Current Affairs

Kheer Pakk Rahi Hai

Kheer Pakk Rahi Hai

Kheer Pakk Rahi Hai

کھیر پک رہی ہے

Kheer Pakk Rahi Hai

جس برق رقتاری سے #لوہار ہائیکورٹ نون گینگیوں کو آزادی کے پروانے جاری کر رھی ھے! وہ کس بات کی غمازی کر رھا ھے؟

ذرا حالات کا جائزہ لیتے ھیں۔۔

وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر بڑے وثوق کیساتھ اعلان کیا ھے! کہ وہ کسی کو کسی قسم کا کوئی این آر او نہیں دینگے۔

اگر وزیراعظم کے لہجے میں لچک ہوتی! اور مجرموں کو کوئی امید لاحق ہوتی! تو شاید حنیف عباسی جیسے پالتووں کی قربانی دی جا سکتی تھی۔! مگر ایسا کوئی کچھ نظر نہیں آرھا لہذا اب وقت ھے اپوزیشن کے پلان بی کا۔

پلان بی کا آغاز ا

پلان بی کی ابتدا مولانا منافق فضل الرحمٰن کی نوازشریف ملاقات سے شروع ہوتی ھے۔! اس میں بدکردار اپوزیشن کی کوشش ہو گی کہ جتنے بھی دھتکارے ہوئے لوگ ھیں! اب وہ سب ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر حکومت دشمن کاروائیوں میں ملوث ہونگے۔

اس میں خودکار بم دھماکے ہونگے! جو ملک میں افراتفری پھیلانے کے کام آئینگے۔! یہ الزامات لگائے جائیں گے کہ حکومت دہشتگردیوں کو روکنے سے نااھل ھے لہذا استعفی دے۔

ان کاروائیوں میں لاہورہائیکورٹ کا کردار سب سے اہم! اور سب سے بدکردار ہو گا! جو نون لیگیوں کو کھلم کھلا معافی عام دے گی۔! اس سے نجات پانے والے حنیف عباسی جیسے پالتو ایک مسلسل اور انتھک سازش کے لئے! استعمال کئے جائیں گے جس میں پراپوگنڈا عروج پر لایا جائے گا۔

اس پراپوگنڈا میں وہ بیوکریسی جسے نوازشریف اور زردادری نے حرامخوری کے ذریعے پچھلے 35 سال سے پروان چڑھایا ھے! وہ حرکت میں لائی جائے گی۔ ضمیرفروشی کا جو بیج چھانگا مانگا کے جنگلوں میں بویا گیا تھا،! وہ اب ثمر دینا شروع کریں گے۔

خریدوفرخت کی اشیا میں ناجائز اور غیرقانونی اضافہ کیا جائے گا۔! قیمتیں آسمانوں سے باتیں کریں گی! اور جب جب جہاں جہاں حکومت حکومت ایکشن لے گی! یہ ضمیرفروش بیوکریسی ذخیرہ خوزی کرنے لگ جائے گی۔ 

میڈیا

ان کاروائیوں میں ایک اہم اور مرکزی کردار میڈیا ادا کرے گا۔

وہ صحافتی طوائفیں جو نوازشریف کیساتھ سفر میں شامل تھیں! اور وہ صحافتی طوائفیں جو لفافے نہ ملنے پر حلال کھانے پر مجبور ہو چکے ھیں! وہ ابھی سے اپنے اپنے چینلوں کے ذریعے اور خاص کر سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹ کا پلندہ بن کر اس رزق کو حلال کر رھے! ھیں جو انہیں کھلایا جا چکا ھے۔

اگر کوئی صحافی اپنے پروگرام میں اسحق ڈار جیسے ناسور! اور غلیظ اور وطن دشمن اور مفرور انسان کو مدعو کر کے ملکی معیشت پر سوال جواب کرتا ھے! تو وہ صحافی دشمن وطن کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا! وہ صحافی بدکاری اور حرامخوری کی سب سے بدترین مثال ھے چاھے! وہ کوئی بھی ہو اور کسی بھی چینل سے وابستہ ہو!

اسحق ڈار اس ملک کا ناسور ھے! مجرم ھے! اس کا ملکی مسائل پر بات کرنا ھی ملک سے غداری کے مترادف ھے!

لابی

حکومت کو چاہیے ایک مفصل لسٹ جاری کر دے! جس میں اہم ترین اشیأ خورد و نوش کی قیمتیں سرکاری سطح سے متعین کر دی جائیں۔! اگر کوئی اس لسٹ سے بڑھ کر قیمت مانگے تو صارفین سیٹیزن پورٹل سے! اس دکاندار کی شکایت کریں جس پر سرکاری کاروائی کی جائے۔

موجودہ حکومت کی کامیابی اور ناکامی نہ ہی تو خارجہ پالیسی سے ہو گی! نا اقتصادیات سے! ان دونوں میں پی ٹی آئی کی حکومت بخوبی کامیاب ہو گی۔! سب سے اہم داخلہ پالیسی اور اس میں خاص کر وہ بیوکریسی ہے! جنکی دوسری نسل اس حرامخوری اور ضمیر فروشی میں ملوث ہو چکی ہے! جس کی ابتدأ نون گینگ نے چھانگا مانگا میں کی تھی۔

جو قوم کم محنت کر کے زیادہ کھانے کی عادی ہو چکی ہو! اسے حق حلال پر لانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔! اگر وہ اپنے روش بدلے گی تو چیخے گی، اور اس چیخ و پکار میں بہت سارے ایسے کام کرے گی! کہ اس سے بچ سکے: مہنگائی، افراتفری اور پراپوگنڈا یہ سب مؤثر ہتھیار ہونگے۔ !آنے والے دنوں میں سندھ اور پنجاب سے  پراپوگنڈا کی ایک زبردست لابی اٹھنے والی ہے۔ 

اس لابی میں سابق ججز کے ساتھ منشیات فروش، بیوکریسی کے خاص بندے، میڈیا کی صحافتی طوائفیں، سوشل میڈیا پر نون لیگ اور پی پی پی کی اہم ترین “خواتین” جو چادر اور چاردیواری کا نعرہ بلند کریں گی۔

Lahore High Court, PMLN, PPP, PTI, Pakistan Siyasat Politics, Social Media of Paksitan,

بقلم: مسعودؔ

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment