Current Affairs

Mutfarqaat

Mutfarqaat

Database Hacked

First time since its creation in 2005, the Pegham Database was hacked. Who was behind this act, I am aware of it, but I’ll never go down because of it. I am strong enough to come back and I did it again. I’ll do it in future as well. Mutfarqaat

The Pegham Forum suffered a minor set back, but that was on my part. I was too naive to do my work properly for that part of my site, I’ve done that now – every backlash is a lesson learned! Mutfarqaat

کورونا

کورونا نے میرے آخری بلاگ سے اپنا راستہ بدل لیا ہے! اور وہ مقامات جہاں پہلے تباھی زیادہ تھی وہاں اب کچھ امن ہو گیا ہے! جبکہ کچھ دوسرے علاقوں میں یہ تباھی اب مزید بڑھتی جا رہی ہے۔! امریکہ اس معاملے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے! جہاں تاوقتِ تحریر ایک لاکھ دس ہزار کے قریب اموات جبکہ انیس لاکھ سے زیادہ کیسز ہو چکے ہیں۔!برازیل اور روس دوسرے اور تیسرے نمبر پر آن پہنچے ہیں۔  Mutfarqaat

اس معاملے میں پاکستان میں تاوقتِ تحریر پچاسی ہزار سے زائد کیسز ریکارڈ ہو چکے ہیں! جبکہ ایک ہزار آٹھ سو تک اموات ہو چکی ہیں۔! پاکستان میں بڑھتے ہوئے کیسز کو اپوزیشن نے اپنی سیاست چمکانے کے لیے بھر پور طریقے سے استعمال کیا ہے اور کر رہی ہے۔! یہ وہی اپوزیشن ہے جو درپردہ حکومتی حفاظتی اقدام کی مخالفت کا سبق دیتی ہے اور بظاہر اسی پر تنقید کرتی ہے۔

رمضان المبارک میں ایمان کی حرارت والوں نے حکومتی حفاظتی اقدامات کی خوب دھجیاں بکھیریں،! اور یہاں تک کہ شیعوں نے بھرپور بڑے بڑے گروہوں کی صورت میں گریہ و زاری کی! جس ملک میں دین کو جہالت کا علم دینے کے لیے استعمال کیا جائے وہاں پر کسی کو حفاظتی اقدامات کی کیا پرواہ ہو گی؟  Mutfarqaat

اکثر علاقوں میں دکانوں اور مارکیٹوں کے دروازے بند کر کے شاپنگ کی جاتی رہی ہے۔! پاکستان جیسے ملک میں جہاں عوام کی ذہنی تربیت میں بہت زیادہ نقصان ہے! وہاں پر آپ دنیا بھر کے قانون، قاعدے اور ضابطہ بنا لیں، وہ قوم ان کو پامال کرے گی! اور اپوزیشن اور مفاد پرست ایسے عوامل کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کریں گے!!!  Mutfarqaat

ارطغرل غازی

وزیرِ اعظم عمران خان کے ایما پر پاکستان ٹیلیوژن کارپوریشن نے ترکی کا بنایا ہوا ڈرامہ “ارطغرل غازی” پیش کیا! جس نے پاکستانی عوام میں مقبولیت کے تمام تر ریکارڈ توڑ دئیے۔! شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں کسی ٹی وی ڈرامے نے اتنی مقبولیت حاصل کی ہوئی جتنی اس ترکش ڈرامے کو حاصل ہوئی۔

اس ڈرامے میں سلطنتِ عثمانیہ کی تاریخ کو اجاگر کیا گیا ہے! کہ کس طرح اس سلطنت کی بنیاد پڑی۔! اسلام کو ایک خاص مقام دیا گیا ہے اور سلطنت کی روح ہی دین کو بتایا گیا ہے۔! وزیرِ اعظم عمران خان کی یہ کوشش ہے! کہ پاکستان مسلمان اور خاص کر نوجوان نسل اسلام سے قریب تر ہو اور اسلامی تاریخ کو سمجھے۔! اس کے لیے وہ اکثر اپنی تقریروں میں بھی ذکر کرتے رہے ہیں۔! انہوں نے اکثر نوجوانوں کو اسلامی تاریخ سے قریب ہونے کے لیے اسلامی کتابوں کا مطالعہ کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔! اس ضمن میں ایک visualise چیز ہمیشہ زیادہ اثر رکھتی ہے اور یہی ہوا کہ ہمارے لوگوں کے دماغ پر ارطغرل غازی ڈرامے نے بہت اثر کیا۔

شوبز اور خاص کر ٹی وی سے وابستہ لوگوں میں اس پیشکش پر کافی اضطراب پایا گیا۔!

ان کا کہنا تھا کہ اس سے پاکستانی پروڈکشن پر اثر پڑے گا! اور پاکستانی ڈرامہ کی انڈسٹری کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔! جبکہ سرکاری حلقوں میں اسے زبردست کامیابی کہا گیا۔! بات یہ ہے کہ پاکستانی ڈرامہ نویسی پچھلے کوئی پندرہ بیس سال سے مسلسل زوال پذیر ہے! ڈراموں کا وہ معیار جو کبھی پاکستانی ڈراموں کی پہچان ہوا کرتا تھا بالکل نیست سے نابود ہو چکا ہے۔! موجودہ معیار انتہائی گھٹیا، بیہودہ اور غیراخلاقی ہے! پاکستانی ڈراموں کی تھیم ایک جیسی ہوتی ہے! چاہے وہ کوئی بھی ٹی وی پروڈیوس کرے۔! اور تھیم بھی انتیہائی بے جان اور اخلاق سے گری ہوئی۔ ٹریلر دیکھ کر سارے ڈرامے کی کہانی سمجھ آ جاتی ہے۔! ایسے میں ارطغرل کے ڈرامہ میں موجود پیغام نے دیکھنے والوں کو متاثر کیا اور اسے زبردست کامیابی کیساتھ قبول کر لیا گیا!

مسئلہ صرف ایک یہ ہے کہ ارطغرل غازی نام کا کوئی بھی کردار سلطنتِ عثمانیہ میں موجود نہیں!  

اور نہ ہی ارطغرل نے سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھی! یا اس میں کسی قسم کا کو کردار ادا کیا! یہ ڈرامہ فقط ایک فکشن ڈرامہ ہے! جس کے نام میں لفظ resurrection کے استعمال ہوئے ہیں۔! ڈرامہ نویسی میں اس لفظ کو احیا کے معنوں میں لیا جاتا ہے! اور بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ کام، عمل یا بات کیسے رونما ہوئی۔! بالکل ایسے ہی یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کیسے عمل میں آئی! یا اس سلطنت میں کیسے عمل درآمد ہوا۔ اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ یہ کوئی کردار تھا جس نے یہ کام کیا۔! یہ اکثر ایک فکشن پر مبنی ہوتی ہے۔ اور ارطغرل غازی بھی ایسا ہی ایک فکشن ڈرامہ ہے!  Mutfarqaat

ہمیں ایسے کردار دنیا بھر کے لٹریچر میں ملتے ہیں! جنہیں اپنی قوم، نسل، دین، مذہب یا قبیلہ کو اعلیٰ دکھانے کے لیے گھڑا جاتا ہے۔! اس کی ایک مثال شیخ سعدی کی گلستان بوستان مین ملتی ہے جہاں رستم کی جنگوں کا ذکر! رستم بھی ایک فرضی کردار ہے! بلکہ اسی طرح جیسے یونانی ادب میں ہرکولیس وغیرہ کے قصے موجود ہیں۔  Mutfarqaat!

ارطغرل غازی بھی ترکوں کا تراشا ہوا ایک افسانوی کردار ہے۔! اس کو مسلمانوں کی تاریخ بنانا یا سمجھنا تاریخ کے ساتھ زنا کرنے والی بات ہو گی! ڈرامہ دیکھیں – اس سے سبق سیکھیں مگر اسے تاریخ نہ سمجھیں!

ٹھیکدارکی بیٹی اور شہروزسبزواری

ایک اور فضول اور بیہودہ بات جس پر ہماری قوم نے بہت زیادہ وقت برباد کیا ہے! وہ ٹھیکدار کی بیٹی اور شہروزسبزواری کی شادی ہے۔

ٹھیکدار کی بیٹی دراصل ملک ریاض کی بیٹی پشمینہ ملک اور امبرملک ہیں۔! کہانی یہ ہے ملک ریاض کی سالی کے بیٹے ملک عثمان کے ایک ماڈل اور اداکارہ عظمٰی خان سے کچھ عرصے سے ناجائز تعلقات تھے۔! جس پر ملک عثمان کی بیوی آمنہ ملک عظمٰی خان کو تنبیہ کرتی رہی مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔! اس پر آمنہ ملک نے پشمینہ ملک اور امبرملک کی شہ پر کوئی دس پندرہ بدمعاشوں کے ساتھ! عین اس وقت جب عظمٰی خان اور اسکی بہن ہماخان عثمان ملک کے دوسرے گھر میں رنگ رلیوں میں موجود تھیں،! دھاوا بول دیا اور عظمٰی خان کی خوب درگت بنائی۔

اس سارے بلوے کی ویڈیو بھی بنائی گئی جو کی سوشل میڈیا پر چڑھا دی گئی۔! اس کے بعد سوشل میڈیا پر ان دونوں جسم فروش عورتوں کے حق میں پاکستان عوام کی ہمدردیوں کا جوش ابالے کھانے لگا۔! اور ٹھیکدار کی بیٹیوں کے خلاف قانون کو حرکت میں لانے کا مطالبہ کیا۔! یعنی پاکستان ضمیر کے مطابق جسم فروش عورتون کا ناجائز تعلق درست تھا! اور ایک بیوی کا اپنے شوہر اور اسکی داشتاؤں کے خلاف ایکشن ناجائز تھا،! صرف اس لیے کہ وہ ایک امیرترین انسان کی بیٹیاں تھیں۔  Mutfarqaat

میں بذاتِ خود ملک ریاض کو اس ملک کے غلیظ ترین سرمایہ داروں میں گردانتا ہوں۔!

ملک ریاض نے سرکاری زمینوں پر  ناجائز قبضے کر کے real estate کی ایک ناجائز اور کرپٹ empire کھڑی کی،! اپنی اس ایمپائر کو بھی جائز کرنے کے لیے سیاستدانوں، میڈیا، صحافیوں اور انصاف کے رکھوالوں کو حرام کا پیسہ دیا! اور نادار اور غریبوں کو کھانا کھلایا۔ کہا جاتا ہے کہ ملک ریاض کے پاس ہر کسی کے دکھ درد کی دوا پیسے کی صورت میں موجود ہے:! وہ امیروں کو بھی کھلاتا ہے اور غریبوں کو بھی!

یہی وجہ تھی کہ عظمٰی خان نے 2 جون کو اپنے خلاف تشدد اور بے جا حبس کی وہ ایف آئی آر جو 27 مئی کو جمع کروائی تھی،! بغیر کسی چوں چراں کے انتہائی صلح صفائی کیساتھ واپس لے لی! اور کچھ دن عوام کو پھدو لگانے کے بعد انتہائی شرافت سے ملک ریاض کے چیک پر خاموشی اختیار کر لی! 

ابھی یہ تماشا چل ہی رھا تھا کہ سوشل میڈیا پر ایک اور تماشا جمع ہو گیا۔! بہروزسبزواری کے صاحبزادے شہروزسبزواری نے اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیکر اپنے ساتھ ڈراموں میں کام کرنے والی دوسری صدف نامی اداکارہ سے شادی کر لی۔! اس پر بھی ہمارے ہاں کے سوشل میڈیا نے خوب پرچار کیا کہ شہروز نے غلط کیا! 

یعنی ایک طرف ہماری نیک خو عوام ملک ریاض کی بیٹیوں کو اپنے حق کے لیے لڑنے پر برا بھلا کہہ رھی تھی! اور دوسری طرف ایک کچھ کچھ ہمسر کیس میں شہروز کو درست کہہ رھی تھی! – میرے الفاظ میں ہماری قوم کی اخلاقی منافقت!

بلیک لائف میٹرز

مئی کے آخری دنوں میں امریکہ میں ایک سیاہ فام Georg Flyod کو پولیس تشدد میں مار دیا گیا۔! پولیس نے جارج فلیوئڈ کا پہلے تعقب کیا اور پھر اسے گاڑی سے نکال کر زمیں پر دبا دیا،! پھر ایک انسپیکٹر نے اسکی گردن مڑوڑ کر اسکو زمین کے ساتھ دبوچ کر اس پر کوئی 5 منٹ تک یوں گھٹنا دبائے رکھا کہ اسے سانس لینے میں دشواری ہونے لگی۔! وہ چیختا رھا کہ I cannot breath مگر پولیس نے اسکی نہ سنی۔ بعد میں اسے جب اپنی گاڑی میں ڈالا تو وہ مر گیا!

سرعام ہونے والے اس واقعہ کو لوگوں نے دیکھا! اور وہ بھی چیختے رہے کہ جارج کو سانس نہیں آ رہی۔!

لوگوں نے اس واقعہ کی فلم بنا کر سوشل میڈیا پر چڑھا دی! جس سے امریکہ بھر مییں #BlacklivesMatter کے ٹرینڈ تلے زبردست ہنگامے شروع ہو گئے۔! تاوقت تحریر یہ ہنگامے جاری ہیں اور امریکہ تقریباً خانہ جنگی کے دھانے پر کھڑا ہے۔! یہ درحقیقت وہی حالات ہیں جو سن ساٹھ کے عشرے میں تھے جہاں سیاہ فام لوگوں کو شدید ترین نفرت کا سامنا تھا۔

آج بھی امریکہ میں سیاہ فام پولیس کی نفرت کا نشانہ بنتے ہیں۔! پولیس جب چاہیے جس کالے کو چاہے صرف شک کی بنا پر قتل کر سکتی ہے! اور اسکو پوچھنے والا کوئی نہیں۔ کالوں کی زندگی بدترین ہے اور ایک اندازے کے مطابق امریکہ کی سیاہ فام آبادی کے تقریباً 30 فیصد لوگ جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔! ان پر کوئی جرم ہو یا نہ۔  Mutfarqaat

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو تیار رہنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ when the looting starts, the shooting starts

دوسرے الفاظ میں جو بھی کالا نظر آئے اسے اڑا دو!

یہ دنیا کی سپرپاوور کی حالت ہے جو ایک واقعہ کے بعد دنیا کی بدترین نیشن بن گئی ہے! لوٹ مار، چوری چکاری، کالوں کا پولیس اور امن قائم کرنے والے اداروں کے ہاتھ قتل عام بات ہے! تصویر میں وہ چار پولیس آفیسرز ہیں جو جارج کے قتل میں ملوث تھے ان کے خلاف کیس چل رھا ہے۔

جارج فلوئیڈ کے حق میں تقریباً ساری مغربی دنیا میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔! اور کالوں کے انکے حقوق دینے پر زور دیا جا رہا ہے۔ یہ 2020 کا امریکہ ہے!!!!  Mutfarqaat


امریکہ کے ان حالات کو دیکھ کر مجھے ایک اور تشویش لاحق ہو گئی ہے۔

کیا امریکہ اس قابل ہے بھی کہ وہ کشمیر کا مسئلہ حل کرا سکے؟! میرا اندیشہ یقین میں بدل رھا ہے کہ امریکہ کبھی کشمیر کے مسئلہ میں نہیں پڑے گا۔! بلکہ کشمیر میں نہتے اور بیگناہ کشمیریوں کے ساتھ جو کچھ ہو رھا ہے وہ امریکہ کی شے پر ہو رھا ہے۔! کشمیریوں کے ساتھ دھشتگرد ہندوستان وہی سلوک روا رکھے گا جو امریکہ میں سیاہ فام کے ساتھ رکھا گیا ہے۔! امریکہ کے موجودہ حالات میں کبھی بھی پاکستان کے ساتھ کشمیر کے معاملے میں کیا گیا! ٹرمپ کا وعدہ پورا نہیں ہو گا اور خاص کر اب جب ٹرمپ خود امریکہ میں شدید نامقبول ہو رھا ہے۔! کشمیری مسلمانوں کو اپنے حقوق کے لیے خود اٹھنا ہوگا جیسے امریکہ میں سیاہ فام اٹھے ہیں۔

Ertgrul Ghazi, George Floyd, Database Hack, USA Racism, Kashmir, Trump, I cannot breathe, Thekedar ki beti, Amna Malik, Uzma Khan


بقلم: مسعود

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.