Current Affairs

America Dissolved IK Government

America Dissolved IK Government

America Dissolved IK Government

عمران خان کی حکومت ختم کر دی گئی!

میرے پاس لکھنے کو الفاظ نہیں! America Dissolved IK Government America Dissolved IK Government America Dissolved IK Government

کیسے لکھوں کہ پاکستان نے ایک ایسا لیڈر کھو دیا ہے جس نے اس ملک کی غریب اور پسی ہوا عوام کو اٹھانے کی کوشش کی ، کیسے لکھوں کہ اس عوام  نے ایک ایسا لیڈر کھو دیا جس نے اس ملک کو مغربی طاقتوں کی نظروں میں ایک غیرت مند، جرأت مند اور باوقار قوم بنانے کی کوشش کی! کیسے لکھوں کہ اس قوم نے وہ لیڈر کھو دیا جس نے مغرب کو یہ باور کروایا کہ نبی پاک ﷺ کی ذاتِ اقدس پر حملہ ہو تو ہمیں کیا تکلیف ہوتی ہے۔ 

کیسے لکھوں کہ اس ملک نے وہ لیڈر کھو دیا جو مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باتیں کرتا تھا!

کیسے لکھوں کہ اس قوم نے وہ لیڈر کھو دیا جس نے شریفیوں اور زرداریوں کے کرتوتوں کو بے نقاب کر دیا۔ اور ان کو اسقدر مجبور ومقدور کر دیا کہ وہ ایک دوسرے کے پاؤں چاٹنے پر مجبور ہوگئے کہ ہمیں ایک ہوکر اپنے کالے کرتوت بچانے ہونگے ورنہ تباہی ہی ہمارا مقدر ہو گئی!

اور ایسا ہی ہوا کہ بلاول کو اپنی ماں کو اخباروں میں ننگا کر نے والے بے غیرت، ناسور، بدکردار اور ذلیل و رسوا لوگوں کے آم چوسنے پڑے۔ 

کیسے لکھوں کہ اس ملک کی سپریم کورٹ پر حملے کر کے اپنی دھشتگردسیاست کو چمکانے والوں کے لیے یہی سپریم کورٹ رات گئے سیشن لگا کر ان کے من مانی کے فیصلے دیتی رہی۔ کیسے لکھوں کہ آج مجھے ایک طوائف کا جسم پاکستان کی سپریم کورٹ کے ججز کے وجود سے زیادہ پارسا اور نیک لگنے لگا ہے!

کیسے لکھوں کہ الیکشن میں بری طرح مات کھانے والے حرامزادے چوردروازے سے ایک عوامی حکومت کو ہلانے میں کامیاب ہو گئے اور وہی حرامزادے جو پچھلے پچاس سالوں سے اس قوم کو لوٹتے رہے وہی پھر سے برسرِاقتدار آ گئے! کیسے لکھوں کہ یہ ایک کڑوڑ ارسٹھ لاکھ ووٹرز کے منہ پر زبردست تمانچہ ہے کہ اس غلیظ نظام میں کیا کیا چوردروازہ موجود ہے کہ انکے ووٹ پر ایک شام میں ایک پل میں تھوک کر بے مول کر دیا گیا ہے!

کیسے لکھوں کہ ایک نام نہاد اسلامی معاشرے میں انسان کے بنائے ہوئے آئین جس میں انسان ہی نے اپنی اپنی منشا کے مطابق بیس بار ترمیم کی ہو یکدم اسکا تقدس فرض اولین بن گیا!  انسانی ہاتھ کا لکھا ہوا آئین کوئی آئین خدا نہیں کہ اسکو بدلا نہ جا سکے یا اسکو ختم نہ کیا جاسکے۔ اسکی مثال یہی ملک ہے جس کو انہی ناسوروں پر مبنی حکومتوں نے پہلے بیسیوں بار ترمیم کی ہے۔

America Dissolved IK Government

لیکن سچ ضرور لکھوں بیشک سچ کڑوا اور ہضم نہیں ہونے والا۔ اور سچ یہ ہے کہ۔۔۔۔

پاکستان دراصل بائیس کڑوڑ افراد کا ایک مردہ معاشرہ ہے جس میں ہرفرد فقظ اپنی ذات کے لیے جینے کا عادی ہو چکاہے۔ یہ وہ معاشرہ ہےجس میں اپنے گھر سے باہر تمام دنیا غیر ہے اور اس غیر دنیا کو شکست دینےکے لیے ہم ہر حربہ استعمال کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ ہمیں اس بات سے رتی برابر غرض نہیں کہ ہمیں پیسہ کہاں سے مل رہا ہے، بس پیسہ ملنا چاہیے! ہمیں راتوں رات امیر اور دولتمند ہونے کی خواہش ہے۔ اور اس خواہش کو پورا کرنے کےلیے ہم ہرغیر اخلاقی حرکت کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔

ہمیں اللہ کا خوف ہے ہی نہیں! جو بھی خوف ہے ہمیں اس بات کا ہے کہ کہیں ہمارے آقا ہم سے ناراض نہ ہو جائیں۔ اپنےآقاؤں کو خوش رکھنے کے لیے ہم ہر طرح کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ افراد جو سیاست سے وابستہ  ہیں وہ اپنا ضمیر بیچنے میں رتی برابر تردد نہیں کرتے اور رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی اپنا ضمیر بیچتے ہیں۔ کیونکہ انہیں اللہ کا خوف نہیں مالکوں کاخوف ہے!

یہ وہ سیاست ہے جس کا آغاز چھانگا مانگا سے نوازشریف نے کیا تھا اور جس پر زرداریوں نے لبیک کہا! یہ دونوں بدمعاش اور بدکماش سیاسی جماعتیں اپنے مفاد کے لیے اس ملک کو بھی گروی رکھوا سکتی ہیں۔ America Dissolved IK Government

درحقیقت ہمارے معاشرے میں کرپشن کی بیماری اسقدر جڑ پکڑ چکی ہے کہ وہ دودھ بیچنے والا بھی کرپٹ ہے جو دودھ میں پانی ملا کر بیچتا ہے! وہ ریڑھی والا بھی کرپٹ ہےجو ریڑھی پر کھڑا ہو کر ترازو میں ڈنڈی مارتا ہے۔ اور اسی طرح وہ چپڑاسی بھی کرپٹ ہےجو قطار سے بچنے اور جلد کام کروانے کے لیے پیسے لیکر سسٹم کو مس یوز کرتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارا ایمان اسقدر کمزور ہوچکا ہے کہ ہم اسے اپنے لیے جائز سمجھ بیٹھے ہیں۔اور یہ کہتے ہیں یہاں سب چلتا ہے! جب سب چلتا ہے پر معاشرے کی تعمیر ہوگی تو وہ معاشرہ بیمار، بے جان،کھوکھلا اور حرامخور ہوگا! بدقسمتی سے ہمارے ہاں 95 فیصد لوگ اس طرح زندگی گزار رہے ہیں!

ضعف الایمانی کی یہ صورتحال ہے کہ اس عام سطح پر ہونے والی کرپشن، حرامخوری اور بے ایمانی کو ہم اپنی زندگی کا عام حصہ سمجھ بیٹھے ہیں ۔ یہاں تک کہ عدالتوں میں قرآن پر ہاتھ رکھکر جھوٹی گواہیوں کو بھی ہم اپنے لیےحلال سمجھتے ہیں۔بدقسمتی سے یہی کرپشن معاشرے کے تمام لیول میں پھیلی ہوئی ہے۔

اور عمران خان کا قصور یہ تھا کہ وہ ان تمام کے تمام ناسوروں کے خلاف آواز اٹھا بیٹھا تھا! اس نے اس قوم کو ان ناسوروں کے چنگل سے چھڑانے کے لیے کوشش کی! اس نے مافیاز کے خلاف آواز اٹھائی اور اپنے بہترین ترین دوست کو جسکی وجہ سے اسکی حکومت بنی تھی، اسے ناراض کر بیٹھا۔ عمران خان کا قصور یہ تھا کہ اس نے زرداریوں اور شریفیوں اور فضلوؤں کے استبداد سے نکالنے کے لیے اس قوم کو تعلیم کی طرف لانے کی کوشش کی! اس معاشرے سے کرپٹ گند صاف کرنے کی کوشش کی!

عمران خان کا قصور یہ تھا کہ اس نےسول حکومت اور آرمی کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیا تاکہ کوئی اندرونی یا بیرونی ناسور اس ملک کی سلامتی پر بھونک نہ سکے۔ عمران خان کا قصور یہ تھا کہ اس نےپاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کو بہتر کرنے کی کوشش کی جو کہ امریکہ ناخدا کو پسند نہ آئی!

اور اسی امریکہ ناسور نے پاکستانی ناسوروں کو حرکت دی اور پاکستانی ناسوروں نے اپنے ناخداؤں کو خوش کرنےکے لیے عمران خان کی حکومت ختم کر دی!

پاکستان امریکہ کی طوائف ہے! اور یہ طوائف اس وقت تک امریکہ کے سامنے ناچتی رہے گی جب تک اس ملک میں شریفی، زرداری اور فضلو قسم کے لوگ موجود ہیں!

کیسے لکھوں کہ پاکستان نے ایک عظیم لیڈر کھو دیا!

America Dissolved IK Government America Dissolved IK Government America Dissolved IK Government America Dissolved IK Government America Dissolved IK Government America Dissolved IK Government


بقلم: مسعود

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW