے گھربھرنے ، کنبہ پروری کرنے، اور انسانیت کواذیتیں دینے کے کچھ نہیں کرتے۔ انصاف نام کی کوشے موجود ہی نہیں، اگر ہے تو محض کتابی صورت میں یا پھر پیسہ والے کے تحفظ کے لیے۔

جنابِ والا ہمارا سب سے پہلا حق دو وقت کے روٹی ہے اور بنیادی تعلیم و تربیت ہے۔ ہم تعلیم پاکر اپنا حق نہیں مانگیں گے بلکہ اپنے فرائض بھی پورے کریں گے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ہمارے ملک کے بجٹ کا ۷۰ فیصد حصہ دفاع کی نظرکردیاجاتا ہے؟ آپ عوام سے جزیہ (ٹیکس) لیں ضرور لیں،مگر اُن کڑوڑوں روپوں میں جو حکمرانِ بالا آپس میں خردبردکرلیتے ہیں، اُن میں کچھ تو بیچاری غریب عوام پر بھی خرچ کردیں تاکہ تاریخ میں آپ بھی خالدؓبن ولید اور ابوعبیدہؓ جیسے سپہ سالار کی فہرست میں آسکیں!

مسعودؔ ۲۸ اگست ۲۰۰۵

Pakistan: Ik Arz Hai Hukaam-e-Bala Sey

 

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.