Current Affairs News

Pakistani Media And Zardari

Pakistani Media And Zardari

Pakistani Media And Zardari

حالاتِ حاضرہ

پاکستانی میڈیا اور زرداری نیا حربہ

خبر گرم ہے کہ آج کل پاکستانی میڈیا میں جیو سمیت اکثر چینلز سے بندے نکالے جا رہے ہیں۔

بندے نکالنے کی وجہ یہ ہے کہ اخراجات بہت ہیں جبکہ اس لحاظ سے آمدن نہیں۔ پہلے جیو سمیت بڑے بڑے چینلز کو سرکاری سطح پر خریدا جاتا رہا ہے اور چند خاص خاص چینلز  کیساتھ ساتھ اکثر چینلز کو کڑوڑوں روپے دئیے جاتے تھے جو پھر سرکار کی کارکردگیوں کی جھوٹی تعریفوں کے پل باندھا کرتے تھے۔

جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے چینلز کو یہ سرکاری امداد ملنا بند ہو گئی ہے۔  ساتھ ہی حکومت نے بڑی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنا شروع کر دیا ہے، جن میں قبضہ مافیا  ملک ریاض بھی شامل ہے۔ ملک ریاض نے بھی بہت سارے چینلز کو اپنے پیسہ سے اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔

مسلم لیگی کرپٹ لیڈروں کو جیل میں بند کرنے کے بعد اب پپلزپارٹی کے آصف علی زرداری، فریال تالپور اور بلاول بھٹو بھی نیب کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ عنقریب وہ بھی جیل میں ہونگے، اس تمام صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے آج آصف علی زرداری نے بھی میڈیا کو خریدنے کا عندیہ دیا ہے کہ اگر میڈیا ساتھ دے تو پی ٹی آئی کی حکومت کو گرایا جا سکتا ہے۔ یعنی اب میڈیا کے وہ چینلز جو حرام کے پیسوں پر پل رہے تھے، ان کے مرتی ہوئی روح کو ایک نئی جلا بخشی کی امید ہو رہی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ صحافت کا ضمیر بیچا جائے، جھوٹ اور فراڈ کو پیش کیا جائے، نفرت اور ایری ٹیشن پھیلائی جائے، جھوٹی سے جھوٹی خبر کو عنوان بنا کر پیش کیا جائے۔

اسکی ابتدأ سماء چینلز نے کر دی ہے۔ سماء کی کوئی بھی ہیڈلائنز ایسی نہیں ہوتی جس میں سب سے بڑا عنوان ایسی باتوں کو بنایا جاتا ہے جس میں جھوٹ، نفرت اور ایرٹیشن نہ پھیلائی جاتی ہو۔

میڈیا کہیں کا بھی ہو، میڈیا کا انسانی دماغوں پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ اور زرداری جیسا بدمعاش اب اس میڈیا کو اپنے حرام کے پیسے سے خریدنے کی کوشش کریگا، اور جیسا کہ ہمیشہ ہوا ہے پاکستانی میں صحافت ایک لفافے کی مار ہے، صحافی اپنا ضمیر بیچتے ذرا دیر نہیں لگائے گا۔

Pakistani Media And Zardari

بقلم: مسعود

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment