Current Affairs Humara Moashra Politics

Ragoun Mein Andhera

Ragoun Mein Andhera

کسی بھی قوم، معاشرے اور ملک کی تباہی کی ایک بہت اہم وجہ غداری ہوتی ہے۔ غداری سے بدتر کوئی بیماری نہیں جو جسم اسطرح کمزور کر دیتا جیسا کینسر اور پھر بالآخر اس کا نتیجہ موت ہوتا ہے۔

غداری کئی طرح کی ہوتی ہے۔ غداری کی ایک مثال وہ ہے جو میرصادق اور میر جعفر نے کی تھی۔ وہ  اپنے ذاتی مفاد، انگریزوں کی مدارات حاصل کرنے کے لیے ان سے جا ملے اور ہندوستان کے حکمرانوں کے خلاف کام کرنے لگے۔

پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں غداری کے بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔ ایسی بھیانک مثالیں جنہوں نے آخر کار ملک کی تقسیم کرا دی! مگر پاکستان دنیا کا شاید واحد ملک ہے جہاں غداروں کو سروں پر اٹھایا جاتا رہا ہے۔ انہیں آقا، سردار، سرکار، مالک ، وڈیرے، بھٹو، زرداری، شریف کہا جاتا رہا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ اس ملک کی غریب اور محتاج قوم کی سرپرستی کرتے رہے ہیں اسی لیے ان کی غداری عیب نہیں لگی!

ایسی ھی غداری کی ایک مثال آج پاکستان کے میڈیا کے کچھ ناسوروں کی قائم کی!

کچھ ماہ پہلے اسلام آباد کے سرینہ ہوٹل میں نون لیگ کے شاھد خاقان عباسی کی ملاقات پاکستان میڈیا ہاؤسز کے چند نامور اینکرز سے ہوئی۔ اس ملاقات میں طے ہوا کہ صحافی صحافت کے نام پر میاں نوازشریف کے حق میں ایک پٹیشن جمع کرائیں گے۔

معروف و مشہور  “چڑیا والے بابا” نجم سیٹھی  کی قیادت میں  پاکستان فیڈرل یونین آف جرنالسٹ کے پرچم تلے  کچھ صحافیوں نے جن میں سلیمہ ہاشمی، منیزے جہانگیر،  غازی صلاح الدین، زبیدہ مصطفیٰ ، نسیم زہرہ،  امبررحیم شمسی، غریدہ فاروقی، مہمل سرفراز، منصورعلی خان، عاصمہ شیرازی، سلیم صافی اور سیداعجاز بخاری وغیرہ نے پیمرا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن جمع کرائی کہ  نوازشریف جو اس وقت لندن میں مقیم ہے، اسکو پاکستانی ٹیلیوژن چینلز پر بھرپور تقاریر کرنے اور اپنے خیالات کے اظہار کی اجازت دی جائے۔

گوکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ کہہ کر کے “پیمرا نوٹیفیکشن غیر قانونی ہو تو بھی کسی مفرور کوریلیف نہیں دے سکتے”   کا جملہ لگا کر آرٹیکل نمبر 19 کا حوالہ دیتے ہوئے پٹیشن خارج کر دی۔

بظاہر یہ شاید کوئی بڑا واقعہ نہیں! مگر!

یہ واقعہ اس بات کو ظاہر کر رھا ہے کہ پاکستان میں غدارپیدا ہونا ایک لمحہ بھر کی بات ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خود کو صحافی کہتے ہیں اور اہلِ قلم ہیں۔ مگر انکی ذہنیت اور سوچ، انکا ضمیر اور انکا مفاد سب کا سب اس ملک کے سب سے بڑے اور غلیظ ترین کرپٹ انسانوں سے جڑا ہوا ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک خبر آئی تھی کہ ایک شدید غریب بچے نے جو غالباً سڑکوں بازاروں میں ردی اٹھا کر، یا بوٹ پالش کر کے اپنا اور اپنے گھر والا کا کفیل تھا، اس نے چیف جسٹس کے ڈیم فنڈ میں دس روپے جمع کرائے، جس پر اسی میڈیا میں یہ خبر لگی کہ “دس دس روپوں سے ڈیم نہیں بنتے”۔

آج صحافت کے ان علمبرداروں کی اوقات دیکھ کر مجھ جیسا منہ پھٹ انسان یہ کہتے ہوئے رتی برابر نہیں جھجکے گا کہ تم جیسے صحافی اس بچے کے تھوک کے گند کے برابر بھی نہیں ہو!!!     

 تم لوگ اس دھرتی کا سب سے غلیظ بوجھ ہو! تمہاری عقل، تمہاری بصارت، تمہاراعلم و قلم سب کا سب شیطان کے تخم سے نکلے پانی سے غلیظ ہے!

 تم لوگ جتنے بھی خود کو صحافت کے روپ کے پیچھے چھپا لو، حقیقت میں تم شیطان کے وہ چیلے ہو جسکا ذکر اقبال نے اپنی ایک نظم میں کیا تھا۔ تم لوگ اس ملک کے لیے کلنک کا ٹیکا ہو چاہے جتنے بھی خود اپنی سوچ کو سرسبزیاقوت کے ہیروں سے جڑ کر دکھا دو!!!

صحافی ہونے کا حق تم لوگوں نے ادا نہیں کیا اور اسکی بدترین مثال یہ ہے کہ جب یہ خبر لیک ہوئی تو کئی ایک صحافی جنکا نام اس لسٹ شامل ہے وہ کنی کترانے لگے کہ ہم نے پٹیشن پڑھی ہی نہیں!

درحقیقت یہی وہ صحافی نما نون گینگ اور پیپلزپارٹی کے خفیہ کارکن ہیں جنہوں نے پاکستان کی معصوم عوام کی لٹی ہوئی دولت پر پلنے والے حرامخوروں کو سیاستدان بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ ورنہ مریم صفدر اور بلاول میں رتی برابر عقل نہیں کہ وہ سیاست کر سکسین!

نہیں!

آج اس بات تم لوگوں کے بھیانک چہرے بے نقاب کر دئیے ہیں۔ تم لوگ کالی بھڑیں ہو! گندی مچھلیاں ہو! تم اس معاشرے کے سب سے بدترین لوگ ہو! نوازشریف اور زرداری نے سرعام کہا تھا کہ آج بھی کچھ چینل اٹھ کھڑے ہوئے تو بہت کچھ ہو سکتا ہے، آج وہ صحافی عملاً سامنے آئے ہیں! یہ لوگ درحقیقت حرام کے اس پیسے پر پلنے والے ناسور ہیں جو حرام مافیا انکو کھلاتا ہے اور یہ اسکے لیے اس ملک کی بقا کے خلاف بولنا بھی ناگوار نہیں سمجھتے !  یہ وہ لوگ ہیں جو جس ملک میں پناہ لیتے ہیں، جہاں کھاتے ہیں وہی پیشاب کرتے ہیں!

پاکستان کا دشمن باہر سے تلاش کرنے کی ضرورت نہیں – ہمارے اپنی رگوں میں اندھیرا ہے!


بقلم: مسعود

 

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.