Columns

اگر تم واقعی مومن ہو

اگر تم واقعی مومن ہو

عزت مآب محترمی و مکرمی جنابِ اعلیٰ حضرت جنرل سید عاصم منیر حافظِ قرآن  فرماتے ہیں کہ:

“اللہ تعالی ہمیں سورۃ آلِ عمران کی آیت نمبر 139 میں یاد دلاتا ہے کہ: مت ڈرو، فکر نہ کرو اور تم ہی فتح میں برتر ہو گے اگر تم واقعی مومن ہو”

اگر تم واقعی مومن ہو

انسانی دنیا کی موجودہ صورتحا ل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک لمحہ بھر کے لیے دل ایمان کی حرارت سے جوش و ولولے میں آگیا کہ دنیا کی ساتویں بڑی اور طاقتورترین فوج اور اسلامی دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور اور ؤاحد ایٹمی طاقت رکھنے والی فوج کے سربراہ اپنے جوانوں کو قرآن کی آیات سنا کرانکا خون گرما رہے ہیں کہ تم ہی فتح یاب ہو گے ڈرتے کیوں ہو؟ جب اللہ قرآن میں کہہ رہا ہے تو خوف کیسا؟ حذر کیسا؟ ملال کیسا؟

پچہتر سالوں سے فلسطین کے مسلمانوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی جارہی ہے۔ایک ایسا فلسطین جوصدیوں سے امن کا گہوارہ تھا،جہاں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ایک عرصے سے یہودی اور عیسائی امن کی زندگی گزار رہے تھے۔ پھر ہٹلر آیا جس نے یورپ میں یہودیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ یہودی یورپ کی اقتصادیات پر قابض تھا اور معیشت کی رگوں پر انگلی رکھے ہوئے تھا۔ جس سے یورپئین معاشرے میں سہوکاری اور سودکاری کی وجہ سےایک زبردست اونچ نیچ پیدا ہو چکی تھی۔ بنکاری سسٹم پر یہودی قابض تھا۔ ہٹلر نے دیکھا کہ عام جرمن معیشت کی اس اونچ نیچ کے نیچے دب چکا ہے تو اس نے اسکا سدباب کرنے کا سوچا، جس میں وہ حدوں سے آگے گزر گیا اور یہودیوں کا قتل شروع کردیا۔

مگر ہٹلر یہودیوں کے قتل اور انکی نسل کشی کا اکیلا مجرم نہیں۔ اہلِ یورپ جو آج کل ہولوکاسٹ کو نشانِ بربریت بنا کر پراپوگنڈے کر رہے ہیں وہ سب کے سب یہودیوں کے وجود سے ایک مدت سے متنفر تھے اور یہودیوں کے کسی طرح یورپ سے نکالے جانے کے خواہاں تھے۔ دو بار اہل یورپ کے دانشور یہ پروگرام بنا چکے تھے کہ یہودیوں کو یورپ سے نکال کر یا تو مدغاسکر کے جزیرے میں آباد کر دیا جائے یا پھر یورپ کے پسماندہ علاقوں میں ایک  reservation بناکر انہیں اس میں مقید کر دیا جائے کہ وہ اس علاقے سے باہر نہیں نکل سکتے۔ بالکل ایسے جیسے یورپئین امریکیوں نے امریکہ پر قبضہ کرنے کے بعد Native Americans کو قید کر دیا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے روس نے یہودیوں کے ایک بہت بڑی تعداد کو مغربی روس سے deport کر کے اپنے اس غیرآباد علاقے جو چین کی سرحد سے ملتا ہے اور جہاں کوئی انسان نہیں بستا تھا وہاں جا بسر کیا۔ ابھی تک وہ یہودی وہیں آباد ہیں۔

مگر بدقسمتی سے یہودیوں کا یورپ سے انخلأ ہوا بھی تو کیسے کہ برطانوی شیطانوں نے فلسطین جو اس وقت انکے قبضے میں تھا، وہاں جا آباد کیا۔ برطانوی اور امریکی شیطانوں نے ان بچے بچائے یہودیوں کی بھرپور مدد کرنے کا اعیادہ کیا۔ چاہےوہ مدد پیسے سے ہو یا عسکری قوت سے۔ اسی لیے مغرب کی نوے فیصد کمپنیوں پر فرض کیا گیا انکے  turn  over کا ایک خاص فیصد حصہ یہودیوں کو جائے گا۔ امریکہ ،جو دوسری جنگِ عظیم میں جرمنی کے خلاف اس وقت جنگ میں داخل ہوا جب یورپ کے یہودیوں نے اپنی دولت کے دریا انکے لیے بہا دئیے کہ ہماری نسلوں کو ہٹلر سے بچالو! امریکہ نے پچھلے 75 سالوں سے ان یہودیوں کی بھرپور فوجی اور مالی مدد کی ہے اور کر رہے ہیں۔ وہ یہودیوں کی جانب سے کی جانے والی ہر بربریت سے نظر چرا لیتے ہیں اور اسے جائز قرار دے دیتے ہیں۔ تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ اسی کے ابتدائی سالوں میں فلسطینی اور لبنانی مہاجروں کا ایک بہت بڑا گروپ لبنان میں دو خیموں صابرہ اور شطیلہ میں مقیم تھا جس پر یہودیوں نے بلڈوزروں سے چڑھائی کر کے اسے ملیا میٹ کر دیا – مگر امریکیوں اور مغربی شیطانوں نے اس پر سے بھی نظر چرا لی!

پچھلے چند ماہ سے حماس اور یہودیوں کے درمیان شدید جنگ چل رہی ہے مگر مسلمانوں کے تمام کے تمام ممالک اپنی اپنی کھڈوں میں چپ چاپ بیٹھ کر تماشا دیکھ رہے ہیں۔ 57 اسلامی ممالک کی فوجیں ہاتھوں میں چوڑیاں پہنے چپ چاپ بیٹھی ہیں۔یہودیوں کے خلاف جنگ تو دور کی بات، کسی میں جرأت نہیں ہو رہی کہ وہ سرعام آ کر کہے کہ ہم یہودیوں کے اس عمل کے خلاف ہیں اور اگر اس عمل کو روکا نہ گیا تو اسکے نتائج سیرئس ہونگے۔

ایسے میں اسلامی دنیا کی سب سے طاقتور اور واحد ایٹمی طاقت رکھنے والی فوج کا سربراہ جب قرآنی آیات سے اپنے جوانوں کا خون گرما رہا ہےتو ہمیں انکے ساتھ جہاد کا ارادہ کرنا چاہیے۔ ہم بھی جہاد پر چلے گے آپ کے ساتھ جنرل منیر صاحب! تو بتائیے آپ کب یہودیوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر رہے ہیں؟ گھبرا کیوں رہے ہیں؟ ڈر کیوں رہے ہیں؟ فکر کیوں کر رہے ہیں؟ فتخ تمہاری ہو گی! اگر تم مومن ہو!   عزت مآب ! محترمی و مکرمی!جنابِ اعلیٰ! حضرت حافظِ قرآن صاحب! کیا ہم عنقریب فلسطین فتخ کرنے جا رہے ہیں؟

قرآن پر یقین رکھتے ہیں اور قرآنی آیات سے اپنے جوانوں کا خون گرما رہے ہیں مگر یہودیوں کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں کر رہے؟ کیوں؟ اس لیے کہ یہ آپ کی جنگ نہیں؟ فلسطین میں مرنے، قتل ہونے، تباہ و برباد ہونے  والوں کا آپ سے کوئی تعلق نہیں؟  مسجدِ اقصیٰ کے ساتھ جو طوفانِ بدتمیزی ہوتی ہے وہ بھی آپ کا مسئلہ نہیں؟ مسلمان عبادت کرنے سے روکے جارہے ہیں یہ بھی آپ کا مسئلہ نہیں؟

چلیں مان لیا کہ نہیں!

تو یہ فرمان کر دیجیے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر  ہندوستان کے خلاف جہاد کا اعلان کب کر رہے ہیں؟ کب ہم یہ دوسرا مسئلہ جس نے پچھلے 75 سالوں سے امتِ مسلمہ کا خون پانی کی طرح بہایا ہے اس پر اعلانِ جہاد کب کر رہے ہیں؟ یہ تو آپ کا مسئلہ ہے! کہ نہیں؟ اس مسئلہ ہی کو بنیاد بنا کر آپ کی آرمی نےپچھلے 75 سالوں سے اس ملک کی سیاست کی اینٹ سے اینٹ بجائی ہے تو یہ تو آپ کی ریڑھ کی ہڈی کا مسئلہ ہونا چاہیے۔حکومتوں کے تختے الٹے ہیں آپ نے، اوراس پر تو ہم آج بھی جنگی حالت میں ہیں کہ نہیں؟ اگر یہ بھی آپ کا مسئلہ نہیں اور یہ بھی آپ کے قرآنی آیات کے مطابق “مومن” ہونے میں نہیں آتا تو وہ شب و روز جو باڈر پر دشمن کی فائرنگ سے نقصان ہو رہا ہےکہ اسکا جواب کون دے گا؟ وہ ہزاروں جانباز جو کشمیر میں موت کے گھاٹ اتارے گئے ہیں انکا خون کس کے کندھوں پر ہے؟ اگر وہ شہید ہیں تو قرآن کی ان آیات جو آپ نے سنائی ہیں اسکے مطابق آپ پر کشمیر پر جہاد فرض نہیں؟

اگر فلسطین، کشمیر  اور دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ہونے والے جبروستم اور استبداد بھی ان آیات کے ضمرے میں نہیں آتے کہ  تو ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ آپ کا جوانوں کا خون گرمانا صرف اور صرف پاکستانی عوام پر جبروستم کے پہاڑ توڑنے تک محدود ہے۔ Screenshot 2023 12 03 042210اور خاص کر وہ پاکستانی جو آپ کی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ جو آپ کا سیاسی امور میں عمل و دخل پر سوال اٹھاتے ہیں۔ آپ کا اس ملک کی تباہی و بربادی میں جو کردار رہا ہے اور ہے اس پر انصاف مانگنا ہے۔وہ نہتے صحافی جو آپ کے کردار پر قلم اٹھاتے ہیں ! ذرا ایک بار اس ٹویٹ پر نظرثانی کیجیے۔ جس ملک میں عورت کی عزت محفوظ نہیں، جس ملک میں انسانیت کی تذلیل فقظ اس لیے کی جائے کہ وہ آپ کے پالیسیوں کے خلاف ہیں، اس ملک میں قرآنی آیات کو حوالہ دینا شدید ترین مفافقت ہے! 

اور آپ کے اس عتاب کا شکار ایک خاص سیاسی جماعت ہے اور آپ کاقرآنی سبق فقط انکو اپنے راستے سے ہٹانے تک محدود ہے کیونکہ وہ دنیا کی سیاست میں مغربی ناخداؤں کو پسند نہیں۔ کیونکہ اس نے امریکہ کو Absolutely Not کہہ کر پاکستان سے اپنی ملڑی بیسز کو ختم کرنے کا کہا! وہ اور اسکی سیاسی جماعت جو پاکستان میں پاکستان کے فیصلے خود کرنے کا خواہاں تھا۔یا پھر آپ کی جنگ صرف ان لوگوں تک محدود ہے جنہیں آپ دہشتگرد کہتے ہیں!!!

بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم شدید حد تک منافق لوگ ہیں۔ ہم جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں اور جو کرتے وہ ہیں جو ہمارے اعمال سے مماثلت نہیں رکھتے۔ ہم نے اللہ، اللہ کے رسول ﷺ اور اللہ کے قرآن کو فقط اپنے مفادات حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا ہے، نہ اللہ کے احکامات پر عمل کیا ہے، نہ رسول ﷺ کی سیرت پر عمل کیا ہے اور قرآنی آیات کو فقط اپنی منافقت چپھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔ ورنہ جو الفاظ آپ نے کہے ہیں اور جن پر آپ نے اپنے جوانوں کا خون گرمایا ہے اسکے تحت دنیا کے ہر اس نظام کے خلاف جہاد فرض ہو جاتا ہے جہاں اسلام کے تضحیک کی جاتی ہے۔ کشمیر، فلسطین، برما اور جہاں جہاں مسلمانوں کا قتل ہوا ہے اس سے آپ کو کوئی غرض نہیں کیونکہ آپ اپنے مغربی آقاؤں کے سامنے بے بس ہیں!!!!!


تحریر: مسعود

Pegham Columns

About the author

Masood

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW