Current Affairs Columns

Hazara – Nishaney Per Kyun??

Hazara - Nishaney Per Kyun??
Hazara – Nishaney Per Kyun?? Hazara – Nishaney Per Kyun?? Hazara – Nishaney Per Kyun?? Hazara – Nishaney Per Kyun?? Hazara – Nishaney Per Kyun?? Hazara – Nishaney Per Kyun?? 
کوئٹہ سے کوئی کم و بیش چالیس کلومیٹر جنوب میں مچھ کا چھوٹا سا قصبہ آباد ہے! جس میں دوجنوری کو نامعلوم افراد نے گیارہ کان کنوں کو انتہائی سفاکی سے ذبح کردیا! ان افراد کا تعلق ہزارہ کی برادری سے تھا۔ اس واقعہ کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر سیاسی اپوزیشن نے خوب سیاست کو چمکایا! اور انکے ہمدرد میڈیا ہاؤسز نے وزیراعظم کو سفاک ، بے رحم اور بیدرد ثابت کرنے میں رتی برابرکسر نہ چھوڑی!  یہ سب کیوں ہوا؟ اور اسکے باعث سوشل میڈیاپرایساری ایکشن کیوں سامنے آیا؟ اسکو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ انسانیت کی پستی کو اچھی طرح سمجھا جا سکے۔

سب سے پہلے یہ کہ یہ واقعہ انتہائی پردرد اور تکلیف دہ ہے! اس میں جس قدر بھی ان ظالموں کے حق میں بددعا کی جائے کم ہے! مگر اس واقعہ کی نوعیت کو سمجھنا چاھیے!

ہزارہ برادری کا تعلق افغانستان کے علاقے ہزاریستان یا جسے پہلے پہل ہزارہ جات کہا جاتا تھا، سے ہے۔ 1888 میں  جب افغان پادشاہ عبدالرحمٰن (جسے انگریزوں نے بھرتی کیا تھا)نے انگریزوں کیساتھ گنڈاماک کا معاہدہ سائن کیا ، اسکے بعد اس نے اپنی فوجیں ترکیستان، ہزارہ جات اور کافرستان کو اپنے کنٹرول میں کرنے کے لیے بھیجیں تو ہزارہ برادری نے اسکے خلاف بغاوت کی!    جواباً عبدالرحمٰن کی فوجوں نے ہزارہ برادری کے قریب قریب ساٹھ فیصد افراد کو بہت ہی بیدردی قتل کیا، ہزاروں کو ہجرت پر مجبورکیاجو کہ کوئٹہ (موجودہ پاکستان)میں آن بسے۔ ہزاروں عورتوں اور بچیوں کو اپنے زنا کی ہوس پوری کرنے کے لیے غلام بنا لیا!

Hazarajat
Hazarajat
ہزارہ جات میں ہزارہ برادری کی امیرِ افغانستان کیخلاف یہ کشمکش مزید 3 سال یعنی 1893 تک جاری رہی!اس کشمکش کو کچلنے کے لیے عبدالرحمٰن نے مذہب کا سہارا لیتے ہوئے سنی شیعہ فسادات کو ہوا دی، !جسکے نتیجے میں سینکڑوں افراد قتل ہوئے۔ اسکے بعد انکی اکثریت پناہ گاہ کی تلاش میں کوئٹہ آن بسی!

جنرل ضیاالحق نے جب اپنی استبدادی حکومت کو تقویت بخشنے کی ضرورت محسوس کی !تو اس نے بھی مذہب کا سہارا لیتے ہوئے !اسی کی دھائی میں فرقہ وارنہ دھشتگردی کروائی۔! وہی فرقہ وارنہ دھشتگردی مجاھدین سے ہوتی ہوئی طالبان تک پہنچی جسکے بعد خصوصاً بلوچستان کو اسکا نشانہ بنایا گیا کہ وہاں پر اول تو تحفظ ناپید تھاجسکی وجہ سے دھشتگردی کا نشانہ آسان تھا، !دوسرا افغانستان سے غیرقانون مداخلت آسان تھی۔ جسکی خاص کر پشت پناھی ہندوستان کی جانب سے ہو رہی تھی۔سوم، بلوچستان میں دہشگردی کرنا سی پیک کے منصوبے کو زک پہنچانا ہے! سی پیک کا منصوبہ دراصل نہ صرف ہندوستان بلکہ ایران کی بھی اہمیت کو بہت بری طرح ٹھیس پہنچائے گا! اسکا سب سے بڑا فائدہ پاکستان کو پہنچے گا جسکی معیشت کیلیےیہ ایک نئی قندیل ثابت ہوگا اور ساتھ ہی وسطی ایشیا کی ریاستیں بھی اس سے مستفیض ہونگی!

ہزارہ برادری پر کوئٹہ میں پہلا حملہ اسوقت ہوا جب مشرف کی حکومت تھی۔ 2001 سے 2007 تک  مشرف دور میں  پانچ حملے ہوئے جس میں لگ بھگ 136 افراد کا بہیمانہ قتل ہوا۔ یہ تقریباً سبھی حملے مذہبی تشددپسندی کی بنیاد پر اور گیارہ ستمبر کے واقعے میں پاکستان کے کردار کی وجہ سے ہوئے۔ اس میں رتی برابر شک نہیں کہ اسکے پیچھے طالبان تھے۔ ستمبر 2010 سے لیکر30 جون 2013 تک! پاکستان پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی باری باری کی حکومتوں کے دوران    ہزارہ برادری مسلسل دھشتگردی کی نظر رہی!  یوں 19 دھشتگرد حملوں میں لگ بھگ 450 افرادلقمہ اجل بنے۔

اگر ہم ان تمام حالات کا جائزہ لیں تو یہ بات سمجھنا قطعی مشکل نہیں کہ ہزارہ کو ٹارگٹ کیوں کیا جاتا ہے! پاکستان میں دہشتگردی کی سب سے بڑی لہر افغانستان سے آتی ہے۔! افغانستان میں ہندوستانی فنڈنگ پر تربیت شدہ دہشتگرد پاکستان میں داخل کیے جاتے ہیں۔ انہیں خاص کر ٹارگٹ دیا جاتا ہے کہ پشتون اور ہزارہ کو نشانہ بنایا جائے کیونکہ ان دونوں کا ماضی افغانستان سے گہرا اور انٹوٹ طور پر جڑا ہوا ہے! 

اندرونِ ملک بھی ایسے عناصر پائے جاتے ہیں! جو اپنے مفادات کے حصول کے لیے ایسی دھشتگردیوں کا سہارا لیتے ہیں،! اور جب نشانہ پہلے ہی سے موجودہ ہو تو پھر اسے حاصل کرنا آسان اور خود کو دھشتگردی کے پشت پیچھے چھپانا سہل ہوتا ہے۔! یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس دور میں زیادہ تر دھشتگردی سرکاری ایما پر ہوتی رہی ہے!

پاکستان کے موجودہ حالات یہ چیخ چیخ کر بتا رہے ہیں! کہ مچھ میں ان معصوم انسانوں کو ٹارگٹ کیوں کیا گیا ہے! 

جب سے عمران خان کی حکومت تشکیل پائی ہے! وہ روایتی سیاسی جماعتیں جو خود کو ناقابلِ شکست سمجھتی تھی، !جو خود کو ابد تک کا حکمران خاندان سمجھتی تھیں!  اور انکے وہ حواری جو مذہب کے نام پر لوگوں کا برین واش کر کے ووٹ لیتے رہے ہیں! اور جن کی زندگیوں کا سب سے بڑا حصول وزرات رھا ہے وہ یہ شکست قبول نہیں کر پائے۔ اس پرمیڈیا کا ایک بہت بڑا طبقہ جو کل تک ان کے پیسوں پر پلتا چلا آرہا ہے! انہیں جب حرامکاری کا پیسہ ملنا بند ہوگیا! تو انہوں نے ایک سوچی سمجھی کمپئین پر عمل درآمد شروع کر دیا۔

اس کمپئین کو سمجھنے کے لیے نوازشریف اور زرداری کی سرِ عام دعوت سب کے سامنے ہے! جب انہوں نے کہاتھا کہ ہم میڈیا کے سروں پر ہاتھ رکھنے کو تیار ہیں! صورتحال کچھ یوں ہے !کہ پچھلے دو سالوں سے اپوزیشن نے اپنی ہر ممکن کوشش کر دیکھی کہ کسی طرح حکومت کو متزلزل کیا جا سکے !مگر بدترین ناکامی کا سامنا کرنا پڑا! یہاں تک کہ گیارہ سیاسی جماعتوں نے جو اتحاد بنایا وہ بھی بری طرح ناکام رھا۔ اس میں بھی انکے آپس میں الگ الگ مفادات انکی الگ الگ سوچیں انکو لے ڈوبیں۔

اوپرسے اس سارے اتحاد کو لیڈ کرنے کے لیے ایک انتہائی کندذہن اور جاھل عورت کو لگا دیا جو سب کنٹرول کررہی ہے۔ نام نہاد ملا فضل الرحمٰن جو ہر دور میں سازشوں اور فتنہ پردازیوں کا پتلا رہا ہے جو کبھی نصرت بھٹو کے قدم چوم کر وزارتوں کی بھیک مانگا کرتا تھا اور کبھی بینظیر، کبھی امریکن سینیٹر این پیٹرسن کے پاؤں پڑا کرتا تھا اور اب مریم صفدر کے، اسکودھوبی کے کتے کی طرح آگے لگادیا۔

ان تمامتر ناکامیوں کا، نوازشریف کی شعلہ زبانی، زرداری اور بلاول کی شرانگیز تقریروں کا اور ملا فضل کی سرعام دھمکیوں کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلنا تھا، وہ مچھ میں اس حملے کی صورت میں نکلا!

نون لیگ اور پی پی پی کی پرانی فطرت ہے کہ یہ لاشوں پر سیاست کرتے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن میں انسانیت کا بھیانک قتل کرایا،لیکن انکے کانوں پر جوں تک نہ رینگی! پشاور میں معصوم بچوں کا بیدردی سے قتل کرایا مگر انکے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ کراچی میں بلدیہ کی فیکٹری میں تین سو افراد کوزندہ جلا کر بھسم کر دیا گیا مگر انکے ٹویٹس، انکے افسوس اور انکی ہمدردیاں ندارد رہیں اور انکی دلجوئی کے لیے کوئی نہ پہنچا۔ انکے دورِ حکومت میں قتل و غارت کے بازار گرم تھے۔ عامرباکسر، عزیربلوچ، ڈاکٹرعاصم، راؤ انوار، گلوبٹوں، پولیس میں گلوبٹوں، چھوٹو گینگ ان سب نے سرکاری سرپرستی میں انسانیت کو بیدردی سے قتل کیا مگر انکا غرور اور اکڑی ہوئی گردنیں غم و ملال سے نہ جھکیں!

آج جب ان پر احتساب کے شکنجے زبردستی سے جکڑے ہوئے ہیں، انکابال بال مشکلات میں پھنسا ہوا ہے اب انہیں انسانی قتل کی قیمت کا احساس ہوا ہے اور اس پر فل میک اپ میں سج دھج کر مریم صفدر اور بلاول بھٹو اپنی ریاکاریوں کو چہروں پر سجا کر افسوس کرنے کوئٹہ پہنچ کر عمران خان کو طعنہ اور تشنیع اور انسانیت کا سبق سکھا رہے ہیں۔ اگر یہ جماعتیں اپنے اقتدار میں ہزارہ برادری کے تحفظ کے لیے کچھ کرتے تو آج انکا افسوس بجا تھا!

اور اس مہم میں انہوں نے اپنے سوشل میڈیا کو مکمل مال و دولت سے نواز دیا ہے اور اپنے ہم آوازمیڈیا ہاوسز، صحافی نما درندے اور اینکرز ساتھ ملا لیے ہیں جیسے یہ انہونی پاکستان میں پہلے کبھی نہیں ہوئی اور موجودہ حکومت سفاک ہے!

Machh - Balochistan
Machh – Balochistan

ہزارہ کے افراد کے ساتھ جو کچھ ہوا، شدید رنج و ملال اور دکھ کی بات ہے! مگر پاکستان میں ایسی دھشتگردی کی نظر جو دوسری قومیں ہوتی ہیں، وہ ان سے کئی زیادہ ہیں! اور جب تک سفاک صفت اپوزیشن اپنے مفادات میں کامیاب نہیں ہوتی،  ایسے واقعات جنم لیتے رہیں گے۔آج ہزارہ برادری میں ہوا ہے، کل کسی اور میں ہو گا۔ جب تک اس ملک میں اسلحہ رکھنے پر پابندی، مذہبی جماعتوں کی درجہ بندی، مدارس کو سرکاری تحویل اور سیاسی قاتلوں کو سزائیں نہیں دی جاتیں اسوقت تک دھشتگردی کو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے!

Hazara – Nishaney Per Kyun?? Hazara – Nishaney Per Kyun?? Hazara – Nishaney Per Kyun?? Hazara – Nishaney Per Kyun?? Hazara – Nishaney Per Kyun??


بقلم: مسعود

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

January 2021
MTWTFSS
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031

PG Special