Current Affairs Humara Moashra

Mubahisa: Humara Moashra

Mubahisa: Humara Moashra

Mubahisa: Humara Moashra

مباحثہ۔۔۔ ہمارا معاشرہ

معاشرہ

معاشرے کی تعریف کچھ یوں کی جاتی ہے:
’’کثیر التعداد بنی نوع انسان کی وہ جماعتی زندگی جس میں ہرفرد کو رہنے سہنے اور اپنی ترقی، حصول مقصد اور فلاح و بقا کے لیے دوسروں سے سابقہ پڑتا ہے اور جس ماحول سے کسی فرد بشر کو مفر نہیں، معاشرہ کہلاتاہے ۔ اِس میں فردِ واحد اپنی اپنی جگہ اسی گروہ ،جماعت یا معاشرہ کا یاک جزو اور حصہ ہوتا ہے کیونکہ اسے اپنی ضروریاتِ زندگی کے لیے دوسرے لوگوںیعنی معاشرے سے وابستہ رہنا پڑتا ہے۔ چنانچہ معاشرہ قدرت کا تشکیل کردہ ہوتا ہے۔ وہ کسی خاص گروہ کے کسی محدود مقصد کی ایجاد نہیں ہوتا بلکہ دنیا میں دوردراز علاقوں میں بسنے والے لوگوں کے باہمی روابط و اختلاط اور تعلقات پراستوار ہوتا ہے‘‘


ارتقائے انسانیت

آدم ؑ اور حوا کو دنیا میں دو مختلف مقامات پر اتارا گیا۔ آدمؑ اور حوا دو سو سال تک ایک دوسرے سے جدا رہے۔ تقدیر کو جب انکا ملاپ منظورہوا اور آدم حوا کی اولاد بڑھنا شروع ہوئی تو انسانی زندگی کے پہلے معاشرے نے جنم لیا۔ ہابیل کو قتل کرکے قابیل نے اُس معاشرے کا پہلاجرم کیا۔ پھرہابیل کی لاش کو مٹی میں داب کر معاشرے میں ایک اصول کی بنیاد رکھی، پہلا مدفن!وقت کے ساتھ ساتھ دنیا کی آبادی بڑھتی رہی اور دنیا گروہوں میں بٹتی گئی۔ اصول پیدا ہوئے،قوانین بنے جو انسان کے ایک دوسرے کیساتھ رکھ رکھاؤ میں مدد گار بنے۔

لیکن معاشرے جوں جوں بڑھتے گئے، اِن میں اخلاقی، سماجی، قانونی برائیاں بھی بڑھتی گئیں۔الیکٹرونک میڈیا کی ترقی سے پہلے اور بعد میں معاشرتی برائیوں میں بہت فرق محسوس کیاجاتا ہے۔آج کل کے معاشرے میں آپ نہ چاہتے ہوئے بھی اُن غلطیوں کا ارتکاب کرتے ہیں جو آپ نے پہلے نہ سنی ہوں۔ مذہبی تعلیم سے دوری،علم کا فقدان، جنسی خواہشات پر زور، بزرگوں سے بدتمیزی،لڑکیوں سے چھیڑچھاڑ، منشیات کا استعمال، قانون سے لاپروائی،جھوٹ فریب کا زور،اخلاق سوز مواد کاسرِعام نظر آنا ۔ الغرض آج کل کے دور میں وہ کون سی معاشرتی برائی ہے جو نہیں پائی جاتی؟؟ہمارے معاشرے میں بھی کم وبیش ہر وہ برائی پائی جاتی جو ذہن سوچ سکتا ہے اورایسی برائیاں بھی ہیں جسے ذہن تسلیم نہیں کرتا! میرے شہرکوپن ہیگن کی ایک پاکستانی فیملی کی مثال ہے کہ ایک سگی بہن نے اپنے حقیقی بھائی کوکاغذات پر اپنا شوہر ثابت کرکے اُس کا ویزا لگوایا، ایک ہی گھر میں رہنے والی بہن کے شوہر نے اور بھائی کی بیوی کے درمیان سال ہا سال تک زناکاری کا رشتہ استواررہا۔دوسروں کی اولاد کواپنی اولاد ظاہر کرکے ویزے لگواناہمیں کچھ معیوب نہیں لگتا۔اگر شرم وحیا کی کوئی حدقائم رہی تھی تو وہ انٹرنیٹ نے ختم کردی۔ بہت سی لڑکیاں انٹرنیٹ پر بیٹھ کراپنے لیے Date تلاش کرتی نظرآتی ہیں۔بے ہودہ اور بے مقصدفلموں کا ہماری سوچوں پر بہت گہرا اثر ہے، اخلاق سوز ڈائجسٹ زندگی کو متاثر کررہے ہیں۔

سوشل میڈیا

موجودہ دور کا سب سے بڑا ناسور سوشل میڈیا ہے۔ شریف سے شریف لڑکی بھی سوشل میڈیا کے بغیر نہیں رہ سکتی اور پھر سوشل میڈیا پر جو جو ہے اس  کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکتی، آج کل کی سوشل میڈیا کی لڑکیاں گر اپنا نہیں تو اپنے ہی پروفائل میں لڑکیوں کے جسم کے باشرم حصے لگاتے نہیں شرماتیں، کبھی کہیں چھاتی کے مدوجذر، کہیں ہپس اور ان کے مختلف پہلو، کہیں بیہودوہ جسم سے چپکا ہوا لباس۔۔۔ شاید آج کی عورت سوشل میڈیا پر آ کر سستی ہو گئی ہے۔۔۔

معاشرتی برائیوں پر کتابیں لکھی جاسکتی ہے۔ اِس مختصر سے آرٹیکل میں آپ تمام حضرات سے گزارش کرتا ہوں جس معاشرے سے ہم وابستہ ہیں اُسکی اچھائیوں اور برائیوں کو منظرِعام پر لائیے تاکہ ایک تو ہم اِن پربحث کرسکیں اور دوسراخود کو اور دوسروں کو خبردار کریں کہ اِس معاشرے میں کیا کیا ہورہا ہے۔یقینابہت سی باتیں ایسی ہونگی جن پر آپ بات کرتے ہوئے ڈرتے ہونگے،ہچکچاتے ہونگے، شرم محسوس کرتے ہونگے،سچ کہنا یا اُسے تسلیم کرنا نہیں چاہتے ہونگے،کسی کا بھرم رکھنا چاہتے ہونگے ۔ کچھ بھی ہے،یاد رکھیے برائی کو برائی جان کراُسے پھر بھی بے نقاب نہ کرنا نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ قانوناً بھی جرم ہے! پہلا قدم آپ اٹھائیے اور اپنی بات کہیں!!!

Mubahisa: Humara Moashra

مسعودؔ – اگست 2005

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment