تنہا تنہا

جب بھی دل کھول کےروئے ہوں گے

Ahmed Faraz
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00a0f2″ border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]
جب بھی دل کھول کےروئے ہوں گے [/dropshadowbox] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#42e8df” border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]

جب بھی دل کھول کےروئے ہوں گے
لوگ آرام سے سوئے ہوں گے

بعض اوقات یہ مجبوریٰ دل
ہم تو کیا آپ بھی روئے ہوں گے

صبح تک دست صبا نےکیا کیا
پھول کانٹوں میں پردئے ہوں گے

وہ سفینے جنھیں طوفاں نہ ملے
ناخداؤں نے ڈبوئے ہوں گے

رات بھر ہنستے ہوے تاروں نے
اُن کے عارض بھی بھگوئے ہوں گے

کیا عجب ہے وہ ملے بھی ہوں فراؔز
ہم کسی دھیان میں کھوئے ہوں گے

[/dropshadowbox][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00a0f2″ border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]

احمدفراز – تنہا تنہا

[/dropshadowbox][/nk_awb]

 

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW