Columns

64سال

64سال

64سال

یورپ میں رہتے ہوئے اور یورپ کی سیاست کو دیکھتے ہوئے میں ایک بات بھرپور وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں صرف ایک سیاسی سوچ پائی جاتی ہے، اور وہ سوچ ہے عمران خان کے پاس!

پیپلز پارٹی کی سیاست بی بی کی وفات کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھی، جو پی پی پی آج ہے وہ سندھ کے ڈاکوؤں کے زیر سایہ زرداریوں کے تسلط میں جکڑی ہوئی وہ سوچ ہے جو ‘روٹی کپڑا اور مکان’ اور ‘شہید بھٹو اور شہید بی بی ‘ کے کھوکلے اور بیجان نعروں کے سوا کچھ نہیں!  یوں  زرداری اور سن آف زرداری اگر اس کےسوا کوئی بھی سیاسی سوچ لے کر آئیں گے عوام انہیں مسترد کر دے گی، کیونکہ ان میں سیاست نام کی کوئی شے موجود نہیں۔ عوام کو  بھٹو کےعالیشان دربار کی شان و شوکت دکھا کر کندذہن بنا دیا گیا ہے۔ جب تک یہ  مزار قائم ہے سندھی غلام رہے گا!

نون گینگ کبھی سیاسی جماعت تھی ہی نہیں! نون گینگ جرنیلوں کےسیاست میں لائے ہوئے ایک ایسے شخص کی تخلیق ہے جسے جنرل ضیا نے پنجاب میں اپنے مفادات بحال رکھنے کے لیے سیاست میں لایا تھا۔ ضیا کے سیاسی تخم سے جنم لینے والے نوازشریف نے ہر ممکن سازش سے مسلم لیگ میں گڑ بڑ کرنے کی کوشش کی اور جب 1989 کے الیکشن ہارنے کے بعد محسوس کیا کہ بی بی بے نظیر عوام کی مقبول ترین لیڈر بن چکی ہے اور اسکو سیاست کے میدان میں شکست دینا آسان نہیں تو اس نے بیوکریسی کو دولت کے قصر اور عورتوں کے جسموں کے مدوجز دکھا کر انکے ضمیر خریدے، انہیں اپنی ذات کیساتھ پابند کر لیا!

مگر جب پھربھی سیاست میں ناکامی نظر آئی تو بے نظیر کی ننگی تصاویر اخباروں کی زینت بنائیں اور انکے پمفلٹ بنا کر جہازوں سے پھینکوائے۔ اپنی سیاسی دھاک کو منوانے کے لیے دہشتگردی کروائی جسکا خنزیر ترین مظاہرہ پاکستان کی سپریم کورٹ پر حملہ کر کے کیا! کسی بھی مہذب معاشرے میں ملک کی سب سے بڑی عدالت پر حملہ کرنا سب سے بڑی دہشتگردی ہوتی ہے۔ اگر پاکستان میں کسی بھی کسی بھی عدالت ہوتی تو نون گینگ اسی دن کالعدم قرار دیدی جاتی۔

مگر ایسا نہیں ہوا! کیوں؟ اس لیے کہ نوازشریف نے اپنی سب سے بڑی سیاسی حریف بے نظیر کی گندی تصاویر کے ساتھ ساتھ بیوکریسی کو جو چھانگا مانگا، مری ، ملتان اور دوسری جگہوں پر دولت اور عورت سے مغلوب کرتا رہا وہاں ججز اور بیوکریسی کی پورن فلموں میں بھی بنواتا رہا۔ آج وہی پورن فلمیں مریم صفدر کے کولیکشن میں موجود ہیں جنہیں وہ گاہے بگاہے اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ نون گینگ کی جو بھی سیاسی سوچ ہے وہ پورن فلموں کے مرہونِ منت ہے!

ان دو جماعتوں کے علاوہ پاکستان میں کوئی بھی تیسری سیاسی قوت نہیں قائم ہو پائی۔ تیسری بڑی قوت ہمیشہ سے آرمی رہی ہے جس نے تشکیلِ پاکستان کے بعد اس ملک کے سیاسی پروسیس کے لیے زہرِ مہلک کا کام کیا۔ یوں 1947 سے 2022 تک 33 سال تک فوج حکومت پر برجمان رہی اور 42 سال تک سول حکومتیں۔ ان 42 سالوں کی سول حکومتوں میں سے نون گینگ اورپی پی پی نے 31 سال تک حکومت کی ! یوں فوج، پی پی پی اور نون گینگ نے ملکر کوئی 64 سال  تک حکومت کی!!!!

64 سال!!!!

یہ وہ تین بڑے ناسور ہیں جنہوں نے پاکستان کو اسقدر خنزیر سیاسی ماحول دیا ہے کہ آج پاکستان سیاسی طور پر انسانی کائنات کا سب سے خنزیر ترین نظام ہے! یہ وہ نظام ہے جس میں دنیا کی پانچویں بڑی فوج کا سربراہ کہتا ہےکہ میری بیوی اور بہو کے پاس جو اثاثے ہیں میں انکا جواب دہ نہیں! جناب اعلیٰ آپ واقعی جوابدہ نہیں کیوں کہ جواب دہ وہ خود ہیں مگر یہ عرض فرمایجیے کہ اس نظام میں ایسی کون سی عدالت ہے جو چیف آف آرمی اسٹاف کی بیوی اور بہو کو عدالت میں بلا کر ان سے سوال جواب کرنے کی جرأت رکھتی ہے؟

وہ کونسا جج ہے جو چیف آف آرمی اسٹاف کے اہلِ خانہ پر سوال کر سکتا ہے کیونکہ اسی ملک کی عدلیہ کا جسٹس کہتا ہے کہ میں اپنی بیوی کے اثاثوں کا جواب دہ نہیں! جب جج اپنی بیوی کے اثاثوں کا جواب دہ نہیں تو وہ کسی دوسرے سے کیا سوال کریگا؟ اور یہی بات تو نون گینگ اور زرداری گینگ کہتے ہیں کہ ہم اپنی اولادوں، بچوں، بیویوں کی جائدادوں کے جوابدہ نہیں!

کوئی بھی کندذہن انسان بہت خوبی سے سمجھ سکتا ہے کہ ان تینوں قوتوں (آرمی ، نون گینگ اور زرداردی گینگ) نے ان 64 سالوں میں ایسا سیاسی، معاشی، معاشرتی اور سماجی نظام قائم کیا ہے جس میں کوئی کسی پر انگلی نہیں اٹھا سکتا! کوئی کسی سے سوال نہیں کر سکتا کیوں کہ اس حمام میں سبھی الف للا ننگے ہیں اور یہ تینوں ایک دوسرے کے ننگ کو چھپانے کے لیے ساتھ کھڑے ہیں!

اس نظام کو اگر کسی نے چیلنج کیا ہے اور ان سب کو ننگا کیا ہے اور ایک اصل سیاسی سوچ پاکستانی عوام کو دی ہے تو وہ عمران خان ہے! حکومت ملنے کے بعد خان نے مافیاز پر ہاتھ ڈالنا چاہا اور اس میں اسکا بہترین ترین دوست جہانگیر ترین اس سے ناراض ہو گیا کیونکہ جہانگیرترین بھی اس ملک کے اسی نظام کا ایک مافیا ہے! جب مافیاز پر ہاتھ ڈالا جائے گا تو کیا وہ اس حکومت کو چلنے دیتے؟ یہی ہوا کہ ان تمامتر مافیاز نے ملکر بیرونی طاقتوں کا سہارا لیتے ہوئے عمران خان کی حکومت سبوتاژ کر دی!

اس سے بڑی لعنت اس ملک پر اور کیا ہو گی، اس سے بڑا عذاب اس ملک پر اور کیا ہوگا کہ جن قوتوں نے 64 برسوں سے اس ملک کے نظام میں زہر گھولا، اس ملک کو مافیالینڈ بنا دیا، جنہیں عوام نے 2018 کے الیکشن میں بری طرح ٹھکرا دیا وہ ایک ایسے خنزیر ترین آئین کا سہارا لیتے ہوئے جس میں مافیاز کو حکومت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، حکومت بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں؟ بائیس کڑوڑ عوام کو ڈنگروں اور جانوروں کی طرح ہانکا جا رہا ہے؟

کافروں نے 2030 کا وژن تیار کیا ہے کہ گاڑیاں بجلی پر چلیں گیں، ہمارے ہاں آج بھی سیاست بجلی پر کمائی جا رہی ہے۔ کافروں نے 2030 کے وژن میں سمندروں پر Windmills          Parks بنا کر توانائی پیدا کرنے کے منصوبے بنائے ہیں اور ہمارے ہاں عوام کو اس پر مسخر کیا جا رہا ہے کہ اگللا چیف آف آرمی اسٹاف حافظِ قرآن ہے!!!!

پاکستان کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تباہ کیا گیا ہے! جو قوم تعلیم سے جتنی دور رہے گی اسکے مافیاز کے لیے اس پر حکومت کرنا اتنا آسان ہو گا! پاکستان کا نظام تعلیم اس قابل نہیں کہ اسے آپ عالمی سطح تو کیا ایشیا کی سطح پر پیش کر سکیں! اور جس ملک کا معیارتعلیم ناقص ہوتا ہے وہاں شریفیوں  اور زرداریوں کو لیڈر بنایا جاتا ہے اور وہی حکومت کرتے ہیں!

64 سال!!!!!!!! ابھی بھی اس قوم کو سمجھ نہیں آئی کہ تباہی کرنے والے شرپسند عناصر کون ہیں!            64سال!!!!!!


بقلم: مسعود

SC orders 500 Buildings in Karachi to raze

About the author

Masood

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں ہے۔ ایک پردیسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکا قلم اس وقت لکھتا ہے دل درد کی شدت سے خون گشتہ ہو جاتا ہے اور اسکے خونِ جگر کی روشنائی سے لکھے ہوئے الفاظ وہ تلخ سچائی پر مبنی ہوتے ہیں جو ہضم مشکل سے ہوتے ہیں۔۔۔ مگر یہ دیوانہ سچائی کا زہر الگنے سے باز نہیں آتا!

Add Comment

Click here to post a comment

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Pegham Network Community

FREE
VIEW