Current Affairs

Pashteen Aur Sazishi Tola

Pashteen Aur Sazishi Tola

Pashteen Aur Sazishi Tola

تاریخ

یونانی تاریخدان ہیروڈس نے اپنی تاریخ میں ایک قوم کا Pactyans (پشتون) کے نام سے ذکر کیا! جو عرصۂ  دراز سے  Durand Line کی دونوں جانب آباد تھی۔!  جس علاقے میں یہ قوم آباد تھی  وہ عرصۂ قدیم سے مختلف ایرانی سلطنتوں میں شامل رھا ہے۔! قدیم ایرانی سلطنتوں میں فوج کے افسروں جنہیں ستراپا کہتے تھے! ان میں تقسیم کی جاتی تھی۔ یونانی تاریخ میں اس علاقے کا نام آراکوسیا Arachosia دیا گیا تھا۔! جو کہ جنوب مغربی افغانستان سے لے کر پنجاب میں دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے  دھانے تک پھیلا ہوا تھا۔! اس میں ملتان تک کے علاقے شامل تھے۔! دوراند لائن کے جنوب مغربی حصوں میں بلوچ آباد تھے۔

مختلف ادوار اور قوموں سے ہوتا ہوا یہ علاقہ مسلمان عربوں کے زیرِ حکومت آیا! اور اسکے بیشتر علاقے کا نام خراساں رکھا گیا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلمان عربوں نے اسلام پشتون میں متعارف کروایا! اور بہت سارے عرب اسی علاقے میں آباد بھی ہو گئے۔! یہ بھی قابل تصدیق ہے کہ پشتون کو اسوقت افغانی کہہ کر پہچانا جاتا تھا! پشتونوں کی قوم اور ان کا یہ علاقہ مختلف مسلمان سلطنتوں سے ہوتا ہوا درانی سلطنت کے زیرِ حکومت آیا!جس نے یہاں پر  1709 سے 1820 تک حکومت کی اسکے بعد یہ علاقہ سکھوں اور پھر انگریزوں کے قبضے میں آ گیا۔! 

یہ سلطنت پہلی عظیم افغان سلطنت تھی جس کی بنیاد احمدشاہ درانی نے رکھی تھی! اور جو اپنے عروج پر سارا موجودہ افغانستان، پاکستان،  ایران کا شمال مغربی صوبے کا! کچھ حصہ اور وسطی ایشیا کی چند مسلم ریاستوں کے ٹکڑوں پر مشمتل تھی۔! پھر یہ سلطنت کمزور ہوتی گئی اور اسکا جنوبی حصہ سکھوں کے قبضے میں چلا گیا،! جہاں سے اسے انگریزوں ہتھیا لیا۔ Pashteen Aur Sazishi Tola

اینگلوافغان جنگیں

پہلی اینگلوافغان جنگ 1839 میں شروع ہوئی اور 1842 میں انگریزوں کی شکست پر ختم ہوئی۔! دوسری اینگلوافغان جنگ 1870 میں شروع ہوئی! اور اس بار انگریز افغانی علاقوں میں اپنی من پسند حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے۔! انگریزوں نے 1880 میں گنڈامارک معاہدے کے تحت عبدالرحمان خان کو امیر مقرر کیا۔!  اس معاہدے کے تحت افغانستان کے بیشتر علاقے برٹش انڈیا کے کنٹرول میں آ گئے۔!

دونوں ریاستوں کے درمیان تعلقات کو بہتر اور تجارت کو فروغ دینے کے لیے! 1893 میں برٹش انڈین حکومت نے Mortimer Durand کو کابل بھیجا۔!  12 نومبر 1893 کو مورٹیمار دوراند اور امیر عبدالرحمان  کے درمیان دوراند معاہدہ قائم ہوا! اور کچھ دن بعد پاراچنار میں دونوں پارٹیوں کا جلسہ ہوا   جس کے تحت دونوں ملکوں کی سرحدیں مقرر کی گئیں۔! اسی معاہدے کی رو سے برٹش انڈیا میں ایک نیا صوبے کا قیام عمل میں آیا !جسے  نارتھ ویسٹ فرونٹئیر پرونس NWFP  کہا گیا اور یہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان کا حصہ بنا!– اب اسے پختونخواہ کہا جاتا ہے، اس میں فاٹا  کے ساتھ ساتھ ملتان، میانوالی، بہاولپور  اور ڈیرہ غازی خان بھی شامل تھا۔! برطانوی راج میں ان میں بیشتر علاقوں میں پنجاب صوبے میں شامل کر دیا گیا۔!

ورثہ

قیامِ پاکستان کے بعدسرحدوں کی تقسیم کا معاہدہ  پاکستان کے حصے میں آیا! جو کہ پہلے  1893 میں دوراند معاہدے اور 1919 میں راولپنڈی معاہدے کی صورت میں تھا۔! پاکستان ہمیشہ اپنے موقف پر قائم تھا کہ عالمی قوانین جس میں  Uti possidetis juris اور جینیوا کنونشن شامل ہیں،! کے عین ماتحت ہے کہ نیا آزاد ہونے والا ملک وہی سرحدیں حاصل کرے گا! جو اس سے پہلے سرکار ملک یا ریاست کے پاس تھیں۔! لہذا دوراند لائن جو 1893 میں طے  پائی تھی وہی پاکستان اور افغانستان کی عالمی قانون کے مطابق جائز سرحد ہے! Pashteen Aur Sazishi Tola

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے! کہ تقسیمِ ہند کے وقت وہ پشتون جو  دوراند لائن کے اس طرف (یعنی موجودہ پختونخواہ) میں آباد تھے،! انہیں اختیار دیا گیا کہ وہ چاہیں تو نئے آزاد پاکستان میں شامل ہو جائیں یا انڈیا میں! باچا خان کی خدائی خدمتگار تنظیم تقسیمِ ہند کے سخت خلاف تھی! اور انکی دلی خواہش تھی کہ انڈیا انکو قبول کر لے۔! مگر کانگرس نے تقیسمِ ہند کو بلا مشورہ باچاخان قبول کر لیا جس پر باچاخان بہت دلبرداشتہ ہوا۔! جب باچاخان کو ہندوستان نے ٹحکرا دیا تو باچاخان کے من میں الگ ریاست کا خواب بیدار ہوا اور یوں بنوں ریزولیشن میں باچاخان کی خدائی خدمتگار نے NWFP کو الگ آزاد ریاست بنانے کی تجویز پیش کر دی! مگر  ایک ریفرنڈم کے تحت NWFP کی اکثریت نے پاکستان میں ضم کو ترجیح دی۔ Pashteen Aur Sazishi Tola

باچاخان

باچاخان اور خان عبدالجبارخان اور اسکے اسپوٹرز نے NWPF میں سازشوں کے جال بننا شروع کر دئیے! ، دونوں لیڈر گرفتار ہوئے اور عبدالجبار خان نے بعد میں پاکستان سے عہدنامہ کر لیا! مگر اسکے باوجود وہ اندر سے ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے لگا۔! افغانستان کی جانب سے دوراند لائن کی خلاف ورزی ہوئی!جس کا مقصد ان باچاخان اور انکے حامیوں کی سازشوں میں مدد کرنا تھا جس کے نتیجے میں پاکستان نے افغانستان کے اندر بمبارڈمنٹ کی۔! 30 جون 1950 کو House of Common of United Kingdom میں فلپ نوئیل بیکر نے یہ خطاب کیا:

His Majesty’s Government in the United Kingdom has seen with regret the disagreements between the Governments of Pakistan and Afghanistan about the status of the territories on the North West Frontier. It is His Majesty’s Government’s view that Pakistan is in international law the inheritor of the rights and duties of the old Government of India and of his Majesty’s Government in the United Kingdom in these territories and that the Durand Line is the international frontier

جبکہ 1956 میں سیٹو (ساؤتھ ایسٹ ایشیا ٹریٹی اوگانزیشن) نے یہ اعلان کیا:

The members of the Council declared that their governments recognised that the sovereignty of Pakistan extends up to the Durand Line, the international boundary between Pakistan and Afghanistan, and it was consequently affirmed that the Treaty area referred to in Articles IV and VIII of the Treaty includes the area up to that Line.

— SEATO, March 8, 1956

ان بیانوں کی صورت میں پاکستان اپنے علاقے کا حق بجانب ہے۔

اس کے بعد دو بار پاک ہند جنگ ہوئی! جس میں 1971 میں پاکستان کو سقوطِ ڈھاکہ کی صورت میں شدید نقصان اٹھانا پڑا۔! ستر کے آخری سالوں میں جب سویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو پاکستان ہی سے مجاھدین کی فوج تیار کی گئی! جس نے افغانستان میں روسیوں کے خلاف جنگ لڑی۔! اسکے بعد وہی مجاھدین طالبان کی صورت میں بدلے اور پاکستان ہی میں دھشتگردیاں کرنے لگے۔ اس میں سب سے بڑا ہاتھ ہندوستان کا تھا۔ موجودہ دور میں اب جب امریکہ بھی افغانستان سے جانے کی تیاری میں ہے، تو افغانی ہندوستان کے پیسے پر ایک بار پھر اس دوراند لائن کو چیلنج کرنے لگے ہیں۔ وہ لائن جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جا چکا ہے اس پر ایک بار پھر پشتونوں کو بھڑکایا جا رھا ہے۔ جو کہ پاکستان کے اندرونی معاملات کی شدید خلاف ورزی ہے۔

یاد رہے کہ ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان نے خاص کر اپنی افغان مہم کو تیز کر دیا تھا جس کا مقصد افغانیوں کو پیسہ دیکر پشتون کو غداری پر امادہ کیا جائے اور وہ عظیم افغان سلطنت جو احمد شاہ درانی نے قائم کی تھی، اسکو دوبارہ قائم کرنا ہے!

صلاحیت

پاکستان اپنی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کی مکمل طور پر صلاحیت رکھتا ہے اور اسکے لیے اپنے اندر کے غداروں سے نبٹنا بھی جانتا ہے۔ پشتون پاکستان کا حصہ ہیں اور اس کے اس حق سے کوئی چیلیج نہیں کر سکتا کہ یہ پہلے ھی سے عالمی قوانین میں لکھا جا چکا ہے۔ پشتون پاکستان کی غیور قوم ہیں اور ان کا اس علاقے پر اتنا ہی حق ہے جتنا ریاستِ پاکستان انہیں دیتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم و تربیت، کاروبار، تجارت،  ثقافت،  ہنروفن، آزدئ خیالات و اظہار ان کا بنیادی حق ہے اور اس حق سے انہیں کوئی محروم نہیں کر سکتا۔

مگر پاکستان کے اندر کسی بھی قسم کی سازش کو قبول نہیں کیا جا سکتا اور ہم ایسی سازش کو ختم کرنے کے لیے پاکستان، پاکستانی افواج کے ساتھ ہیں – چاہیے  سازشوں کو ختم کرنے کا طریقہ گرفتاریوں کی صورت میں ہوں یا ایسے غداروں کو قتل کرنے کی صورت میں! ایک جانب خود سے بم باندھ کر پولیس ناکوں کو اڑا دینا اور دوسری جانب جا کر “پرامن احتجاج” کرنے سے کوئی بیگناہ نہیں بن جاتا! ایسے دھشگردوں کا صفایا کرنا بہت ضروری ہے! چند ایک ناسور جو بیرونی طاقتوں سے پیسہ لیکر تمام پشتونوں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ اس ملک کے امن کے دشمن ہیں! جیسے باچاخان  ننگِ وطن، غدارِ ملت تھا اسطرح موجودہ دور میں منظورپشتین اور اسکے ساتھ کٹھ پتلیاں ہیں! انکا اہم ترین مقصد سی پیک کو ناکام بنانا بھی ہے!    Pashteen Aur Sazishi Tola

غدار

ہمیں یہ بھی کہنے میں کوئی برملا نہیں کہ وہ صحافی جو ان غداروں کے حق میں بولتے ہیں وہ بھی پاکستان کی رگوں کے ناسور ہیں اور پاکستان کے خلاف غداری کر رہے ہیں۔  پشتون ہمارا اثاثہ ہیں مگر غدار چاہے وہ دھشتگرد پشتون ہوں یا دھشتگردی کو امن کہنے والے صحافی ہوں ہمارے دشمن ہیں انکا صفایا کرنا اس ملک کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے!

اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں کہ منظورپشتون اور محسن داوڑ جیسے لوگ افغان آرمی سے میل ملاپ رکھتے ہیں اور افغان آرمی کو ہندوستان کی سپورٹ حاصل ہے۔ یہ لوگ اسی سازش کا حصہ ہیں جیسی سازش شیخ مجیب الرحمن نے سقوطِ ڈھاکہ سے قبل روا رکھی تھی۔ منظور پشتون اور محسن داوڑ جیسے لوگ افغان آرمی سے پیسہ اور حمایت لیکر جو درحقیقت ہندوستانی مشن کا ایک حصہ ہیں، پاکستان کے افغان سرحدی علاقوں میں دھشتگردیوں میں معاونت کرتے ہیں۔ 

موجودہ پشتون تحفظ تنظیم غداری کی اسی سازش کی ایک کڑی ہے جس کی آبیاری باچاخان اور عبدالجبارخان نے کی تھی۔ ایسی سازشوں کا قلع قمع کرنا پاکستان کا حق ہے کیونکہ دنیا کے ہر ملک میں ایسی سازشوں کو ملیامیٹ کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ برطانیہ نے آئی آر اے کے حریت پسندو کو چن چن کر قتل کیا تھا۔ یا جیسے اسپین نے ایٹا کے ممبران کو چن چن کر قتل کیا تھا۔ پاکستان ریاست ہے اور پشتون اس ریاست کے ویسے ہی شہری ہیں جیسے دوسرے انکے حقوق کا تحفظ ریاستِ پاکستان کی ذمے داری ہے نا کہ ایک پرتشدد دہشتگرد تنظیم کے۔ ایسی تنظیموں کا وجود ختم کرنا ریاستِ پاکستان پر فرض ہے!

Pashtoon, Pashteen, Manzoor Pashtoon, Mohsin Dawarr, Afghan Army, Pakistan

بقلم مسعود


SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.