Current Affairs

Fazal ur Rehman Ka Dharna

فضل الرحمٰن کا دھرنا

Fazal ur Rehman Ka Dharna

پس منظر

سن 2014 میں عمران خان اور ملا طاہر قادری کی سربراھی میں اس وقت کی “منتخب” حکومت کے خلاف دھرنے کا اعلان ہوا۔

اسلام آباد میں وہ دھرنا 126 دن تک جاری رھا! جسکا اختتام وسط دسمبر میں اس وقت ہوا جب پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر بہیمانہ دہشتگردی کی گئی! اور 150 سے زائد افراد جن میں 90 فیصد تعداد بچوں کی تھی، قتل کیا گیا۔! حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے عمران خان نے وہ دھرنا موخر کر دیا۔

آج اکتوبر 2019 میں عمران خان کی حکومت کے خلاف! ملا فضل الرحمن نے دھرنا دینے کی کال دی ہے! اور اسلام آباد جام کرنے کا اعادہ کیا ہے۔

اس وقت کی پی ایم این کی حکومت عمران خان کے دھرنے کو غیرقانونی قرار دیتی تھی! اور آج پی ٹی آئی کی حکومت فضل الرحمن کے دھرنے کو غیرقانونی گردانتی ہے۔!

آئیے دیکھتے ہیں کہ ان دونوں میں کون برحق ہے اور کون نہیں۔

سب سے پہلے ہم یہ بات واضع کرتے جائیں کہ جمہوریت میں دھرنا دینا کسی بھی سیاسی پارٹی کا جمہوری حق ہے۔

Fazal ur Rehman Ka Dharna

عمران خان کا دھرنا

پاکستان کے عام انتخابات 2013 میں حسب معمول بلندپایہ دھاندلی ہوئی! اور ابتدائی گنتی کے مطابق شام تک پی ٹی آئی جو اکثر حلقوں میں برتری پر تھی !جبکہ فائنل رزلٹ میں ہار گئی۔ اسقدر دھاندلی پاکستان میں پہلے شاید کبھی نہ ہوئی تھی۔! اس شدید ترین دھاندلی کی بدولت مسلم لیگ نون کی حکومت قائم ہو گئی۔

پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے ثبوتوں کے ساتھ! دھاندلی کی نشاندھی کی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کو باور کیا۔ مگر کچھ نہ ہوا۔

اسکے بعد عمران خان نے ہر وہ ممکن دروازہ کھڑکایا! جہاں سے انصاف ملنے کی توقع کی جا سکتی تھی مگر کہیں شنوائی نہ ہوئی۔

اس کے بعد عمران خان نے دھرنے کا فیصلہ کیا! اور مطالبہ رکھا کہ “صرف چار حلقے کھول کر دوبارہ گنتی کی جائے، !اگر ہم ان حلقوں میں ہارے ہوئے تو ہم دھرنہ منتشر کر دیں گے”۔

ایک انتہائی معقول مطالبہ جس پر نوازشریف کی حکومت نے کسی بھی قسم کی شنوائی !نہ کی بلکہ انکے کان پر جوں تک نہ رینگی۔! اس کے برعکس نوازشریف کے پالتو عمران خان پر دن رات بھونکنے میں مصروف ہو گئے اور دھرنے پر ہر طرح کا غلیظ اور بدکار حملے کراتے رہے۔

عمران خان کا دھرنا مضبوط اور جاندار تھا! جس کی بدولت نوازشریف کی حکومت دن بدن کمزور ہو رہی تھی۔

نوازشریف کو ایک ٹرننگ پوائنٹ چاہیے تھا جو پشاور کے آرمی پبلک اسکول مساکر کی صورت میں ملا۔

Fazal ur Rehman Ka Dharna

فضل الرحمن کی شکست

سن 2018 کے انتخابات میں پی ٹئی آئی کی حکومت کو کامیابی ملی !اور حسب عادت اپوزیشن نے دھاندلی کے تابڑ توڑ حملے کیے۔

ان اتتخابات میں ملا فضل الرحمن کو خاص کر بدترین شکست ہوئی! اور اپنے تمام حلقوں سے ہار گئے۔! نہ صرف ہار بلکہ پالیمنٹ سے نکلنے کیساتھ ساتھ اسلام آباد کے وزیر مینشن کے لگژری انکلوزر سے بھی نکلنا پڑا۔! پچھلے 30 سال میں پہلی مرتبہ تھا کہ ملا فضل الرحمن کو حکومت کی ہڈیاں چوسنے کو نہیں مل رہی تھیں۔

اپوزیشن کی یہ حالت تھی !کہ بلاشبہ وہ دھاندلی کی تابڑ توڑ حملے کر رھے تھے مگر وہ جانتے تھے کہ انکی شکست برحق تھی۔

عمران خان نے کامیاب ہونے کے فوری بعد یہ وعدہ کیا! کہ اگر اپوزیشن کو کسی بھی حلقے کو کھلوانا ہے، کھلوا لے اور پھر سے گنتی کروا لے۔

چند ایک حلقے از سرِ نو کھولے بھی گئے! اور ان کی گنتی ہوئی – کہیں پی ٹی آئی کی فتح برقرار رھی! کہیں گنتی کی غلطی سے سیٹ بدل گئی۔ مگر کہیں دھاندلی کا واضع ثبوت نہ ملا۔

مگر دھاندلی کی رٹ تو ہمارے ہاں تو ہمیشہ لگی رہتی ہے۔! حکومت نے اپوزیشن کو دعوت دی !کہ مشترکہ نکات پر لائحہ عمل تیار کیا جائے! اور جو جو حلقہ کھولنا ہے کھول لیں ۔! مگر اپوزیشن کبھی اس مشترکہ لائحہ عمل پر متفق نہیں ہوئے۔

ادھر احتساب کا عمل سختی سے جاری رھا! اور ملک کی دو بڑی جماعتوں، نون لیگ اور پی پی پی کے اہم ترین لیڈران،! جن میں نوازشریف، مریم نوازشریف، زرداری سمیت خورشید شاہ اور! خواجہ سعد رفیق سمیت رانا ثنا اللہ اور دوسرے بہت سارے لوگ جیل میں ہیں،! اور کسی قسم کی ڈیل نہیں ہو رہی تو اپوزیشن اس وقت ہر اس تنکے کا سہارا لے رہی! جہاں سے بچاؤ کی امید نظر آ سکے۔

تنکے کا سہارا

اگست 2019 میں نئی حکومت بننے کے بعد سے لیکر اب تک! ملا فضل الرحمن اس مچھلی کی طرح تڑپ رھا تھا،! جس کو حکومت کے عہدے کا پانی نہیں ملا رھا۔! اس دوران ملا فضل الرحمن نے پہلے الیکشن کو ماننے سے انکار کیا، پھر حکومت کو۔۔۔۔! مگر جب دیکھا کہ باقی اپوزیشن اسکی ہم خیال نہیں تو پلے اپنے بیٹے کہ! اسپیکر آف قومی اسمبلی لگانے کے تابڑ توڑ کوشش کی، مگر ناکامی ملی۔

پھر ڈپٹی اپسیکر لگوانے کی کوشش کی ناکامی ملی۔! پھر اسکے بیٹے نے اپوزیشن کے ساتھ ملکر پارلیمنٹ کا تقدس! پامال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی! اور یہاں تک کہ اسپیکر کے ڈیسک کے سامنے نماز تک نیت لی! تمام حربے جمہوری عمل کا ستیاناس کرنے کے لیے!

ادھر اپوزیشن کی اہم سیاسی قیادت جیل میں ہونے کے باعث شدید کمزور اور کھوکھلی ہو چکی تھی۔! جہاں تک کہ بلاول بھٹو نے پاکستان کو توڑنے کا عندیہ تک دیدیا۔! اب اپوزیشن کو ملا کی سخت ضروت تھی اور ملا نے جب دیکھا کہ اسکا ہر سیاسی حربہ ناکام رھا ہے! تو اس نے دین کو ڈھال بنا لیا! اور مدارس کے طلبہ کا برین واش کیا! اور کبھی ناموسِ رسالت کبھی مہنگائی اور کبھی کسی بات پر! کم فہم اور لائی لگ لوگوں کو دماغ مسخر کیا! اور اب ان کو لیکر اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعادہ کیا ہے۔

ملا فضل الرحمن کی کوئی بھی سیاسی مطالبہ نہیں! کوئی بھی سیاسی منشور نہیں! کوئی بھی قانونی جواز نہیں! کیونکہ عدالتیں کھلی ہوئی ہیں۔! حکومت دھاندلی پر پہلے ھی مشترکہ تفتیش کی پیشکش کر چکی ہے۔! لہذا ان تمام باتوں کو چھوڑ کر اگر ملا اسلام آباد میں آئے تو اسکی دوڑ میں اسلام نہیں اسلام آباد ہے!

Fazal ur Rehman Ka Dharna

فضل الرحمن کی فوج

یہ  مختصر سی فلم بغور دیکھیں۔

اس فلم میں فضل الرحمن ایک “فوج” تیار کر رھا ہے اور اس کی سلامی لے رھا ہے۔ یہ فلم کس بات کی غمازی کرتی ہے؟ کیا جمہوریت کا مطلب یہ ہے کہ فضل الرحمن اپنی “فوج” تیار کر کے حاکمِ وقت پر چڑھائی کر دے؟ یہ کس کے خلاف تیار کی جا رھی ہے؟ ایک ایسے ملک کے خلاف جس کو اس نے کبھی اپنا ملک سمجھا ہی نہیں؟ جس کی آزادی کے دن کو منانے سے اس نے انکار کیا تھا؟ جو بنانے والے کے خلاف اسکے اباؤ اجداد برسرپیکار تھے؟  اس “فوج” کا مقصد کیا ہے؟

اس مقام پر آئیے ملا فضل الرحمن کی زندگی کے چند اہم ترین واقعات پر نظر ڈالتے چلیں تاکہ اسکی حقیقت واضح ہو سکے۔

فلش بیک

فضل الرحمن کا والد مفتی محمود تھا۔ مفتی محمود علماؤں کے اس گروپ سے تعلق رکھا ہے جو تقسیم ہند کے خلاف تھا۔ مفتی محمود نے 1977 میں بھٹو کے خلاف بھرپور الیکشن کمپئین کی۔ مفتی محمود کا اپنے بیٹے کی نسبت یہ کہنا تھا کہ حرام زادہ لوگوں سے پیسے لیکر اپنے ھی بات کے خلاف مخبری کرتا ہے!

فضل الرحمن نے 1990میں بے نظیر کی حکومت کے خلاف خوب زہر اگلا اور عورت کی حکمرانی کو حرام قرار دیا۔ مگر جب کچھ نہ بن پائے تو اسی عورت کے قدموں میں بیٹھ کر وزارت کی ھڈی چوسی!

پھر بدلتی ہوئی نون لیگ اور پی پی پی کی حکومتوں کا حصہ رھا۔ 1999 جب مشرف کی حکومت آئی تو چونکہ دونوں دوسری سیاسی جماعتیں، پی پی پی اور نون لیگ خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی، ملا نے واحد اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔

مشرف کے جانے کے بعد 2007 میں زرداری صدر بنا تو فضل الرحمن نے کشمیر کمیٹی کی صدارت ہتھیا لی۔ مگر اندر ہی اندر زرداری کے خلاف سازشوں کے جال بنتا رھا۔ یہاں تک کہ پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن سے ملاقات کی اور وزارتِ عظمیٰ کی خواہش ظاہر کی اور ساتھ امریکہ جانے کی آزرو کی۔ این پیٹرسن کے سامنے دال نہ گلی تو دس سال تک کشمیر کمیٹی سے حرام کھاتا رھا۔

فضل الرحمٰن 1980 سے سیاسی میدان میں فعل ہے مگر آج تک اس نے اسلام، نبی پاک ﷺ، اصحابہ رسولﷺ پر کتاب تو درکنار کوئی ایسا لیکچر نہیں دیا جسے اسلام سے وابستہ کیا جا سکے۔

یہاں تک کہ 2018 کے الیکشن میں بری طرح شکست سے فاش ہوا!

مدارس

درحقیقت ملا فضل الرحمن نے دین کے نام پر انسانیت کا برین واش کیا ہے! یہ مدارس کے وہ طلبہ ہے جن کی عقل اس قدر محدود ہے کہ انکے پاس خود سے سوچنے سمجھنے اور اسکے مطابق عمل کرنے کا رتی برابرمادہ نہیں! یہ وہ لائی لگ اور چکوری مسلمان ہیں جن کو دینِ اسلام کی رتی برابر سمجھ نہیں بلکہ یہ ملاازم کا شکار لوگ ہیں!

ملاازم نے ان لوگوں کے دماغ اس طرح مسخر کر رکھے ہیں کہ اگر انکے دماغوں میں خودنمائی کی ہلکی سی کرن بھی آنے لگتی ہے تو ملاؤں کے جنت اور جہنم کے پروانوں کے خوف سے بجھ جاتی ہے!

یہ لوگ نہیں جانتے کہ ملاؤں کے کہنے پر جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں وہ جہاد نہیں بلکہ دہشتگردی اور غداری کی بدترین مثال ہے! ایک ملک میں جہاں اسکا اپنا آئین اور قانون ہے وہاں پر اس طرح کی “فوجیں” بنا کر ان کو لڑنے مرنے پر آداہ کرنا دہشتگردی ہے! اپنے آپ کے ساتھ بم باندھ کر بیگانہ انسانیت کا قتل کرنا بدترین دینی اور دنیاوی گناہ ہے!

مدارس کی ازسرِ نو درجہ بندی ہونی ضروری ہے! ایک ریفارم کی ضرورت ہے تاکہ ان بچوں کو جو مدارس میں پھنسے ہوئے انکو جہالیت سے نکال کر علم کی روشنی دلائی جا سکے اور فضل الرحمن جیسے شیطان صفت ملا سے بچایا جا سکے!  ملاؤں کی سیاست سے دین  کا نام نکال دیا جائے تو ان کی سیاست مردہ اور بیجان ہے۔ اس عوام کو ان کے چنگل سے بچانا ہی اس ملک کا استحکام ہے!

Fazal ur Rehman, Dharna, Islamabad, Pakistan Current Affairs

بقلم مسعودؔ

 

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment