تنہا تنہا

کس کو گماں ہے اب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے

Ahmed Faraz
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00a0f2″ border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]
کس کو گماں ہے اب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے[/dropshadowbox]

[dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#42e8df” border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]

کس کو گماں ہے اب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے
ہائے وہ روز وشب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے

یادش نجیر عہد گزشتہ کی صحبتیں
اِک دور تھا عجب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے

بے مہرئی حیات کی شدت کے باوجود
دل مطمئن تھا جب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے

میں اورتقابل غم دوراں کا حوصلہ
کچھ بن گیا سبب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے

اِک خواب ہوگئی ہے رہ ورسم دوستی
اِک وہم سا ہے اب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے

وہ بزم دوست یاد توہوگی تمھیں فراز
وہ محفل طرب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے

[/dropshadowbox][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00a0f2″ border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]

احمدفراز – تنہا تنہا

[/dropshadowbox][/nk_awb]

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW