آسمان

تیر نظروں کے تو پلکوں کی کماں رکھے ہوں

Basheer Bdr - Aasman
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آسمان

تیر نظروں کے تو پلکوں کی کماں رکھے ہوں
ان کی کیا بات ہے پھولوں کی زباں رکھے ہیں

ہم تو آنکھوں میں سنورتے ہیں وہیں سنوریں گے
ہم نہیں جانتے آئینے کہاں رکھے ہیں

اپنے قاتل بھی اسی روز سے شرمندہ ہیں
ہم بھی خاموش بہت اپنی زباں رکھے ہیں

دل کبھی ریت کا ساحل نہیں ہونے دیتے
ہم نے محفوظ وہ قدموں کے نشاں رکھے ہیں

جن پہ تحریر ہے بچپن کی محبت اپنی
اب مرے گھر کے وہ دروازے کہاں رکھے ہیں

تیر نظروں کے تو پلکوں کی کماں رکھے ہوں


urdubazm

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW