تنہا تنہا

ہر ایک دل کو طلب ہر نظر سوالی ہے

Ahmed Faraz
[nk_awb awb_type=”color” awb_color=”#72FFFF”] [dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00a0f2″ border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]
ہر ایک دل کو طلب ہر نظر سوالی ہے[/dropshadowbox]
[dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#42e8df” border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]

ہر ایک دل کو طلب ہر نظر سوالی ہے
کہ شہر حسن میں جلووں کی قحط سالی ہے

کہاں سے دوست کہ آشوبِ دہر سے میں نے
ترے خیال کی آسودگی بچالی ہے

بتا رہا فضا کااٹوٹ سناٹا
افق سے پھر کوئی آندھی اُترنے والی ہے

لرزرہے ہیں شگوفے چمن میں کھلتے ہوئے
حنائے دستِ صبا میں لہو کی لالی ہے

پیؤ شراب کہ ناصح نے زہر بھی دےکر
ہماری جُرأتِ رِندانہ آزمالی ہے

پھر آج دانۂ گندم کےسلسلے میں فرازؔ
کسی خدا نے مری خلد بیچ ڈالی ہے

[/dropshadowbox][dropshadowbox align=”none” effect=”horizontal-curve-bottom” width=”auto” height=”” background_color=”#00a0f2″ border_width=”5″ border_color=”#1b10a9″ ]

احمدفراز – تنہا تنہا

[/dropshadowbox][/nk_awb]

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW