Meri Tehreerein Shab-o-Roz

Meri Tehreer: Jeet Humari Ho Gi

Meri Tehreer: Jeet Humari Ho Gi
Hopeful

Meri Tehreer: Jeet Humari Ho Gi

جیت ہماری ہو گی

ہوتا ہے شب و روز تماشا

بہت دنوں سے میری طبیعت بہت بوجھل سی ہے۔

ماں کوستی ہے کہ اپنے کمرے کو مکمل طور پر مقفل کر کے اندھیرے میں بیٹھ رہنے سے طبیعت بوجھل نہیں ہوگی تو کیا ہوگا؟ ذرا باہر نکل کے دیکھو گلی کوچوں، سڑک بازاروں میں کیا خوب جگمگ ہے۔ میں ماں کی محبت دیکھتا ہوں اور مسکرا دیتا ہوں۔ ماں یہ نہیں جانتی کہ میرابندکمرہ میرے لیے جامِ جم سے بڑھ کرہے جہاں ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے۔    Meri Tehreer: Jeet Humari Ho Gi

میرا دکھ

میں ماں کو کیسے بتاؤں کہ میں کھڑکی سے باہر دیکھتا ہوں! تو میرے سامنے رمضان کے بابرکت مہینہ میں افطاری کے وقت آباد محلے میں پڑتے ڈاکے نظر آتے ہیں۔  یہ بھی دیکھتا ہوں! کہ اُسی بابرکت مہینے میں شراب کے نشے میں دھت خبیثوں کو حکومت کی سپیشل گاڑیاں! ائر پورٹ سے پِک کرتی ہیں۔

میں یہ بھی دیکھتا ہوں! کہ روٹی کومجبورانسان اپنے معصوم اور بے گناہ بچوں کو محنت اور مشقت کرنے پہ مجبورکرتے ہیں۔! بڑے بڑے لوگوں کی بڑی بڑی گاڑیوں کو اپنے ننھے ہاتھوں سے دھو کرمزدوری کی بجائے جواب میں گالیاں کھاتے ہیں۔!

اپنی ماں کو میں کیسے بتاؤں! کہ اکیسویں صدی میں پہنچ کربھی انسان اِس قدر جاہل اور احمق ہے! کہ اجتماعی زیادتی کا حکم دے اور اگر کوئی مختاراں مائی انصاف مانگے تو اُس کے گرد حصار کھڑے کردئیے جائیں۔! میں یہ بھی دیکھتاہوں کہ سیاسی مقاصدکوحاصل کرنے کے لیے گندی ذہنیت رکھنے والے ڈاکٹرشازیہ کی عزت بھی داغدارکرتے ہیں۔!

فلم

میرے کمرے کی تاریک دیواریں ایک فلم کے پردے کی مانند ہیں! جن پر گزرے ہوئے دور کی انگنت فلمیں چلتی ہیں۔

میں یہ بھی دیکھتاہوں کہ کن امیدوں، آسوں اور نیک تمناؤں کا آسرا لیے بے سروساماں لوگ لٹتے اور بربادہوتے اِس ملک کی سرحدوں میں داخل ہوئے تھے۔! لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اِس ملک کی بنیادوں میں ملاوٹ ہوچکی۔! مفادپرست شیطان کا روپ دھارچکے ہیں! اور وہ اِس کی دھرتی کو تقسیم کرنے کا بندوبست کرچکے ہیں۔

میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ ایوب خان کے دور میں ترقی کی ایک نئی لہر نے جنم لیا! اور ملک میں خوشحالی ہونا شروع ہوگئی۔! عوام اپنی امنگوں کو پوراہوتے دیکھ رہی تھی مگر پھر وہی مفاد پرست مافیا چھا گیا! اور وہی ایوب خان لیڈر کی بجائے ڈکٹیٹر بن گیا۔! بنگالیوں کا حق ان سے چھین لینے کی کوشش کی جانے لگی جس نے اُن میں غدار پیداکیے۔

 یحییٰ خان جیسا بد کردار لیڈرکوحکومت کی عنوان سنبھالتے دیکھتا ہوں! اور کیا بھٹو ، کیا مجیب الرحمٰن اپنے اپنے مفاد اور کرسی کے ہوس میں ملک کے دوٹکڑے کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔! بنگلہ دیش کا منحوس نام جنم لیتا ہے۔

میں یہ بھی دیکھتاہوں کہ وہی بھٹو،! جو کبھی ‘تم ادھرہم ادھر’ کا نعرہ لگاتا ہے،! آج اسی کی آواز عوام کی آواز قرارپاتی ہے۔ لوگ بھٹو کی ایک ایک پکار پہ لبیک کہتے دیوانہ وار آگے بڑھتے ہیں۔! میں ملک میں ایک نئے دور کا آغاز ہوتے بھی دیکھتا ہوں۔ بھٹو کو ملک کا پہلا حقیقی آئین بناتے دیکھتا ہوں۔ پاکستان کی ساکھ کو بہتر بناتے دیکھتا ہوں۔

میں یہ بھی دیکھتاہوں کہ یہی بھٹو تھا جس نے للکار کرکہا تھا! کہ اگر بھارت ایٹم بم بناسکتا ہے تو ہم بھی بناسکتے ہیں! اور یہی بھٹو اپنے ایٹمی پروگرام کا آغازکرتا ہے۔! میں وہ دن جب بھی نہیں بھولتا جب یہی بھٹو اقوامِ متحدہ میں بیٹھ کر امریکی، برطانیوی، روسی سامراجوں کے سامنے قرادادی کاغذات پھاڑکرپھینکتا ہے !اور کہتا کہ میری عوام مررہی ہے!

اِسی سکرین پہ میں یہ بھی دیکھتا ہوں! کہ یہی بھٹو شاہِ ایران کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے! کہ ہم بلوچستان سے تیل نہیں نکالیں گے! اور تیل کے کنوؤں کو بارود سے بھر دیاجاتا ہے۔! میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ یہی بھٹو ملک کے کاروبار کو سرکاری تحویل میں لیکر ملکی معیشت کا بیڑا غرق کر دیتا ہے۔!  اور پھر اِسی بھٹو کو امریکہ اپنے ایک اور پالتو جنرل، جنرل ضیا کے ہاتھوں پھانسی پہ چڑھا دیتا ہے!

آمریت

اپنے اسی بند کمرے سے میں یہ بھی دیکھتا ہوں! کہ کیسے ضیا دور میں ملک کی حالت بُری سے ابترہوتی ہے۔! کہیں ضیا کی آمریت کی وجہ سے کراچی کی روشنیوں کو بدتری کی وہ مثال بنایا جاتا ہے! جہاں بوریوں میں بیگناہوں کا قتل کیا جاتا ہے! اور دہشتگردی کی وہ مثال قائم کی جاتی ہے جسکا کوئی ثانی نہیں۔ Meri Tehreer: Jeet Humari Ho Gi

وہ دور جب الطاف حسین جیسا بدکردارترین دہشتگرد پیدا ہوتا ہے،! جو بھارت سے پیسہ لیکر اپنے ہی ملک میں انسانیت کے خون سے ہولی کھیلتا ہے۔ میں یہ بھی دیکھتا ہوں! کہ کیسے ضیا نے دولت اور اسلحہ حاصل کرنے کے لیے مذہبی دہشتگردوں کیساتھ ملکر مجاھدین کا وجود قائم کرتا ہے۔! وہی مجاھدین جو مستقبل میں طالبان کی صورت میں پاکستان کا امن تباہ کرتے ہیں۔

میں اپنے اس بند کمرے کے جامِ جم سے یہ بھی دیکھتا ہوں! کہ کیسے ضیا ہی نے کل طاقت رکھنے کے باوجود اسلام کو نافذ نہیں کیا! اور نظامِ مصطفی ٰ کے نام پر دین کے ساتھ گنواؤنا مذاق کیا۔! قائد کی سالگروں پر کیسے دانشوروں کے جھرمٹ اکٹھے کر کے ملک کا پیسہ اور وقت برباد کیا۔

میں یہ بھی دیکھتا ہوں! کہ ضیا ہی نے لاہور کی گلیوں سے اٹھا کر ایک ایسے ناسور انسان کو جو کہیں چپڑاسی لگنے کے قابل نہیں تھا! اسے پنجاب کا وزیرخزانہ لگا دیا۔! وہ ناسور جس نے بعد میں پاکستان میں کرپشن کا وہ بازار گرم کیا جس نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے کے قریب لا کھڑا کیا۔

اور پھروہ دور آتا ہے! جہاں رہی سہی حالت بھی شرمندگی کے پانیوں میں بہہ جاتی ہے۔

خاتون کی حکمرانی

میں یہ بھی دیکھتا ہوں! کہ ایک خاتون پہلی بار ایک اسلامی ملک کی سربراہی کرتی ہے ! – ایکبار پھر آسوں کی ماری عوام امیدوں کے سہارے جی اٹھتی ہے کہ یہ عورت پاکستان کیساتھ مخلص ہو گی۔! پر اس عورت کی شادی ایک کرپٹ بزنس مین سے کر دی جاتی ہے!  اور پھر ملک میں خوشحالی کی بجائے لوٹ مار کی ایک نئی راہ دکھلاتی ہے۔

پھر وہ دور بھی آتا ہے جہاں حکومت میں سودے بازیاں ہوتی ہیں،! ایک باری تمہاری ایک باری میری! پر اِس وطن کو نوچ نوچ کرلوٹا جاتا ہے۔

جاہل، انپڑھ،جعلی اور خریدی ہوئی ڈگریوں سے وزراتیں حاصل کرنے والے ملک کے سیاہ و سپید کے مالک بنتے ہیں۔! عوامی بدحالی اپنے عروج کی جانب بڑھتی چلی جاتی ہے! اور مہنگائی غریب کی کمریں توڑنے کے لیے کافی ہے۔! میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ پڑھے لکھے نوجوانوں کی روزیاں نہ ملنے کی وجہ سے ڈاکے ڈالنے پر مجبورکیا جاتا ہے۔

اپنے جسموں کے مدوجز اور حرکات و سکنات کو بدل کر! خواجہ سراؤں کے روپ میں ڈھلنے پر مجبور کر دیا جاتا۔! محافظوں کو عزتیں لوٹتے بھی دیکھتا ہوں، کہ کس طرح سندھ کی بیٹیوں کو ضیا کے دور میں برہنگا کر کے شہر کے قریہ قرہ پھرایا جاتا ہے۔

میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ لوگ اپنے ملک کے حالات سے اِس قدربدظن ہوچکے ہیں! کہ وہ کہیں بھی باہر بھاگنے کے درپہ ہو جاتے ہیں۔

اِسی کشمکش میں کئی خوبرو نوجوانوں کو سرحدوں پہ گولیوں کا نشانہ بنتے دیکھتاہوں۔! میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ لوگ غیروں کے بچوں کو اپنا بچہ بنا کر، بہن کا اپنے بھائی کو اپنا شوہر ظاہر کر کے ویزے لگواتے دیکھتا ہوں۔!

میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ وطن کے سرمائے کو ایک اچھامستقبل دینے! کی بجائے انہیں ہیروئن اور چرس پہ لگایا جاتا ہے۔

گلی کوچوں میں گناہوں کے بازار سرگرم کیے جاتے ہیں۔! جسموں کی سجاوٹ لگاوٹ پر گھنگھروں کی چھن چھن پر عورت کا سودا ہوتے بھی دیکھتا ہوں اور  میں یہ بھی دیکھتا ہوں! کہ کیسے ایک محسن کو ملک کی حفاظت کے لیے دن رات کی محنت کرنے کے صلے میں کس طرح ذلیل و رسوا کیاجاتا ہے۔

میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ کتابوں کی دکانوں کی جگہ پر اب ویڈیوز اور  ڈی وی ڈیز کی دکانوں کو ترجیح دی جاتی ہے! اور گلی کوچوں میں معصوم بچوں کو فحش فلمیں دکھائی جاتی ہیں۔  Meri Tehreer: Jeet Humari Ho Gi

اندھیرے

میں نے یہ بھی دیکھتا ہوں کہ کیبل کی لعنت کس طرح بچے کھچے ذہن کو اپنی لپٹ میں لے لیتی ہے! اور فحاشی کا سرِعام ارتکاد کیا جاتا ہے۔

 استاد کا احترام سلف ہوتے بھی دیکھتا ہوں! اوریہ بھی دیکھتا ہوں کہ علم دینے والے اساتذہ میں بھی ایسے ناسور پائے گئے ہیں! جو ٹیوشن کے پردے میں بدکاری  کرتے ہیں۔! میں اپنے اسی بند کمرے کے جامِ جم سے ننھی اور معصوم بچیوں کو قرآن کے سایوں میں بے آبرو ہوتے دیکھتا ہوں! اور یہ بھی دیکھتا ہوں کہ کیسے وہ دکانوں میں گھستی ہیں تو ناسور انکی چھاتیوں کو ٹٹولتے ہیں۔

 اونچ نیچ کی ایسی دیواریں دیکھتا ہوں! کہ انسان کی پہچان اُس کی پیدائش پر ہی کر دی جاتی ہے،! اور انسان وہی ہے جو پیسہ اور روپے والے گھر میں پیدا ہو، باقی کیڑے مکوڑے ہیں جنہیں اپنا اپنا فنکشن پوراکرنا ہے۔!

میں نے یہ بھی دیکھتا ہوں! کہ بلند وبالا دعوے کرنے والے کس طرح عیار اور مکار ہوتے ہیں! کہ وہ اپنے ملک کی سپریم کورٹ میں بیٹھ کر ایک دوسرے پر گالی گلوچ اور ہاتھا پائی کرتے ہیں۔! اور اس پر بھی گذارا نہ ہو تو اپنے ہی ملک کی سپریم کورٹ پر حملہ کر دیتے ہیں! اور اسکے باوجود معصوم کہلائے جاتے ہیں۔

 اسی جامِ جم سے میں دین کو مفقود ہوتے  دیکھتا ہوں! اور مذہب کا نام پر انسانیت کا برین واش کر کے ان سے دہشت گردیاں کرواتے بھی دیکھتا ہوں۔! اور یہ بھی دیکھتا ہوں کہ کہیں سادہ لوح دینداروں کو چن چن کر مارا جاتا ہے۔! میں نے ایک ایسی جنگ بھی دیکھی ہے! جس کا کوئی وجود ہی نہیں اور جو اپنے مفاد کی خاطربڑھکائی گئی ہے۔

میں یہ بھی دیکھتا ہوں! کہ قوم کی اکثریت میں ہڈحرامی بڑھتی چلی جاتی ہے،! اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں،!حکمرانی کرنے کی ہوس سب میں دیکھتا ہوں! اور یہ بھی دیکھتا ہوں کہ ہر بندہ اپنے عہدے کا ناسور ہے!

 یہ بھی دیکھتا ہوں کہ بے حسی  دیمک کی طرح ہمارے دلوں کو چاٹ رہی ہے، اپنے سامنے روزانہ ناانصافیاں ہوتے دیکھتے ہیں مگر گواہی تک نہیں دیتے، جبکہ دوسری جانب قرآن پر ہاتھ رکھکر جھوٹی سے جھوٹی گواہی بھی دینے سے خوف نہیں کھاتے۔ میں عدلیہ کو طوائف سے ذلیل ہوتے بھی دیکھتا ہوں اور یہ بھی دیکھتا ہوں کہ عوام اپنے اپنے کام جلد سے جلد نکلوانے کے لیے رشوتیں بھی دیتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے ایک مافیا کو جنم دیتے ہیں…..

عافیت

 اپنی ماں کو کیسے میں سمجھاؤں کہ ماں کپڑا اٹھاؤں تو اپنا ہی پیٹ ننگا ہوتا ہے، بہتر ہے یہی کہ مجھے میرے بند اور تاریک کمرے کی چاردیواری میں قیدرہنے دے!

میں بہت سخت دل تھا، مجھے اپنے ضبط پہ ناز تھا مگر آج کیوں میری آنکھیں بھرآئی ہیں؟ یہ کیسا رنج ہے مجھے؟ شاید یہی وطن سے محبت ہے جو مجبورکرتی ہے کہ میں کہیں بھی چلا جاؤں میری پہچان پاکستانی کی طرح سے ہی ہوگی۔ یہی میری ابتدأ تھی اور یہی میری انتہا ہے! میں اپنی پرنم آنکھوں کوبند کیے کھڑکی کی جانب منہ کرتا ہوں جس پہ بڑے بڑے پردوں نے مکمل اندھیرا کیے ہوا ہے!

مگر!!

یہ کیا ہوا؟   روشنی کی ایک کرن کیسے آ گئی  میرے کمرے؟ میں لپک کر نہ چاہتے ہوئے بھی پردہ اٹھاتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ باہر ایک نئی صبح جنم لے رہی ہے۔ ابھرتا ہوا سورج اِس بات کی دلیل ہے کہ صبح ہو رہی ہے! اور وہ دن ضرور طلوع ہوگا جو ہمارا دن ہوگا!

نیچے صحن میں معصوم بچوں کو سبز ہلالی پرچم لیے ایک امید سے بڑھتا ہوا دیکھتا ہوں تو میرے اندر ایک نیا حوصلہ جنم لیتاہے! مجھے یاد آنے لگتا ہے کہ یہی وہ دھرتی ہے جس نے ڈاکٹر عبدالسلام اور عبدالقدیر کو جنم دیا، اسی دھرتی نے عبدالستارایدھی کو جنم دیا، حکیم سعید بھی یہی تھے، ڈاکٹرغلام مصطفےٰ ملک اور ڈاکٹراسراراحمد جیسے مدبر بھی۔

بچوں کے کرکٹ میچ سے مجھے یاد آنے لگتا ہے کہ یہی پر وہ مردِ بحران بھی پیدا ہوا تھا جس نے ایک کمزور اور ضعیف ترین ٹیم کو وورلڈچمپئن بنایا تھا۔  میں غور کرتا ہوں تو لگتا ہے کہ انہی بچوں میں سے کوئی حسن سردار بنے گا، کوئی کلیم اللہ سمیع اللہ بنے گا۔ یہی سے جہانگیرخان جنم لے گا۔ 

جب غور کرتا ہوں دیکھتا ہوں کہ اسی دھرتی پر ایسے ایسے غمخوار بھی پیدا ہوئے ہیں، جنہوں نے اپنی زندگیاں انسانیت کے لیے وقف کردی ہیں۔ اگر برائیوں کی لسٹ لمبی ہے توا چھائیاں بھی تو ہے نا

…اور امید کی ایک کرن اگر ایک دیے کوروشن کرتی ہے تو اِس دیے سے نجانے کتنوں کا بھلا ہو اور کتنے دیے مزید جلیں گے!

میں اپنے مقفل کمرے کو کھول دیتا ہوں اورصحن میں جاکر بچوں کے ساتھ اپنے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم لیکر شامل ہوجاتا ہوں ۔ اِس امید پر کہ:

’’جیت ہماری ہوگی، ہاریں گے اندھیارے، اک دن پورے ہونگے، سارے خواب ہمارے‘‘!!!


تحریر: مسعود ؛ کوپن ہیگن؛۲۴ جولائی ۲۰۰۵

Shab-o-roz

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.