آسمان

میں کب تنہا ہوا تھا، یاد ہو گا

Basheer Bdr - Aasman
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#0C1C76″ border_width=”5″ border_color=”#FFFFFF” ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آسمان [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#9195FF” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

میں کب تنہا ہوا تھا، یاد ہو گا
تمہارا فیصلہ تھا، یاد ہو گا

بہت سے اُجلے اُجلے پھول لے کر
کوئی تم سے ملا تھا، یاد ہو گا

بچھی تھیں ہر طرف آنکھیں ہی آنکھیں
کوئی آنسو گرا تھا، یاد ہو گا

اُداسی اور بڑھتی جا رہی تھی
وہ چہرہ بجھ رہا تھا، یاد ہو گا

وہ خط پاگل ہوا کے آنچلوں پر
کِسے تم نے لکھا تھا، یاد ہو گا

میں کب تنہا ہوا تھا، یاد ہو گا

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW