آسمان

خاندانی رشتوں میں اکثر رقابت ہے بہت

Basheer Bdr - Aasman
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#0C1C76″ border_width=”5″ border_color=”#FFFFFF” ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آسمان [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#9195FF” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

خاندانی رشتوں میں اکثر رقابت ہے بہت
گھر سے نکلو تو یہ دنیا خوب صورت ہے بہت

اپنے کالج میں بہت مغرور جو مشہور ہے
دل مرا کہتا ہے اس لڑکی میں چاہت ہے بہت

ان کے چہرے چاند تاروں کی طرح روشن رہے
جن غریبوں کے یہاں حسنِ قناعت ہے بہت

ہم سے ہو سکتی نہیں دنیا کی دنیا داریاں
عشق کی دیوار کے سائے میں راحت ہے بہت

دھوپ کی چادر مرے سورج سے کہنا بھیج دے
غربتوں کا دور ہے جاڑوں کی شدت ہے بہت

ان اندھیروں میں جہاں سہمی ہوتی تھی یہ زمیں
رات سے تنہا لڑا جگنو میں ہمت ہے بہت

خاندانی رشتوں میں اکثر رقابت ہے بہت

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW