Current Affairs

Dharna, Shaitaniyat aur Beemari

Dharna, Shaitaniyat aur Beemari

میں پچھلے چند ماہ سے بہت بزی رھا ہوں،! کمپنی کی تاریخ کا سب سے بڑا پروجیکٹ جس میں میں مرکزی کردار تھا،! الحمداللہ زبردست کامیابی سے پورا ہوا۔

اس دوران بہت کم بلاگز لکھنے کا وقت ملا۔

اب وقت ملا ہے تو سوچا کچھ حالاتِ حاضرہ پر بات کی جائے۔

ملا کا دھرنا

ملا فضل الرحمن کا دھرنا بدترین ناکامی کے ساتھ پسپا ہو گیا۔! ایک ایسا دھرنا جس کا کسی قسم کا کوئی قانونی، سماجی، اخلاقی اور معاشرتی جواز نہیں بنتا تھا،! اسے ناکام ہی ہونا تھا۔

اس ناکامی کیساتھ ہی اپوزیشن کا ایک اور حربہ بری طرح ناکام ہوا۔!  الیکشن 2018 کے خلاف اپوزیشن نے ہر ممکنہ کوشش کی کہ اسے ختم کروایا جائے! مگر ہر محاذ پر ناکامی و ذلت کے سوا کچھ نہ ملا،! اسکی یہ ایک آخری کوشش تھی! ایک ایسی کوشش جس میں دین کو مذاق بنایا گیا! دین کو سیاست کے پاؤں کی جوتی بنا کر روندا گیا۔

ملا فضل الرحمن نے اپنی تمام تر سیاسی زندگی میں منافقت! اور حرامزدگی کے علاوہ کچھ نہیں کمایا! اس نے اپنی حتمی الامکان کوشش کی! کہ پاکستان کی عوام کو بہلا پھسلایا جائے! مگر چند ایک ہزار برین واشڈ لوگوں کے سوا کوئی اسکی مکارانہ چالوں میں نہ آیا۔!

ایک ایسا دھرنا جس میں ایک ہی حلقے میں ہارنے اور جیتنے والا کہہ رھا تھا! انکے ساتھ دھاندلی ہوئی اس دھرنے کا مقصد شیطانیت کے سوا کچھ نہیں تھا۔

Dharna, Shaitaniyat aur Beemari

شیطانیت

اور اب اس شیطانیت کا دوسرا روپ سامنے آ ئے گا۔ 

ملا فضل الرحمن اب اپنے کارندوں کو گلی گلی شہر شہر فسادات اور شیطانیت پر اکسائے گا۔ اس کی ایک مثال ابھی حال ہی میں عوامی شاہرائے کو بلاک کر کے نماز نیبت کر سامنے آئے۔ ذرا اس تصور کو دیکھیں:

Dharna, Shaitaniyat aur Beemari

خدائے پاک کی قسم قس طرح عوام کو تکلیف دے کر اگر عبادت بھی کی جائے تو وہ عبادت نہیں ہو گی! وہ شیطانیت کی پزیرائی ہو گی اور شیطان اپنے کارندوں کو طرح طرح سے دین میں برائی پیدا کرنے کو کہتا ہے اسکا ایک مظاہرہ نماز کا یہ طریقہ ہے۔ اسی طرح کی نماز اس شیطان فطرت ملا فضل الرحمن کے بیٹے نے پارلیمان میں نیتی تھی!

ملاؤں کی یہ حرکات دیکھکر سمجھ آتی ہے کہ یورپ میں ایک عرصہ پہلے دین کو سیاست سے الگ اور بیدخل کیوں کر دیا تھا!

یہ ابھی ابتدا ہے! 

ابھی طرح طرح کے شیطانی حربے ملاؤں کی ذہنی پستی جنم دے گی۔

شریفانہ بیماری

دوسری جانب نوازشریف اخلاقی پستگیوں کی انتہا تک پہنچا ہوا ہے۔ جس ملک کو پچھلے چالیس سال سے لوٹا، جس کی دولت سے اپنے حرامخور بیٹوں کو لندن میں سیٹ کرایا، پراپرٹی بنائی اور جس ملک میں دولت کمانے کے لیے بیدردی سے دھوکہ و غبن کیا، وہاں علاج تک کرانا گوارا نہیں – اور علاج کرائے بھی تو کہاں سے کرائے؟ کیا نواز حکومت نے کہیں بھی ایک بھی ایسا اسپتال بنوایا ہے جو کسی بھی ISO کے اسٹینڈرڈ پر پورا اترتا ہو؟

دراصل یہ بھی شریفیوں اور زرداریوں کی بہت دور کی سوچ ہے کہ اگر کبھی کوئی تکلیف آئے تو ایسا ماحول ہونا چاہیے کہ ہمیں ہر حال میں ملک سے نکالا جائے تاکہ باھر جا کر ہم سیاسی پناہ لے لیں۔ 

نوازشریف ابھی بھی اس ملک کی بیوکریسی کے لیے بہت اہم ہے! یہی وجہ ہے کہ طبعی بنیادی پر رات کو اپیل دائر کی گئی اور دوسری صبح قبول بھی کر لی گئ اور اگلی صبح اسکی شنوائی بھی ہونا شروع کر دی جائے – ایسا اس ملک میں کسی کے ساتھ نہیں ہوتا – یا تو دوسرے پاکستانی انسان نہیں – اگر انسان ہیں تو نوازشریف نہین!

پاکستانی عدلیہ گند و گبار اور اخلاقی پسماندگی کی بدترین مثال ہے! ان میں اکثر نوازشریف کے حرام کے پیسوں پر پلے ہوئے پالتو ہیں، جو اب وفائیں پوری کر رہے ہیں۔

اپیل

نوازشریف پہلے بھی کبھی پاکستان نہ اتا وہ صرف اپیل کا حق رکھنے کے لیے آیا تھا، مگر اسکو یہاں وہ کچھ نہ ملا جس کی امید لیکر وہ آیا تھا۔ اب جب اسے کامل یقین ہے کہ اسے این آر او نہیں ملے گا لہذا اب یہاں سے بھاگنا ھی بہتر ہے! اسکے لیے وہ ہر حربہ استعمال کر رھا ہے۔

حکومتِ وقت اسکی رھائی کی ضمن میں ضمانت چاہتی ہے جو کہ اسلام کے عین مطابق ہے! اگر کسی مجرم کو کسی وجہ سے رھائی دی جائے تو اسکے عوض ضمانت دی جاتی ہے۔ کمال ہے کہ شریف خاندان اور کچھ ناسور اور طوائفانہ ذہنیت رکھنے والے صحافی اس کو غلظ کہہ رہے ہیں۔

خواجہ آصف پارلیمان میں کھڑے ہو کر کہتا ہے کہ نوازشریف بیس کڑوڑ لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں، او میاں کہاں ہیں وہ بیس کڑوڑ؟ کیا وہ ایک ایک روپیہ جمع کر کے ضمانت نہیں دے سکتے ؟ باتوں نہ کروں کھوجو عملا کچھ کر کے دکھاؤ! تم لوگ ہمیشہ لفظوں کا کھاتے آئے ہوئے!

نوازشریف کا اگلا ھدف لندن میں بیٹھ کر سیاسی پراپوگنڈا کرنا ہے۔ 

Nawaz Sharif illness, Mulla Fazal ur Rehman dharna, Islamabad, Pakistan


بقلم مسعودؔ

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment