Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Idher Udher Sey

Idher Udher Sey
sheikh chili

Idher Udher Sey

ادھر ادھر سے  ٓ ٹینشن

شروع اللہ کے نام سے جو دلوں کے بھید بھی جانتا ہے۔

پیارے دوستو، ہماری زندگیوں میں ٹینشن اِس قدر بھری جا چکی ہے کہ اگر ہمیں ٹینشن نہ ملے تو لگتا ہے ہماری زندگی میں کسی چیز کی کمی سی ہے۔ ہم جان بوجھ کرٹینشن ڈھونڈھتے ہیں۔ ہر وقت یہی ٹینشن ہمیں کھائی جاتی ہے کہ ہمارا بی پی کم یا زیادہ ہوگیا ہے۔ ہٹے کٹے نوجوان بازوؤں کے ساتھ آلہ لگائے نظرآنے لگے ہیں کہ ہمیں ٹینشن ہے۔ میں نے سوچا چلیں آپ سے کچھ اِدھر اُدھر کی باتیں ہی شیئر کی جائیں اور ٹینشن بانٹی جائے!!

لیکن ایک بزرگ کی بات یاد آتی ہے کہ آپ ہیجان اور پریشانی کا شکار اس لیے بھی ہیں کہ آپ کی نظر مستقبل پر ہے جو آپ کو نظر نہیں آتا۔ حال پر توجہ دیں،مستقبل بہترہوگا۔بی پی کے آلے سے مجھے یاد آیا کہ انسان خود کو بالغ کب کہلاسکتا ہے؟ میرا خیال ہے کہ جب وہ اپنے آپ کو فریب دیناچھوڑ دیتا ہے مگر فریب تو ہم خود کو تاعمردیتے ہیں!
خیرچندروز پہلے میرے ایک دیرینہ دوست ،شاہد،مل گئے۔ بتانے لگے کہ حمید، کبریٰ سے شادی کررہا ہے، اور شاہد کی بیگم اُسے مجبورکررہی ہے کہ وہ حمید کوروکے کیونکہ کبریٰ پھوہڑ اور احمق لڑکی ہے۔ میں نے شاہد سے پوچھا تو آپ نے کیا کیا؟ توکہنے لگے کہ میں نے بیگم کو جواب دیا: ’’میں حمید کوکیوں روکوں؟ اُس نے مجھے تم سے شادی کرنے سے روکا تھا؟‘‘ ۔ اب اِس طرح کی ٹینشن تو ہم پال لیتے ہیں!

شاہد بہت دبلا پتلا سا نوجوان ہے، ایک وقت میں اِس نے بہت لمبے لمبے بال رکھے ہوئے تھے، جب اِس کی منگنی ہوئی تو لڑکی کی امی نے لڑکی سے کہا کہ بیٹی اپنے بال تھوڑے سے چھوٹے کروالواچھے لگیں تو بھابی بولیں امی آپ نے جس سے میری منگنی کی ہے ان کے بال تو مجھ سے بھی لمبے ہیں، بائی گاڈ ممی وہ پیچھے سے ایک ماڈرن لڑکی لگتے ہیں!

اِسی شاہد کا ایک واقعہ ہے کہ ایک بار یہ بیچارے کسی بس میں سوار تھے اور بس کھچا کھچ بھری ہوئی تھی کہ ایک بہت ہی بھاری بھر کم شخص کا پاؤں ان کے پائے نازک پہ آن پڑا،پھرکیا جی شاہد صاحب تو تکلیف سے نڈال ہورہے تھے اور اب اُس بھاری بھر کم انسان کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتے تھے۔ بڑی ہمت کرکے اُن سے کہنے لگے:’’آپ کے خیال میں نزع کا لمحہ اچھا ہوتا ہے یا موت کا؟‘‘ ۔ وہ صاحب حیران ہوئے مگر بولے : ’’ظاہر ہے نزع کی تکلیف سے موت اچھی ہے‘‘۔ تو ہمارے دوست بولے: ’’تو خدارا اپنا دوسرا پاؤں تھی میرے پاؤں پر رکھ دیجیے‘‘…..
شاہد کی اور بھی بہت سی باتیں ہیں جو میں آپ سے شیئر کرتاجاؤں گا۔ ایک باروہ مجھے ایک جلسہ گاہ میں لے گئے جہاں ایک مقرر دھواں دھار تقریر جھاڑرہے تھے اور اعتراز کررہے تھے کہ پچھلے الیکشن میں دھاندلی ہوئی تھی،بتانے لگے ’’ہماری مخالف پارٹی نے دھاندلی کی ہے، ہمارے ایک ووٹر نے ،جب وہ مجھے تیسری بار ووٹ ڈالنے گیا تو دیکھا کہ اُن کے بندے ووٹ بکس توڑرہے تھے‘‘۔اِس پر اچانک پنڈال کے باہر ایک گدھے نے رینگنا شروع کردیا۔ مقرر نے تقریر جاری رکھی اِس پر شاہد میاں بولے: ’’ایک وقت میں ایک ہی بھائی تقریرکرے‘‘!

خیرسیاسی لیڈر اور وزرأ جب بولنے پہ آئیں ان کے سامنے گدھوں کی کیا چلتی ہے ۔ شاہد کی بھی نہیں چلی تھی!! اِسی طرح کے ایک وزیر جو پولیس کے محکمے سے وابستہ تھے، سپیشل ٹریننگ حاصل کیے ہوئے کتوں کامعائنہ کررہے تھے۔ وہ ہرکتے کے سامنے سے گزرتے،مگر صرف ایک کتے نے اپنی اگلی دونوں ٹانگیں اٹھاکر وزیرِ پولیس کے پیٹ پر رکھ دیں، وزیر صاحب نے حکم دیا کہ ’’صرف یہ کتا پولیس کی ڈیوٹی کے لیے تیار ہے،کیونکہ یہ میری جیبیں سونگھ رہا ہے‘‘۔

کتوں سے وابستہ ایک بات یاد آئی کہ ڈسکوڈانس کرتے ہوئے لڑکوں اور لڑکیوں کو دو کتے دیکھ رہے تھے۔ایک کتے نے دوسرے سے کہا:’’یہ کیا کررہے ہیں؟‘‘۔ دوسرے نے کہا: ’’یہ تو میں نہیں جانتا، لیکن جب میں اس طرح کرتاہوں تو میرا مالک مجھے پیٹ کے کیڑے مارنے کی دوائی پلادیتا ہے‘‘۔

عزیزانِ پیغام اِسی قسم کی باتوں کے ساتھ میں پھرحاضرہوں گا، ابھی چلتے چلتے ایک سچی اور واقعی بلند سوچ کے ساتھ اجازت چاہوں گا، اللہ سب حامی و ناصرہو! ’’طویل گفتگو دیوانگی اور خاموشی حکمت کی دلیل ہے!‘‘

تحریر:  مسعود  ۲۴ جولائی ۲۰۰۵

Idher Udher Sey

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment