Meri Shairi Shab-o-Roz

Meri Shairi: Sang-e-Raah

Meri Shairi: Sang-e-Raah

Meri Shairi: Sang-e-Raah

سنگِ راہ

جو سنگِ راہ سمجھ کر پھینکا گیا ہو رہگذر میں
اسے جز ٹھوکروں کے اور کیا ملے گا اپنی عمر میں

تمہیں اپنی زندگی لگ جانے کی دعائیں دیتا
اگر خلافِ انسانی نہ ہوتا، کسی کو دھکیلنا ضرر میں

تمہیں یاد ہے وہ سیاہ رات، جب تو تھی میری ہمسفر
طوفان تھا، آندھی تھی اور میں تھا غرق تری نظرمیں

طوفانِ باد و باراں میں تاب نہ تھی ڈبونے کی
میرا سفینہ تو ڈوبا ہے تیرے آنسوؤں کے بھنور میں

میں نے کشتِ قلب کو آسوں کے لہو سے سینچا ہے
امیدوں کی فصل جلا دی، ستمگر نے پل بھر میں

میں نے چنے تھے خاص پھول، اس کی سیج کے لیے
انہوں نے چبھو دئیے کانٹے میرے خلوص کے جگر میں

میرے دل کے آنگن میں اک پھول جو کھلا تھا
ان کے روشِ ناز نے مسل دیا نجانے کس بہتر میں

داغ سینے کے جلائے میں رات کی تاریکیوں میں
وہ ہوئے بے پروا، ہر بار کسی نہ کسی برتر میں

بیتی یادوں کو بنا کے مشعلِ راہ، میں نے ڈھونڈا تجھے ہر جا
ہر چمن میں ہماری کہانیاں تھی، رسوائیاں تھی شہر میں

ازل سے ہے تڑپایا تو نے، ابد تک تڑپائے گی
سوائے بے وفائیوں کے اور ہے ہی کیا تیرے دفتر میں

ذرا پاس آکر دیکھ لے، حال اپنے بیحال کا
نگاہیں بچھائے بیٹھا ہے، دِیا جلائے در میں

چلدئیے وہ چراغِ تیم شب کو سپردِ ہوا کر کے
اِس دئے کی کیا وقعت بادوباراں کی نظر میں

آزمائشوں کا باب رقم ہوا کتابِ حیات میں
انہوں نے جلا دئیے اوراق اپنے شعلہَ قہر میں

دربدر رسوا کیا اسی نگاہِ غلط انداز نے
شوقِ نظر کیوں لے گئی، تیرے ہی شہر میں

دل نے کہاں نہ ڈھونڈا اس تمنائے بیتاب کو
تیرا ملا نہ کہیں نشان مسعودؔ سنگدل دہر میں

Meri Shairi: Sang-e-Raah

مسعود

sang e raah, urdu sad poetry, urdu adab, insaan, ruswa, kitab e dil, nigah, tamana, sangdil

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment