Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Rehmat Key Badal

Meri Shairi: Rehmat Key Badal

Meri Shairi: Rehmat Key Badal

رحمت کے بادل

پیاسی ہے من کی دھرتی دو بوند برسا جا
اے رحمت کے بادل اِدھر بھی تو آ جا

بنجر زمین میں کوئی پھول نہیں کھلتا
بچھڑے جو ایک بار کبھی نہیں ملتا
میری آس نہ ٹوٹے مجھے شکل دکھا جا
اے رحمت کے بادل ادھر بھی تو آ جا

ٹوٹی ہیں آہیں میری بکھری ہیں آسیں
جنموں کی دھوپ میں بڑھتی رہیں پیاسیں
کہیں پیاسی نہ مر جاؤں مری پیاس بجھا جا
اے رحمت کے بادل ادھر بھی تو آ جا

یہ خواب ہیں میرے کہ صحراؤں کے سراب
غموں کی تپتی دھوپ میں یادوں کے عذاب
میں ٹوٹ رہی ہوں مجھے من میں سما جا
اے رحمت کے بادل ادھر بھی تو آ جا

مسعود

Meri Shairi: Rehmat Key Badal

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment