Politics

Halaat Badal Nahin Saktey

Qaumi Asembly Khol Di Gaii
pakistan parliament

بااسمِ تعالیٰ

Halaat Badal Nahin Saktey

حالات بدل نہیں سکتے

سینٹ میں ہنگامہ، تلخ جملوں کا تبادلہ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی (خبر)

معزز دوستو!

یہ کوئی سکول نہیں، کوئی بازیچۂ اطفال نہیں، کوئی دس دس سال کے بچوں کا شغل نہیں! بلکہ یہ پاکستان کی سینٹ کا حال ہے، جہاں پختہ عمر اور عوام کے چنیدہ لیڈرزنشست لگا! کر پاکستان کے امور پر بات چیت کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے تئیں عوام سے سب سے بلند درجے پر ہیں اور عوام کے ہمدرد بھی!!!

خبر کے مطابق وفاقی وزیر قانون و انصاف و انسانی حقوق محمد وصی ظفر اپوزیشن ارکان کے خلاف نعروں پر مشتعل ہوگئے! اور غیرپارلیمانی الفاظ کا تبادلہ کرتے ہوئے اپوزیشن بنچوں کی طرف آگئے،! دوسری طرف سے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمینٹرینز کے سینٹر رضا ربانی عباسی! اور مجلس عمل کے مولانا راحت حسین بھی ایوان کے درمیان آگئے۔

خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ انہیں دست وگریبان ہونے سے تو روک لیا گیا! مگر یہ محترم اور بزرگ ہستیاں کئی دیر تک ایک دوسرے کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہے! ۔ دوسرے الفاظ میں گالی گلوچ!

دوستو! محب الوطن پاکستانی کے دل کا زخم گہرا ہوتا جا رہا ہے !کہ پاکستان کے حالات ابتر سے ابتر کیوں ہوتے جا رہے ہیں! اور تمام تر وسائل ہونے کے باوجود ملک کو تباہی کے دہانے پر کیوں لا کر کھڑا کردیا گیا ہے۔

ذرا غور کیجیے!

جب ایک ملک کی سینٹ میں بیٹھ کر! ایک وفاقی وزیر جس کے پاس قانون اور انصاف مگر سب سے بڑھ کر! انسانی حقوق کی وزارت ہووہی انسان دوسروں پر گالی گلوچ کرے،! ہاتھا پائی کے لیے مشتعل ہوجائے، !جس ملک میں داڑھیاں رکھ کر سنتیں پوری کرنے والے! مولانا اِس بات کوپسِ پشت ڈال کر کہ جس ہال میں کھڑے !ہوکر وہ گالی گلوچ، ہاتھا پائی اور نازیبا الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں اُسی ہال میں باپردہ خواتین میں موجود ہیں، پھر اُس ملک کی تباہی اور ابتری کو تو آپ اپنی سینٹ میں بیٹھ کر دعوت دے رہے ہیں۔

یہ حال دیکھ کر اگرکسی محب الوطن کی آنکھ خون کے آنسو رونے لگے تو اُسے پاگل اور دیوانہ سمجھ کر اُس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔کیونکہ نہ تو اُس کی محبت اپنے وطن سے کم ہوگی اور نہ ہی اُن لیڈروں کی مفادپرستی اور اپنے وطن سے دشمنی جو انہیں پالتوؤں کی طرح کاٹ کھانے کے لیے مجبور کرتی ہے۔

عوام کی بدقسمتی ہے کہ حالات بدل نہیں سکتے۔ حالات کو بدلنے کے لیے ایک قربانی دینا ہوگی، ایک بہت بڑی قربانی۔خون کی قربانی،جس میں غریب نہیں بلکے امیر کاٹے جائیں۔

’میری ناچیز آنکھیں اُس خوفناک اور بھیانک خواب کو دیکھ رہی ہیں جسے خانہ جنگی کہتے ہیں ۔ اللہ کرے میری آنکھیں وہ دن دیکھنے سے پہلے ہی بند ہوجائیں ۔ اے میرے پیارے وطن پاکستان !اللہ تیری حفاظت کرے!!!!!
(آمین)

Halaat Badal Nahin Saktey

Pakistani National Assembly, Pakistan Law Enforcement

والسلام: مسعود ۔ ۲۹ اکتوبر ۲۰۰۴

Halaat Badal Nahin Saktey

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

October 2004
MTWTFSS
 123
45678910
11121314151617
18192021222324
25262728293031

PG Special