Current Affairs Politics

Ghaddari Ki Hawa

Ghaddari Ki Hawa

غداری کی ہوا

Ghaddari Ki Hawa

سازشیں

پاکستان کے اندر اور باہر پاکستان کی سالمیت کے! خلاف آزادی صحافت کے نام پر ایک بھیانک کھیل کھیلا جا رھا ہے۔

اس کھیل میں ملک کے مایہ ناز صحافیوں کا ایک گروہ متحرک ہے،! جس میں حامد میر، گل بخاری اور دوسرے نام نہاد صحافیوں کا نام سرِ فہرست ہے۔

یہ کھیل کوئی نیا نہیں بلکہ اسکی جڑی بہت پرانی ہیں! اور اس کھیل کا ایک ڈراپ سین سقوطِ ڈھاکہ کی صورت میں وقوع پذیر ہو چکا ہے!

کھیل کی بساط ہندوستان میں بچھائی گئی ہے۔! اور ہر ہندوستانی حکومت نے اسکو ہوا دی۔! منہ پر وہ دوستی کا نعرہ لگاتے مگر اندر ہی اندر را کی مکمل رہنمائی کرتے رہے۔

را نے پاکستان کے اندر کچھ وطن کے غدار اور ضمیر فروش لوگ چنے! جن میں شریف خاندان سے لیکر اسفند ولی یار کی نسلیں! اور اکبر علی بگتی سے لیکر الطاف حسین تک شامل ہیں۔

اس بھیانک کھیل میں پاکستان میں کچھ علاقوں میں شرپسندی کی چنگاڑی سلگائی جاتی ہے۔! ہندوستانی بجٹ کا ایک خاص حصہ اس کے لیے استعمال کر کے! اس چنگاڑی کو ہوا دی جاتی ہے اور پھر اسے دنیا بھر میں آگ کی طرح پھیلایا جاتا ہے۔! جس سے پاکستان میں نفرت اور کدورتوں کے جال بنے جاتے ہیں۔

غدار

اس کی چند ایک مثالوں میں بلوچستان ہے! جس میں اکبر علی بگتی نے اپنی ایک الگ سلطنت بسا رکھی تھی۔! اس کی سلطنت کی اپنی “فوج” تھی اور اپنا سکہ تھا۔ !اس کو اسلحہ ہندوستان سے مہیا کیا جاتا تھا۔! ان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ سوئی گیس سے نکلنے والی! پائپ لائنوں کو دھماکوں سے اڑانا اور بلوچستان کے اندر دہشتگردیاں کرنا تھا۔

اکبر علی بگتی کا خاتمہ جنرل پرویز مشرف نے کیا۔! پھر بگتی کا بیٹا ہمدراغ بگتی پاکستان سے فرار ہو کر ہندوستان جا کر پناہ گزین ہوا! اور وہاں سے را کیساتھ ملکر سازشوں کے جال بننے شروع کر دئیے۔! اس چیز کو ہوا دینے کے لیے پاکستان میں کچھ میڈیا کے لوگ ابھی تک متحرک ہیں۔

جنرل ضیاالحق کے دور میں ایک دوسرا ناسورِ وطن اٹھا! اور مہاجروں کے حقوق کا نعرہ لگاتے ہوئے! دہشتگردی کی ایک ایسی تنظیم کا آغاز کیا جس نے کراچی جیسے حسین و جمیل! اور روشنیوں کے شہر کو قبرستان کے روپ میں ڈھال دیا۔! بوری میں بند لاشین، بھتہ خوری، ہزارہا قسم کا مافیا پرستی، غنڈہ گردی اور پرچی مافیا ایم کیو ایم کی خاص کاروائی تھی۔! انسانیت کا جتنا خون الطاف حسین کے کہنے پر ایم کیو ایم نے بہایا ہے! اسکا ثانی شاید ہی کوئی دوسرا ہوا۔

بھیانک کھیل

پاکستان آرمی نے جب دہشتگردی کے خلاف ضربِ  عضب کا جب آغاز کیا !تو رینجرز کی ایک خاص شاخ نے ایم کیو ایم کی کمر ایسی توڑی! کہ ایم کیو ایم dissolve ہو گئی! اور اسکی جگہ ایک نئی ایم کیو ایم نے جنم لیا۔! ایم کیو ایم پاکستان نے لندن میں برطانوی پاسپورٹ پر پاکستانی عوام کو بھڑکانے والے !الطاف حسین سے رابطہ توڑ لیا اور حال ہی میں الطاف حسین کو لندن میں گرفتار کر کے! نفرت انگیز تقریر پر سوال جواب کیے گئے ہیں۔

چونکہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم دہشتگردی کی بدترین مثال تھی! اور چونکہ را انکی پشت پناھی پر تھی وہ صحافیوں کو خریدنے کے لیے! ایک کثیر رقم صرف کیا کرتے تھے! اور ان سے اپنی من پسند رپورٹیں لکھواتے تھے۔

کھیل جو کھیلا جا رھا تھا اور ہے وہ یہ ہے! کہ را کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردیاں اور فتنہ و فساد اسقدر پھیلایا جائے! کہ ہندوستانی پنجاب کا کچھ حصہ ملا کر، پاکستان پنجاب کو ملا کر ایک الگ ملک بنایا جائے! اور اس میں شریف خاندان کی بادشاہت قائم کی جائے۔! سکھوں کو اس ملک میں شامل کر دیا جائے۔! ادھر بلوچستان کو تقسیم کیا جائے اور ایک حصہ سندھ کے ساتھ ملا کر سندھودیش بنایا جائے! اور زرداریوں کو اسکی بادشاہت دی جائے !اور دوسرا حصہ افغانستان کے ساتھ ملایا جائے۔ جبکہ الطاف حسین کی کوشش تھی کہ ہانگ کانگ! کی طرز پر کراچی اور اسکے ملحقہ حصوں کو ملا کر ایک الگ ملک بنایا جائے۔

بیانات

اس ضمن میں خاص کر 2001 کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کی ایسی لہر نے جنم لیا جس میں انگنت معصوم لوگ لقمہ اجل بنے۔ زرداری اور شریفیوں کی غلط ترین پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کا امج ساری دنیا میں مجروح ہوا اور پاکستان تنہا تر ہوتا چلا گیا۔

زرداری کی حالیہ تقریروں سے یہ بات بخوبی اخذ کی جا سکتی جب وہ بار بار پریس میں یہ کہتا ہے کہ ہم نہیں چاھتے کہ ایک اور بنگلہ دیش بنے! درحقیقت اس کے سیاست کا ایک بہت اہم حصہ یہی پالیسی ہے۔ اور یہی باتیں مسلم لیگ ن کی باتوں سے اخذ کی جا سکتی ہیں۔ اور خاص کر اب جب ان کے لیے احتساب کے نام پر اتنا سخت اور کڑا ماحول بن چکا ہے کہ انکو پاکستان میں اپنی سیاسی موت نظر آ رہی ہے۔ ان کے پاس اپنی اپنی کرپشن، غلط کاریوں کو بچانے کے لیے ایک ھی رستہ ہے وہ ہے مادروطن کے ساتھ غداری!

فوج

غداری اور مکاری کے اس کھیل کے سامنے ایک بہت بڑی طاقت کھڑی ہے: پاکستان فوج!

افواج پاکستان نے ایسی بہت ساری غداریوں کا ابھی سے قلعہ قمع کیا ہے اور آئندہ بھی ایسی ناپاک طاقتوں کا سر کچلنے کے لیے تیار کھڑۓ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سقوطِ ڈھاکہ میں فوج ہی کا بہت بڑا کردار ہے مگر سقوطِ ڈھاکہ کی اور بہت ساری وجوہات ہیں جس میں بھٹو کا نام کبھی بھولنا نہیں چاہیے۔

کسی بھی ملک کو نقصان پہنچانے کے لیے اور اس ملک پر ضرب لگانے کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے کہ اسکی فوج کو کمزور اور ناکام کیا جائے! اس کی عوام میں فوج کی نسبت نفرت پھیلائئی جائے تاکہ آپس کے اختلافات سے وہ ناتواں ہو جائیں اور پھر ان پر ضرب لگانا آسان ہو، اسکی ایک بہت بڑی مثال عراق اور شام ہے!

1997-98 میں برطانوی اخباروں میں نوازشریف حکومت کی سربراھی میں پاکستانی فوج کے خلاف Roug Army کے نام سے اشتہار چھپے۔ اور نون لیگ ھی اب بھی فوج کے خلاف برسرِپیکار ہے، جس میں مریم صفدر کی ڈان لیکس اسکی سب سے بڑی مثال ہے۔

سوشل ایکٹیوسٹ

آج کل پاکستان میں ایسے عناصر کو خوب پیسہ دیکر اس کام پر مامور کیا جا چکا ہے۔ ان میں صحافیوں کی ایک بہت بڑی تعداد، اور شوشل میڈیا کے بہت سارے ایکٹیوسٹ ہیں۔ ان کی زندگیوں کا مقصد ہر اس چنگاڑی کو ہوا دینا ہے جس سے انہیں کسی قسم کا کوئی بھی مفاد حاصل ہو سکے۔ اس میں آج کل سب سے اہم چنگاڑی پشتون موومنٹ ہے جسکو نون لیگ، زرداری لیگ اور بہت ساری دوسری پارٹیاں اپنے سیاسی خدوخال درست کرنے کے لیے ہوا دے رہی ہیں۔ اس موومنٹ کی نسبت یہ بات عام معلوم ہے کہ انکی فنڈنگ را سے ہو رہی ہے۔ 

کچھ عرصہ پہلے بلوچستان سے را کا ایک ایجنٹ پکڑا گیا اور اس پر پاکستان میں فوجی عدالت میں ثبوت ملنے کے بعد پھانسی کی سزا مقرر کی گئی۔ کلبھوشن یادیو کو پہلے ہندوستانی اپنے شہری ماننے کو تیار ہی نہیں تھا مگر جب پھانسی کیس سزا دی گئی تو عالمی عدالت سے رابطہ کر لیا۔ عالمی عدالت نے 17 جولائی 2019 کو اسکی نسبت فیصلہ دیا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی ہے مگر اسے بھارت کے حوالے نہیں کیا جائے گا، پاکستان میں اس پر اپنے قانون کے مطابق کاروائی کر سکتا ہے۔ البتہ پھانسی کی سزا پر نظرثانی کرے۔

یہ دہشتگرد ان ہزاروں دہشتگردوں میں سے فقط ایک ہے! اس طرح کے اور ہزاروں لوگ پاکستان کی سرزمیں پر دھندناتے پھر رہے ہیں جیسا کہ اسفند ولی یار!

اور وہ بے شمار نام نہاد صحافی جو اپنا قلم بیچ کر اپنے قلم کی حرمت بیچ کر پاکستان میں افراتفری، دہشتگردی کو ہوائیں دینے میں مصروف ہیں!

قیادت

اس وقت پاکستان کے پاس ایک مضبوط قیادت ہے! اور یہ تاریخ کا پہلا موقع ہے جب پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک پلیٹ فارم پر کھڑی ہے! اور بہت مضبوطی سے کھڑی ہے۔ یہ وہ بہت بڑی دیوار ہے جو اس وقت دشمن کی ہر حرکت کو ناکام کر رہی ہے۔ 

افغانستان مسائل کے حل کے لیے پہلے جہاں ہندوستان ساتھ ہوا کرتا تھا اب اسکو مکمل طور پر تلف کر دیا گیا ہے، پاکستان موجود ہے!

بشکک سربراھان کی ملاقات میں بھی پاکستان کے وزیراعظم عمران ایک مرکزی کردار رھا تھا جبکہ مودی کو کھاس تک نہیں ڈالی گئی!

پاکستان اس وقت عالمی طاقتوں میں ایک خاص رول ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں عمران پیوٹن کی بشکک میں ملاقات اور بہت وقت ساتھ گزارنا بہت اہم ہے!

اب یہ وقت پاکستانی عوام کے لیے بہت ہی اہم ہے کہ اپنے بہترین مستقبل کی بہترین اساس رکھ سکتے ہیں۔ مگر اسکے لیے اپنے دشمنوں کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔ دشمن کون ہے؟ وہ جو ملک کی سلامتی کے خلاف ہے۔

Hamid Mir, Gul Bukhari, Talat Hussain, Sana Bucha, Asma Shirazi, GEO News, Maryam Nawaz, Imran Khan, Putin

بقلم: مسعودؔ – کوپن ہیگن 20 جولائی 2019

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment