آہٹ

دلوں کی گرد کو ہم صاف کرتے نہیں

Basheer Badr - Aahat
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]
بشیربدر – مجموعۂ کلام: آہٹ [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00FABD” border_width=”5″ border_color=”#014333″ ]

دلوں کی گرد کو ہم صاف کرتے نہیں
عجب مزاج ہے اپنا طواف کرتے نہیں

یہ بے تعلقی چھت لے کے بیٹھ جائے گی
بہت دنوں سے کوئی اختلاف کرتے نہیں

ہر ایک لفظ میں دس بیس لفظ ہوتے ہیں
ذہین لوگ کبھی بات صاف کرتے نہیں

وہ میرؔ وقت ہو یا غالبؔ زمانہ ہو
کہ ڈپلیکیٹ کا ہم اعتراف کرتے نہیں

سخن جو میرؔ کا ہے، میرؔ کو مبارک ہو
کسی کے مال پہ ہم ہاتھ صاف کرتے نہیں

بشیر بدرؔ کے لہجے میں اب وہ کاٹ کہاں
غزل سے دل میں وہ گہرا شگاف کرتے نہیں

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW