Current Affairs Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Meri Tehreer: Diya Jalaey Rakhna

Meri Tehreer: Diya Jalaey Rakhna

Meri Tehreer: Diya Jalaey Rakhna

.دِیا جلائے رکھنا

طعنہ

’’ہمیشہ جلی کٹی سنانے کے بجا ئے کبھی امید کی کرن بھی دکھانی چاہیے‘‘

اِن الفاظ  کا طعنہ مجھے پیغام کے ایک ممبر نے دیا!

میں نے  ان الفاظ  کو اپنی ذات پر آزمانے کے لیے میں نے سوچا کہ اِمسال کی چھوٹیاں پاکستان گزاری جائیں اور حالات کو خود پر پرکھا جائے۔!

اپنی آنکھوں سے دیکھا جائے  کہ وہ کون سی امید ہے، جس کی کرنیں مجھے اپنے پڑھنے والوں کو دکھانی چاہیے۔!

یہی سوچ لے کر میں نے ۴ جولائی ۲۰۰۹ کو اپنا رختِ سفر باندھا اور راولپنڈی سدھارا۔!

اسلام آباد ائرپورٹ پر اُس سماج سے پالا پڑا جس سے مجھے بذاتِ خود شدید نفرت ہے!

میرا luggage کوپن ہیگن ائر پورٹ پر ہی رہ گیا۔!! مجھے اِس کی شکایت اسلام آباد ائرپورٹ پر لکھوانی تھی۔! اسلام آباد ائر پورٹ پر کسی کو خبر ہی نہیں تھی کہ شکایت لکھنے والا عملہ کونسا ہے اور کہاں ہے ایک صاحب سے علم ہوا کہ ایک صاحب آئیں گے اور شکایات لکھیں گے۔!

اب یہ صاحب کب آتے ہیں کسی کو کچھ علم نہیں! وہ صاحب اپنی مرضی کے مالک ہیں جب ’موڈ‘ کِیاآئے، جب موڈ نہ کیا نہیں آئے!

عوام کی خدمت کے لیے کیاعالیشان انتظام ہے۔! کوئی ایک گھنٹہ انتظار کے بعد اُنکا ظہور ہوا اور ایسے جیسے ایک زبردست بھگڈر مچ گئی۔!

دائیں بائیں آگے پیچھے سے لوگو ں کا ایک جھرمٹ ہوگیا کہ پہلے ہماری شکایت درج کی جائے۔! کوئی اصول، کوئی ضابطہ، کوئی قانون کچھ بھی نہیں۔

خیر اللہ اللہ کر کے شکایت لکھوائی۔! میرا luggage مجھے ایک ہفتے بعد ملا اور وہ بھی کھلا ہوا! 🙂

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment