Current Affairs

Tum Jug Jug Jiyo Maharaj

Tum Jug Jug Jiyo Maharaj

Tum Jug Jug Jiyo Maharaj

ایک عرصۂ دراز سے نجی مصروفیات، کوڈ19، کئی ایک پروجیکٹس کی بنا پر کوئی بلاگ نہ لکھ سکا! اور اس دوران وطں عزیز کی سیاست میں کافی ہلچل رہی۔

کچھ عرصہ پہلے مریم نواز کو نیب عدالت نے بلایا!

محترمہ نے نیب عدالت میں پیش ہونے سے قبل اپنے نون لیگی غنڈوں کو تیار کیا! اور نیب عدالت پہنچ کر ایک طوفانِ بدتمیزی برپا کرایا۔! مریم نواز کی اس حرکت سے 1996 کے اس واقعہ کی یاد تازہ ہو گئی جب اس کے والد نوازشریف نے خود پر لگے ایک الزام کا سامنا کرنے کی بجائے اپنے انہی غنڈوں کو تیار کیا! اور پاکستان کی سپریم کورت پر حملہ کر دیا۔ کسی بھی ملک کی سپریم عدالت پر حملہ دھشتگردی، لاقانونیت اور جرم کی بدترین مثال ہوتی ہے۔!

یہ جرم بذاتِ خود اس قدر سنگین جرم ہے کہ اسکی پاداش میں نوازشریف کو دھشتگرد قرار دیکر اسکو جیل ہونی چاہیے تھی! اور اسکی پارٹی کو کالعدم قرار دیا جانا چاہیے تھا مگر صاحب یہ پاکستان ہے!

اور نوازشریف نے چھانگا مانگا کے جنگلوں میں اور مری کے پرتعیشش ہوٹلوں میں جو ضمیروں کی خریداری کے کھیل کھیلا تھا! جسکو یہ سیاست کہتا تھا، اس نے اس عدالتی نظام کو اسقدر مفلوج کر دیا! کہ عدالتیں انصاف کرنے کی بجائے جرائم کی ماں بن گئی! یوں کوئی جتنا بڑا مجرم ہوگا! یہ عدالتیں اسکو اتنی بہتر ریلیف دیتی رہیں – تو نوازشریف کو سزا کیسے ہو سکتی تھی؟ اسی طرح ملک کے کسی بھی ادارے پر کسی بھی قسم کا حملہ کرنا لاقانونیت کے ضمرے میں آتے ہوئے قابلِ سزا ہے! مگر مریم بی بی  اسی ادارے کو برا بھلا کہتی ہوئی بچ گئی۔

کرپشن کے کیسز کے سلسلے میں نوازشریف کو سزا ہوئی۔

اس دوران نوازشریف نے اپنے نام نہاد ڈاکٹر سے اپنی من مانی کی رپورٹس لکھوا کر جیل  سے چھ ہفتوں کا استثنا مانگا! مگر علاج کرانے کی بجائے ججز کے ضمیروں کو خریدنے کا دھندا پھر سے شروع کر دیا۔! اس دوران مریم نواز نے گاڈفادرز کی روش پر جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو ریلیز کر دی۔!  نوازشریف نے اپنی حالت کو شدید نازک بیان کرتے ہوئے چھ ماہ کی رخصت لیکر لندن چلا گیا اور اب تقریبا ایک سال ہونے کو ہے وہ واپس نہیں گیا۔!

اس دوران لندن میں اپنی بھرپور سیاسی کاموں میں مصروف نظر آیا۔ عدالت نے اسے واپس آ کر گرفتاری پیش کرنے کا حکم دیا جس کو اسنے اپنے پاؤں میں روند ڈالا، پاکستان کے ہائی کمیشن سے وارنٹ قبول کرنے سے انکار کر دیا،! جسکے بعد عدالت نے اسے اشتہاری قرار دیدیا۔ لہذا اسوقت نوازشریف پاکستان کا مجرم ہے اور اشتہاری ہے!

ادھر سن آف زرداری اپنے باپ اور خاندان کی کرپشن کو بچانے کے لیے! دن رات  ایک کڑوڑ سترلاکھ ووٹوں سے منتخب وزیراعظم کو سلیکٹڈ سلیکٹڈ کہتے ہوئے مصروفِ کار ہے!  جبکہ ایک نام نہاد ملا یعنی فضل الرحمن دو سال سے اقتدار سے باہر رہنے کی وجہ سے سٹھیا چکا ہے اور اپنی حتمی الامکان کوشش میں ہے! کہ کسی طرح سے اقتدارخانوں میں قبول کر لیا جائے – اس کے لیے یہاں تک بیان بازی کی جا چکی ہےکہ  ‘ہمیں عمران خان بھی قبول ہے اگر وہ ہماری بات مان لے’ – یعنی کچھ خاص لوگوں کو این آر او دیدے۔

جبکہ ادھر وزیراعظم عمران خان ہے جس نے حلفیہ کہہ رکھا ہے کہ میری حکومت ختم ہو جائے میری جان چلی جائے مگر میں انکو این آر او نہیں دونگا۔

یہاں پر کچھ  قلمکاری اس پر بھی کرتا چلوں کہ جب سے عمران خان کی حکومت بنی ہے،! اسکو ایک کے بعد دوسری آزمائش سے گزرنا پڑ رہا ہے۔! ان آزمائشوں میں جہاں کوڈ19، سابقہ حکومتوں کی ناقص پالیسیوں، بگڑی ہوئی معیشت، خارجہ پالیسیوں نے اہم کردار ادا کیا ہے! وہاں ان میں سب سے بڑی اور کڑی آزمائش ایک جاھل اور نابلد اپوزیشن ہے! جس نے ہر وہ بیہودہ طریقہ روا رکھا ہے کہ موجودہ حکومت نہ چل پائے۔ !

ملافضل الرحمن  جب سے حکومت سے دھتکارا  گیا ہے! اور جب سے اسکے بیٹے کو کوئی عہدہ نہیں ملا، اسنے ہر غیر اخلاقی، غیر مذہبی طور پر اپنی ناکام کوشش کی کہ حکومت کی راہ میں کانٹے بکھیرے جائیں: کبھی  پارلیمنٹ کے ڈیسک کے سامنے نماز، کبھی ملکی شاہراہوں کو بلاک کے ان پر نمازیں، کبھی ‘اسلام خطرے میں ہے’ کا چونچلا اور کبھی کچھ۔۔۔ یہ سب اپنے خلاف الزامات کو دبانے کی کوشش۔

اسی ملا نے کئی ایک مقام پر کوشش کی کہ دوسری ناکام جماعتوں کو ساتھ لیکر ہلڑبازی کی جائے! ملک نظام کر درھم برھم کیا جائے مگر اکثر اسے ناکامی ہوئی۔

یہاں تک کہ ایسی اپوزیشن نے اپنی بھرپور کوشش کی کہ FATF Bill پاس نہ ہو اور پاکستان معاشی طور پر ٹوٹ جائے۔! اس ضمن میں پارلیمنٹ میں اس بل جسکی ناکامی پاکستان کی سالمیت کے لیے خطرے سے کم نہ تھی،! اس اپوزیشن نے ناکام کرانے کی بھرپورکوشش کی۔  مگر بل تو پاس ہو گیا اور پھر اپنی ناکامیوں کو اکٹھا کرنے کے لیے بروزہفتہ  19 ستمبرکو کل پارٹی کانفرنس بلا لی۔! جس کا مقصد  ملک میں تشدد، لاقانونیت، بے راہ روی، جرائم، ہنگاموں، دھرنوں  اور مارچ کو عام کیا جائے! تاکہ ملک کا نظام خراب کیا جا سکے۔

یہ APC جس کا مقصد پاکستان کو ایک جابر، ظالم اور ہٹلرنما حکمران عمران خان سے نجات دلانا ہے، کیونکہ وہ کسی قسم کا این آر اور نہیں دے رہا،! اور ان جرام پیشہ لوگوں کے کرپشن کے کیسس کم نہیں کر رھا، پاکستان پیپلزپارٹی کے ایما پر اکٹھی ہوئی اور اس میں  پاکستان کے مجرم اور اشتہاری نوازشریف کو برائے ویڈیو لندن سے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔! اس میں نوازشریف نے بحسبِ عادت کیا زہر اگلا یہ آپ خود سن لیجیے:

بظاہر ہندوستان سے لکھوایا ہوا یہ خطاب کسی بھی طور ایک ایسے انسان کو زیب نہیں دیتا جو اس ملک میں تین بار وزیراعظم رہ چکا ہے! اور جسکی ناہنجار بیٹی سیاست میں آنے کے خواب دیکھتی ہے۔  مگر یہ تقریر ساتھ ہی نوازشریف کی فطرت کی عکاسی کرتی ہے۔ بوٹوں کی ٹو چاٹ کر ملکی سیاست کو غلیظ کرنے میں نوازشریف سرفہرست ہے! اور پھر جب جس تھالی میں کھاتا رہا ہے اسی میں تھوکتا بھی رہا ہے۔ یہی تربیت اسنے اپنی بیٹی کی ہے!

اے پی سی کے بعد ملکی سیاست میں ایک بھونچال مچ گیا! اور خاص کر صحافیوں کے اس گروہ میں جن کے لفافوں کا حجم اس کرپٹ اپوزیشن کی وجہ سے کافی وسیع ہے،! ان میں ہلچل مچ گئی۔! پروگرام پر پروگرام، کالمنز پر کالمنز لکھے گئے ٹویٹ پر ٹویٹ ہوئیں کہ اب حکومت کی خیر نہیں۔ اب حکومت مرنے کے قریب ہے اور یہ اپوزیشن رحمت کا بادل بن کر برسنے والی ہے۔

منافقت کی سوچ پر رکھی گئی بنیاد کبھی مضبوط نہیں ہوتی اور پاکستانی اپوزیشن مفافقت کی بدترین مثال ہے۔

نوازشریف نے چھپ چھپا کر اپنا ایک ایلچی،! سابق گورنرسندھ محمدزبیر افواجِ پاکستان کے سربراہ قمرجاویدباجوہ کے پاس بھیجا، ! جس نے باجوہ سے دو ملاقاتیں کی۔! ان ملاقاتوں کا لب لباب نوازشریف اور مریم نوازشریف تھا! اس سے زیادہ کوئی بات سامنے نہیں آئی مگر یہ کسی بھی قسم کی ڈھکی چھپی بات نہیں! کہ  شریفیوں کے ساری عمر کی  ‘سیاست’ کا نچوڑ بوٹوں کی ٹو چاٹنا ہے اور انکی انگلیاں پکڑ کر سیاست کرنا ہے۔! 

نوازشریف نے کبھی سیاست کی ہی نہیں! نوازشریف کو سیاست آتی ہی نہیں!

وہ  ایک سرمایہ دار کا کندذہن بچہ تھا! جسے جنرل ضیا نے سڑکوں سے اٹھا کر وزیرِ خزانہ جیسے اہم عہدے پر لگا دیا۔!! اس عہدے کا اس نے خوب فائدہ اٹھایا اور چھانگامانگا سے لیکر مری کے ہوٹلوں تک اشرافیہ اور بیوکریسی کے ضمیرخریدے،! انکے کردار مفلوج کیے اور انکی زبانیں بند کیں۔! اس پر اس نے بے تحاشہ کرپشن کی اور ملکی اداروں کو خوب کمزور کا بدفعال بنایا۔! لاقانیت کو عروج دیا اور دھشتگردوں کی پشت پناہی کی۔ نوازشریف کی اس “سیاست” کو پھر زرداری نے کاپی کیا! اور پیپلزپارٹی کو ایک دھشتگرد اور بھتہ لیکر چلنے والی پارٹی بنا دیا۔!

دونوں نے خوب کرپشن کی اور پاکستان کی عوام کو جاھل ترین رکھا! کہ کوئی انکے خلاف آواز نہ اٹھا سکے۔! ایک دوسرے کی کرپشن کا حساب نہ لینے کے لیے! کبھی میثاقِ جمہوریت کیا  اور کبھی چارٹر آف دیموکریسی کے نام پر عوام کو جاھل بنایا۔

ان فرعونوں کا سامنا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے عمران خان کو اٹھایا۔ عمران خان کی کامیابی انکی نا کامی تھی! چونکہ ان فرعونوں کو وہ کبھی معاف نہیں کریگا گا اور یہی  وجہ ہے! کہ یہ جو کل تک ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا عزم رکھتے تھے! آج ایک دوسرے کی تھالی میں کھا رہے ہیں۔! مگر اب جب ان کو یقین ہے کہ انکی یہ ناکام ترین اے پی سی بھی اس قابل نہیں کہ وہ عمران خان کو ہلا سکے تو نوازشریف نے اپنی اوقات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ سے مدد مانگ لی ہے!

تم جگ جگ جیو مہارراج رے ہم تیری نگریا میں آئے

چلتے چلتے اس نام نہاد اے پی سی سے لیا گیا ایک مزے کا کلب دیکھتے چلیئے اور سوچئے یہ لوگ اس عوام کو ریلیف دینگے؟؟

Nawaz Sharif, Maryam Nawaz, Qamar Javed Bajwa, Pakistan Politics, Current Afairs, Imran Khan


بقلم: مسعودؔ

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.