آسمان

یہ زمین سوئی تھی نیند میں یہاں لا کے مجھ کو بسا گئے

Basheer Bdr - Aasman
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#0C1C76″ border_width=”5″ border_color=”#FFFFFF” ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آسمان [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#9195FF” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

یہ زمین سوئی تھی نیند میں یہاں لا کے مجھ کو بسا گئے
وہ چمکتی دھوپ کی شال پر مرے دل کے پھول سجا گئے

کسی رات برف کی اوٹ سے نئی آگ لے کے وہ آئیں گے
اگر آج دھوپ کی گود میں وہ گلاب اپنے سُلا گئے

کئی لوگ آگ کے پھول ہیں ذرا دور ہوں تو چمن چمن
جہاں مسکرا کے گلے لگے دل و جاں میں آگ لگا گئے

یہ ہنسی بھی کوئی نقاب ہے جہاں چاہا ہم نے گرا لیا
کبھی اس کا درد چھپا گئے کبھی اپنا درد چھپا گئے

وہاں سات چولہے، انگیٹھیاں بجھے مرد و عورتیں بچیاں
جہاں شام آئی تو سات گھر اسی ایک گھر میں سما گئے

مرے دائیں ہاتھ کی انگلیاں تو اندھیری رات کی شمعیں ہیں
یہ بدن تمام ہے موم کا وہ اسی لئے تو جلا گئے

کئی راج محلوں کے راجگاں لئے ساتھ میوؤں کی برفیاں
کبھی آج تک جو بنی نہیں اسی مورتی پہ چڑھا گئے

ابھی رات پھولوں کی کار میں یہاں ایک آئے تھے پیر جی
ہمیں بعد مرگ ملے گا کیا وہ تمام نقشے کھا گئے

یہ زمین سوئی تھی نیند میں یہاں لا کے مجھ کو بسا گئے

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW