Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Khilona

Meri Shairi: Khilona

Meri Shairi: Khilona

کھلونا

اُس نے پوچھا:   ’’اے جانِ ارجمند
کون سا کھلونا ہے من پسند
کھیلے ہوں جس سے عمر بھر
بچپن سے لیکر جوانی تلک‘‘
میں نے سوچا اور غور کیا
پہلو میں کسی نے شور کیا
عمر بھر کی ٹھوکریں ہیں جسکا حاصل
وہ کھلونا تو ہے فقط مرا ہی دل!
تم بھی کھیلے ، ہم بھی کھیلے
خوشیاں کھیلیں، غم بھی کھیلے
پتھردل بن کے صنم بھی کھیلے
آنکھوں کو لیے ہوئے پُرنم بھی کھیلے
مگر دل بھی ہے باقی اور لگن باقی
آؤ کھیلیں، رہ گیا ہے کون باقی؟؟؟
Khushiyan, pathar, sanam, shayari, urdu sad romantic poetry, arjumand, pehlu, haasil, lagan
Meri Shairi: Khilona

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment