Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Meri Tehreer: Bolo Ji Tum Kya Kya Khareedo Gey

بولو جی تم کیا کیا خریدو گے

Meri Tehreer: Bolo Ji Tum Kya Kya Khareedo Gey

ایک ہال پر میری نظر پڑتی ہے۔ میں اُس سمت چل دیتا ہوں۔ اندر بہت بڑی محفل لگی ہے، کوئی بڑا ٹیلیوژن ادارہ ایک فنکشن کروارہا ہے۔

اسٹیج پر فنکار آتے ہیں ، اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں اور پردے کے پیچھے غائب ہو جاتے ہیں۔

مگر گائیگی کے پہلے انداز میں اور اب کے انداز میں بہت فرق ہے۔ اب تو ہر اسٹیپ پر، ہر اسٹیج پر، ہر ویڈیو میں نیم برہنہ لڑکیوں کا ناچ لازمی ہے، ورنہ گانے میں کشش نہیں رہتی۔

اسٹیج پر بھی بہت سے لڑکیاں اور لڑکے گائیک کے ساتھ اپنے اپنے رقص کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ میری نظر حاضرین پر پڑتی ہے۔

چاروں طرف لڑکے اور لڑکیاں اپنی اپنی سیٹوں پر میوزک کی لے پر اپنے اپنے جسموں کو لہرارہے ہیں۔

کبھی یوں سرِ عام ناچنا کنجروں کا کام سمجھا جاتا تھا، آج معزز گھروں کے چشم وچراغ سرِعام محورقص نظر آتے ہیں۔

میڈیا کی آزادی نے شریف زادیوں کو گھروں کی چار دیواریوں سے نکال کر ٹی وی شوز میں لا کر نچوادیا ہے۔

اسٹیج پر اور فلموں میں عورت ناچے تو وہ طوائف، ٹی وی شوز میں اور ڈراموں میں عورت ناچے تو وہ فن کی خدمت کرنے والی شریف زادی!

واہ! – میں اسی سوچ میں تھا کہ کیا اب کنجروں کا کام شریف گھروں میں ہونے لگا ہے کہ مجھے اپنے کندھے پر ایک ہاتھ محسوس ہوا،

پیچھے مڑکردیکھا تو ایک بزرگ کھڑے مجھے دیکھ کر مسکرارہے تھےگویا انہوں نے میری سوچیں پڑھ لی ہوں۔

اُن کی مسکراہٹ مجھے ایک عجیب پیغام دے رہی تھی، جیسا وہ کہہ رہے ہوں کہ پیسہ ہر تو سب کو نچایا جاسکتا ہے – کیا طوائف کیا شریف زادی!

بولوجی تم کیا کیا خریدو گے؟؟


About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment