Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Yeh Jazbah-e-Muhabbat

Yeh Jazbah-e-Muhabbat
sarmad writer
Yeh Jazbah-e-Muhabbat

یہ جذبۂ محبت

وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے، اکثر اِس کے گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اِس بات کا اندازہ مجھے کل سرمدؔ سے ملنے کے بعد ہوا۔ سرمدؔ سے میری ملاقات کوئی ڈھائی سے بعد ہوئی ہے۔ سرمد ؔ ، آپ کو یاد ہے ناکہ سرمدؔ کون ہے؟…. وہی جو فقط ایک شاعر ہے اور میرا بہت گہرا دوست ہے۔ہمیشہ میں نے اُس سے پوچھا ہے جو تحریروں کی صورت میں پیش کرتا رہا ہوں، مگر کل ملاقات کے دوران اُس نے مجھ سے خلافِ توقع پوچھنے میں پہلے کر دی:

’’مسعود تم نے کبھی کسی سے محبت کی ہے؟‘‘

پہلے تو میں چونک گیا پھر جواباً جھوٹ بول دیا کہ نہیں سرمد ؔ مجھے محبت پر یقین نہیں اور مجھے اِس سے چڑھ ہے۔ اُس نے مجھے دیکھا اور تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد کہا:

’’تمہیں محبت سے چڑھ ہے اور محبت کے جذبے پر تمہیں یقین نہیں  – آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ وہ کیا عالم تھا جسکی کوکھ سے محبت نے جنم لیا اور جسکی وجہ سے آج سرمد اپنے ربِّ حقیقی کے نزدیک تر ہوگیا ہے‘‘

سرمد ؔ نے اپنے درد سے پھٹے ہوئے کلیجے کو اپنے آنسوؤں کے شکنجوں میں جکڑتے ہوئے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا:

’’اگر خدائے بزرگ و برتر کو اپنی حمد و ثنا ہی چاہیے ہوتی تو وہ ہزاروں کڑوڑوں جن و ملائک کم نہ تھے جنکی غذا ہی اپنے پروردگار کی حمد و ثنا تھی،اورجنہیں ربّ العالمین چاہتا تو اپنی محبت میں معمور کردیتا، مگر اللہ تعالیٰ کو اپنی بزرگی اور برتری کو بیان کرنے کے لیے ایک ایسے کمال کی ضرورت تھی جس کو ہر اُس سوچ سے بھرا جاتا جو فانی ہو اور پھر اُسے ایک ایسے احساس سے لبریز کیا جاتا جو جاوداں ہو، اور پھر اُس کمالِ ہستی کی آزمائش کرائی جاتی کہ بتاتو کہاں تک اپنے پروردگار کو پہچانتا ہے۔

اِسی کمال کو تشکیل دینے کے لیے ربّ العالمین نے آدم کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا اور اِس کے اندر پھر ہر وہ حس بھر دی جس سے انسان کی آزمائش مقصود ہوئی۔ اُنہی احساسات میں سے ایک حس وہ جذبہ تھی جس کو محسوس کرنے کے لیے دِل کی دھڑکنیں پابند کی گئیں۔ آدم جو مٹی سے پیدا ہو کر جنت کا سردار ٹھہرا، آدم جسکی تشکیل نے ہزاروں سال کی عبادتوں کو نافرمانی کی بدترین مثال میں ڈھلنے پر مجبور کیا، وہ بھی تو ایک احساس ہی تھا،وہ بھی تو ایک جذبہ ہی تھا، مگر وہ کیا جذبہ تھا جسکی بدولت اللہ تعالیٰ کے سب سے متقی اور سب سے زیادہ عبادت گزار جن کو شیطان بننے پر مجبور کردیا:

حسد ! حسد محبت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتا ہے اور بالآخر محبت کا وجود ختم ہو جاتا ہے
برتری کا غرور! اپنے حسن اور علم اور فن کی برتری کا غرور ہمیشہ غفلت اور نافرمانی کی جانب لے جاتا ہے
نفرت! نفرت محبت کی ضد ہے اور ہمیشہ ذلت کی جانب لے جاتی ہے۔

لہذا احساسات تو جن و ملائک میں بھی تھے مسعود، مگروہ محبت کے نہیں تھے، فرمانبرداری یا نا فرمانی کے!

آدم جو جنت میں وہ زندگی گزار رہا تھا جوہمارے تصورات سے بھی بالا ترہے،پھرآخر وہ کیا بات تھی کہ آدم کا دِل وہاں بھی اُداس رہا؟ وہ کیا بات تھی کہ آدم کو کسی شے کی کمی محسوس ہوتی تھی؟ وہ کیا تڑپ تھی جس کی وجہ سے آدم کی تشکیل ابھی نامکمل تھی؟ آدم ابھی ادھورا تھا؟ ۔ وہ محبت تھی مسعود! محبوب کی محبت!

یہ بات خود اللہ تبارک تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے محمد ؐ اگر مجھے تمہارے وجود کو بنانا مقصود نہ ہوتا تو کچھ بھی نہ بناتا! یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات کی اتنی حسین ترین بساط اپنے حبیبؐ، اپنے محبوبؐ ، اپنے پیارے نبی شہ لولاک محمد ؐ کو بنانے کے لیے بچھائی ہے ۔ یہ محبت کا وہ جذبہ ہے جو دنیا کے ہر جذبے سے بلند و بالا ہے اور ہر محبت کا سرچشمہ ہے۔ مگر اِس جذبے کی تکمیل کے لیے بھی وہ ایک تڑپ، وہ ایک خواہش، وہ ایک اجنبی سی آرزو کا چراغ آدم کے دل میں جلانا ضروری تھاکہ کوئی ہو جو میرا متضاد ہو، جو میری ضد ہو، جو مجھے ۔ آدم کو۔ مکمل کرے، محبت کے کمال کا یہ وہ عروج ہے جسکی تشکیل حوا کی صورت میں ہوئی ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے صرف آدم کا بنانا یا صرف ابنِ آدم کا بنانا کیا مشکل تھا؟ حوا کی کیا ضرورت تھی؟

محبت ۔ ازل ہی سے آدم کے دِل پر اثر کرچکی تھی۔ محبت ۔ ازل ہی سے جنم لے چکی تھی!

محبت کا جذبہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے، یہ وہ احساس ہے مسعود جو ربوبیت کی پہچان ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسکی بنا پر کائنات تشکیل پاتی ہے۔صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے اور شام اپنے پرسکون دامن کو پھیلاتی ہے، کلیاں کھلتی ہیں اور پھولوں کو خوشبو ملتی ہے، پروانے شمع کا طواف کرتے ہیں اور چکور چاند کو چھونے کی خواہش کرتا ہے۔جو ازل ہی سے مقدر ہو، اُسے ٹالا جا سکتا ہے؟

محبت عبادت ہے، بغیر محبت کے تم اپنے خدا کو کیسے پہچانو گے؟ جب اپنے خدا ہی کونہیں پہچان پاؤ گے تو اُسکی عبادت کیسے کرو گے؟ زمین پر ماتھے رگڑنے سے کیا فائدہ مسعود؟ جب عبادت میں محبت ہی شامل نہ ہو؟

محبت ایمان ہے، ایمان کا تعلق دِل سے ہے اور دِل محبت کا گہوارا ہے۔

محبت کا انکار ربوبیت کا انکار ہے، ربّ کی کائنات کی نفی ہے، ربّ دلوں میں بستا ہے اور یہی دِل محبت کا گھر ہے، کبھی تم نے دماغ سے بھی محبت کرتے دیکھا ہے، سُنا ہے؟نہیں نا! ایمان بھی دِل سے ہوتا ہے اور محبت بھی!خدا کی پہچان بھی دِل سے ہوتی ہے اور محبت کی بھی!جہاں دماغ حاضروموجود میں ڈگمگانے لگتا ہے، وہاں دِل دیوانہ وار لبیک کہہ اٹھتاہے!

محبت سچی ہو تو محبت ربّ تک پہنچنے کا رستہ بنتی ہے۔ مگر محبت کی سچائی محسوس کرنی چاہیے سوچنی نہیں۔ کیونکہ سوچوں میں جو گھِرگیا وہ لاانتہا کیونکر ہوا؟ محبت لاانتہا ہے ۔ خدالاانتہا ہے! محبت بے مثال ہے اور خدا بے مثال ہے۔

جو سوچوں میں پڑ گیا، وہ ایمان سے گیا ۔ جو سوچوں میں پڑ گیا، وہ محبت سے گیا!

عورت کی محبت مرد کے دِل میں اور مرد کی محبت عورت کے دِل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے، یہ ایک وحی ہے مسعود جو صرف ان دلوں پر نازل ہوتی ہے جو اس کا بھاربرداشت کر سکتے ہیں۔ مگر دنیا اُسے کچل کر خدا کی نعمتوں کا استحصال کرتی ہے۔پھرجب زندگی کی جانب سے تکلیفیں ملتی ہیں تو محبت کو جھوٹا کہنا شروع کردیتی ہے ، جب زندگی کے امتحانات سامنے آتے ہیں تو گھبرانے لگتی ہے،محبت میں امرتو ہونا چاہتی ہے مگر محبت کی آگ کے دریا میں ڈوبنا گوارا نہیں کرتی، عذر تلاشنا چاہتی ہے، سوہنی کی طرح گھڑے سمیت ڈوبنا نہیں چاہتی،اپنے دامن کو بچاتی ہے، محبت کی رسوائیاں نہیں سہتی، محبت جب قربانیاں مانگتی ہے تو پیچھے ہٹ جاتی ہے اور محبت پر سے یقین اٹھانے لگتی ہے، محبت تو خدا نے بھی کی ہے مسعود، کیا تم خدا کی نفی کرو گے؟‘‘

سرمد ؔ نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کچھ لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔ اُس نے جب سر اٹھایا تو اُسکی بھیگی آنکھوں میں حفصہ کی تصویر جھلک رہی تھی۔ سرمدؔ کی آنکھوں میں محبت کی یہ جیت دیکھکر میرا دِل لرز اُٹھا۔ میں نے سرمدؔ کو ایک گہرا سانس لیتے سنا اور اُسکی آنکھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوگئیں۔

حفصہ سرمدؔ نے تمہیں جنون کی حد تک چاہا ہے، تو نے اُسکی محبت کو نہیں سمجھا، دنیا سے ڈرنے والے محبت نہیں کرتے، وقت گزارا کرتے ہیں۔سچ ہے کہ محبت دِل سے ہوتی ہے او ردِل کے بازار میں شکل و صورت ، جاہ و جلال، حسب و نسب نہیں دیکھے جاتے، دِل کی نگری میں تواندھیرے ہوتے ہیں،جبھی محبت اندھی ہوتی ہے، جب تک تو نے سرمد ؔ کو دِل سے چاہا اُس وقت تک تمہیں دنیا کی پروا نہیں تھی، اب تم نے دماغ سے سوچنا شرع کردیا ہے، اب تم کمزور پڑ گئی ہو،جب دِل کمزور پڑ جائے تو محبت مر جاتی ہے اوریہی وجہ ہے کہ سرمدؔ …..سرمدؔ پھر سے بکھر گیا ہے،اوراب وہ سکون کی تلاش میں جارہا ہے، ……..دُور……. بہت دُور……….

سرمدؔ کے کمرے سے نکلتے ہوئے مجھے آج بھی وہی لے سنائی دیتی ہے:
’میں تو فقط اک شاعر ہوں ۔ بے نشاں منزل کا بے سروپا مسافر ہوں‘

مسعودؔ    –  کوپن ہیگن جنوری 2010

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment