Sports

PSL4: Lahore Qalanadrs vs Peshawar Zalmi

PSL4: Lahore Qalanadrs vs Peshawar Zalmi

PSL4: Lahore Qalanadrs vs Peshawar Zalmi

لاہور قلندرز بمقابلہ پشاورزلمی

پی ایس ایل 4 کا ساتواں میچ لاہور قلندرز اور پشاورزلمی کے مابین تھا

کراچی کی خلاف میچ جیت کر لاہور اس میچ میں بہت مثبت انداز میں داخل ہوئے اور اس میچ میں لاہور سے امیدیں وابستہ تھیں۔ میچ سے پہلے ہی انہیں نقصان اٹھانا پڑا اور کپتاں محمد حافیط پچھلے میں میں زخمی ہونے کی وجہ سے ان فٹ تھا۔

پشاور نے ٹاس جیتا اور پہلے فیلڈنگ کی۔ 

زلمی کی جانب سے حسن علی نے بالنگ شروع کی اور کیا تباہ کن بالنگ تھی۔

لاہور کا کوئی بھی بیٹسمین جم کر نہ کھیل سکا۔ فخرزماں، سہیل اختر چھ چھ، ڈیوسچ 18، ڈیویلیئرز 14، ٹیلر 1 رنز بنا کر یکے بعد دیگرے آؤٹ ہوتے گئے۔ آغا سلمان نے 13 رنز بنائے مگر بعد میں کوئی بھی ٹیل مین کچھ بھی نہ کر سکا اور ساری ٹیم محض 78 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ پی ایس ایل کا دوسرا کم ترین اسکور۔ انتہائی مایوس کن، غیرذمہ داری کا ثبوت دینے ہوئے لاہور کی ٹٰم انتہائی مایوسی کا شکار تھی۔ یوں لگتا تھا کہ کوئی اپنی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہی نہیں۔ اسقدر غیرذمہ داری کا مظاہرہ کبھی بھی پروفیشلنز سے نہیں کیا جا سکتا۔ اور خاص کر مایوسی اسوقت ہوتی ہے جب آپ کی ٹیم میں اب ڈی ویلئرز جیسا ماہر کھلاڑی موجود ہو۔ باقی تمام کھلاڑی ایسے کھلاڑی کے تجربہ سے استفادہ کرتے ہیں مگر ابھی تک ڈی ویلیئرز نے جتنے میچ کھیلے ہیں غیرسنجیدگی اور غیرذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

یہاں پر پشاور کی ٹیم کو شاباش دینی پڑے گی کہ انہوں نے بہت زبردست بالنگ کی، خاص کر حسن علی کی بالنگ اور اسکا attitude درست تھا۔ باقی جب مخالف غیرذمے داری کا مظاہرہ کرے تو بالنگ اچھی ہو ہی جاتی ہے۔

زلمی کا ٹارگٹ انتہائی آسان تھا اور خاص کر جب کامران اکمل جیسا انفارم کھلاڑی موجود ہو۔

پشاور کی جانب سے کامران اکمل اور امام الحق نے اوپننگ کی اور شاھین شاہ آفریدی نے بالنگ شروع کی۔ پہلی دو وائیڈ بالوں اور تیسری جس پر ایل بی ڈبلیو کی اپیل کے بعد شاھین نے ایک زبردست بال دی جو اکمل کے گٹوں کے عین بیچ پڑی اور وکٹس کو اڑاتی ہوئی گئی۔ اکمل جو بہت فارم میں تھا صفر کے اسکور پر واپس۔

حارث راؤف نے دوسرا اوور شروع کیا اور پہلی ہی بال پر امام الحق کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ ایمپائر نے پہلے ناٹ آؤٹ دیا مگر ڈی آر ایس کے بعد فیصلہ بدل لیا۔ پشاور 6 پر 2۔ گیم آن۔

اس موقع پر لاہور کے کپتان کو چاہیے تھا کہ اپنے نوجوان اور over-excited بالرز کو لیڈ کرتا مگر عمرامین اور میڈسن نے contra-attack کیا اور لاہور کے بالروں کی پٹائی شروع کر دی۔ کئی ایک موقع پر لاہور کے بالروں کی سمت درست نہ ہونے کے وجہ سے چوکے پر چوکا کھاتے رہے۔ عمرامین نے جارحانہ بیٹنگ کی اور جب اسکا کیچ بھی چھوٹا تو اس نے بغیر کسی مزید دقت کے 61 رنز بنائے – 78 رنز کے تعقب میں 61 صرف عمرامین کے تھے۔ اس دوران راحت علی نے میڈسن کو آؤٹ کیا مگر لاہور کبھی بھی پشاور کو مشکلات میں نہ لا سکا اور گیارہویں اوور کی پہلی بار پر چھکا لگا کر اپنا مطلوبہ اسکور پورا کر لیا۔

نتیجہ: پشاور زلمی 7 وکٹس سے جیت گئے

PSL4: Lahore Qalanadrs vs Peshawar Zalmi

Pakistan Domestic Cricket - History

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment