بزمِ سخن گلدستۂ غزل

کیا جانئیے کیوں اداس تھی وہ

کیا جانئیے کیوں اداس تھی وہ

کیا جانئیے کیوں اداس تھی وہ

کیا جانیے کیوں اُداس تھی وہ
کب اتنی ادا شناس تھی وہ
ہر خواب سے بے طرح ہراساں
ہر خواب کے آس پاس تھی وہ
سرشاریِ شوق و بے نیازی
ہر رنگ میں خوش لباس تھی وہ
پیروں میں ہزار بیڑیاں تھیں
اور سرد و سمن کی آس تھی وہ
جیسے شبِ ہجر کی سحر ہو
کچھ ایسی ہی بے قیاس تھی وہ
چھیڑی تھی اداؔ نے آپ بیتی
یوں جیسے خود اپنے پاس تھی وہ
[spacer size=”30″]

شاعرہ: اداؔجعفری

logo 2

About the author

Masood

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW