Politics

Saqoot-e-Dhaka – Kyun aur Kaisey? Part IV

Saqoot-e-Dhaka - Kyun aur Kaisey? Part IV

مزید ملاقتیں مزید غداری

بھٹو نے 14 مارچ 1971  کو کہا کہ  مشرقی پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کو ادھر اقتدار منتقل کیا جائے! اور مغربی پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی کو مغربی پاکستان میں اقتدار سونپا جائے۔! یعنی دونوں جانب الگ الگ اقتدار قائم کیا جائے اور اسکے ساتھ ہی وفاق کو کمزور تر کر دیا جائے۔  Saqoot-e-Dhaka – Kyun aur Kaisey? Part IV

 اسی دن یحییٰ نے بھٹو سے خفیہ ملاقات میں کہا! کہ میں مجیب ملنے ڈھاکہ جا رہا ہوں جب تمہیں فون کروں تم بھی ڈھاکہ آ جانا۔! 

یحییٰ خان کی شیخ مجیب سے ڈھائی گھنٹہ ملاقات بے سود رہی،! اسکے بعد یحییٰ خان نے بھٹو کو بھی ڈھاکہ بلا لیا۔! آخری ملاقات میں عوامی لیگ نے یحییٰ خان کو ایک اپنا تیار کردہ مسودہ دیا!جس پر دستخط کے لیے 48 گھنٹے دئیے اور جس میں مشرقی پاکستان کی بجائے بنگلہ دیش لکھا ہوا تھا۔

جبکہ ادھر چاٹگام کی بندرگاہ سے چھاؤنی کے راستے میں فوج کی نقل و حمل روکنے کے لیے!سڑکوں پر بڑی بڑی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔! یعنی مکتی بانی کے دھشتگردوں کی قیادت میں پاک فوج کے ہر راستہ بند کیا جا چکا تھا۔

23 مارچ کے دن مشرقی پاکستان کی بلڈنگوں پر سے پاکستان کا جھنڈا اتار!کر بنگلہ دیش کا جھنڈا لگا دیا گیا  عوامی لیگ کے مطابق یہ مزاحمت کا دن ہے! جبکہ  بھاشانی اسے آزادی  کا دن کہہ  رھا تھا۔

پاکستان فوج نے ایک آخری کوشش کے تحت مکتی بانی کی دھشتگردوں کو خاص کر نشانہ بنانا شروع کیا اور ملک کو دولخت ہونے سے بچانے کیلیے فیصلہ کن کوششوں کا آغاز کیا۔

عدم تعاون

بھٹو نے ڈھاکہ سے پیپلزپارٹی کو فوج کر کے  عدم تعاون کی تحریک چلانے کا کہا! اور لاہور میں پیپلزپارٹی نے اعلان کیا کہ وہ موجودہ حکومت کو کبھی معاف نہیں کرے گی! اگر اس نے مجیب کو اقتدار منتقل کیا تو۔ مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی کی صورتحال ہو چکی تھی۔

مگر ان حالات میں بھی جنرل پیرزادہ اور جنرل حمید پر مشتمل تھا!وہ جنرل یحییٰ کو حساس نوعیت کی اطلاعات سے لاعلم رکھ رھا تھا۔! گورنر احسن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا!انکی جگہ صاحبزادہ یعقوب خان آئے۔

شیخ مجیب کے حکم پر پاکستان فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل عثمانی نے مشرقی پاکستان کے تعلیمی اداروں کو مکتی باہنی کے تربیتی مراکز میں بدل دیا۔

مکتی باہنی ہندوستان سے تربیت یافتہ وہ بنگالی اور ہندوستانی تھے! جو مشرقی پاکستان میں فسادات اور قتل و غارت کے لیے تیار کیے گئے تھے۔!انکو تمام تر اسلحہ ہندوستان سے ملا کرتا تھا۔ ان کا خاص مشن یہ تھا!کہ بنگالی نوجوانوں کو اسلحہ چلانا سکھایا جائے! تاکہ بنگالیوں کی اپنی فوج تیار کی جا سکے۔ 

وارننگ

جنرل ٹکا خان نے جنرل یحییٰ خان کو مسلسل حالات کی سنگینی کی اطلاع دی! اور یحییٰ خان نے ان حالات سے نبٹنے کے لیے مارشل لا لگانے کا سوچ لیا۔!اس نے شیخ مجیب کو کو بھی گرفتار کرنے کا ارادہ کر لیا۔

مگر اس سے پہلے کہ وہ شیخ مجیب پر ہاتھ ڈالتا! شیخ مجیب نے جنرل یحییٰ کو حراست میں لیکر جبراً معاہدے پر دستخط کروانے کا سوچ لیا،! اس سازش کو انٹیلیجنسیز نے بھانپ لیا!اور چھپ چھپا کر یحییٰ خان کو مشرقی پاکستان سے نکال دیا۔

25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب کو فوج نے! شیخ مجیب کے گھر چھاپہ مار کر اسے حراست میں لیکر مغربی پاکستان پہنچا دیا۔  Saqoot-e-Dhaka

شیخ مجیب کی گرفتاری کے بعد یحییٰ خان کی کوشش تھی! کہ عوامی لیگ کو کمزور کیا جائے اور اس کے لیے! اس نے ٹکا خان کو لیگی راہنماؤں کو گرفتار کر کے انہیں دوسری پارٹیوں میں شامل ہونے کی ترغیب دی، بعد ازاں ان پر ملک دشمن سرگرمیوں میں حصہ لینے پر نااہل قرار دیدیا۔

مغربی پاکستان میں بھٹو کے خلاف قصور میں انہی  کی پارٹی نے ہنگامہ کر دیا! اور بھٹو نے احمدرضا قصوری  کو پارٹی سے نکال دیا۔! ادھر ایم ایم پیرزادہ کے ہمراہ 100 سے زائد پی پی پی کے کارکنوں نے بھٹو کیخلاف بغاوت کر دی۔

بھٹو نے ولی خان کو مولانا مفتی محمود کیساتھ ملکر سرحد میں حکومت بنانے کا مشورہ دیدیا۔ ! اس طرح بھٹو سندھ میں اپنی حکومت کی راہ ہموار کرنا چاھتے تھے اور درحقیقت مجیب الرحمن کے چھ نکات پر ہی عمل پیرا تھے۔

ضمنی انتخابات

پارٹیاں توڑنے کے بعد قوم اسمبلی کی 78 نشستوں پر ضمنی انتخابات کروائے گئے! جو زبردست دھاندلی کا شکار ہوئے یوں کہ یحییٰ خان نے ٹکاخان کو حکم دیا!کہ نورالامین کو 20 نشستیں اور مسلم لیگ کنونشن اور جماعتِ اسلامی کے لیے بھی نشستوں کا حکم دیا۔

عوامی لیگ کی عدم موجودگی میں 76 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے۔    Saqoot-e-Dhaka

بیشک شیخ مجیب اپنی راہیں سن 65 ہی سے الگ کر بیٹھا تھا! مگر اس فوجی الیکشن نے اسکے چھ نکات کو زبردست تقویت پہنچائی۔!حکومتِ وقت کے اس ایکشن کو کہ درست تو تھا مگر بہت بہت دیر سے تھا،! نے بنگالیوں کے حوصلے مزید بلند کر دئیے۔

جہاں جہاں مکتی باہنی کے دہشتگرد پائے گئے! انہیں قتل کیا گیا، اکثربنگالی پناہ لینے کے لیے! ہندوستان چلے گئے جس نے اپنی عالمی خارجہ پالیسی کو بروئے کار لاتے ہوئے!پاکستانی ایکشن کو بنگالیوں پر ظلم ثابت کر دکھایا۔ 

حالات میں بہتری آئی مگر  ابھی بھی ایک چنگاڑی کی ضرورت تھی۔  گوکہ میڈیا سنسر تھا۔ Saqoot-e-Dhaka

اقتدار کی ہوس

یحییٰ خان آئین ساز کمیٹی تشکیل دیکر اقتدار سیاسی پارٹیوں کے  حوالے کرنا چاہتے تھے! ساتھ ہی کئی ملک دشمن دین اور سیاسی پارٹیوں کو کالعدم قرار دینے کی کوشش تھی۔  Saqoot-e-Dhaka

اِن سب میں بھٹو تھے جن کے دل میں اقتدار کی خواہش ہمیشہ سے شدت سے چٹکیاں لیتی رہی تھی۔! وہ اِن گزرے ہوئے حالات کو یکسر نظر انداز کر کے صرف اور صرف اقتدار کے انتقال پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے۔

انہوں نے یحییٰ خان کو یہاں تک مشورہ دیدیا!کہ مشرقی پاکستان میں مارشل لا رہنے دیا جائے! اور مغربی پاکستان میں اقتدار انکے حوالے!کر دیا جائے اور وہ مجیب سے مفاہمت تک کرنے کو تیار تھے۔

بھٹو کے اس بیان پر ملک بھر سے شدید مذمت ہوئی،! نصراللہ خان  نے کہا کہ میرے پاس الفاظ نہیں! کہ میں مغربی پاکستان کی اس نام نہاد اکثریتی پارٹی کے اس رویے کی مذمت کر سکوں۔

بھٹو کو جب اس بات کی امید نظر نہ آئی! کہ اقتدار ان کو مل رھا ہے! تو انہوں نے شراکت کا فارمولا بھی پیش کر دیا۔! عوامی لیگ کے  ایس بی زمان کے ساتھ ملکر  حکومت بنانے کا بھی ارادہ ظاہر کیا جس میں بھٹو نے ایس بی زمان کو مشرقی پاکستان کی وزارت اعلیٰ کا وعدہ کیا۔ 

الٹی میٹم

بھٹو کی اقتدار کی ہوس اس قدر بڑھتی چلی جا رہی تھی! کہ 29 ستمبر 1971 انہوں نے بیان داغا کہ ہم حکومت سے تصادم نہیں چاہتے! مگر اقتدار ہمارے حوالے کیا جائے،! صدر دسمبر کے آخر تک اقتدار چھوڑ دین یا بحالی جمہوریت سے انکار کر دیں۔    Saqoot-e-Dhaka

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس سال کے اختتام تک جمہوریت بحال نہ ہوئی!تو پاکستان کو بچانا مشکل ہو جائے گا – یعنی بھٹو پاکستان کی سالمیت کو اپنے اقتدار سے مشروط کر رہے تھے۔

اس دوران عوامی لیگ کے 91 ارکان کو قومی اسمبلی میں اپنی رکنیت بحال رکھنے کےلیے!دوسری جماعتوں میں شامل ہونے کا حکم دیا گیا۔ حالات پھر بگڑ گئے۔

جنرل ٹکا کی جگہ جنرل نیازی نے لے لی۔! 28اکتوبر کو بھارت نے ایک بڑا حملہ یا جسے پسپا کر دیا گیا۔    Saqoot-e-Dhaka

بھٹو کو مدد کے لیے چین روانہ کیا گیا۔! حالات کی اس سنگین ترین صورتحال میں بھی جنرل یحییٰ سیاست کا کھیل کھیل رہے تھے! اور یوں وہ نورالامین، قیوم خان قیوم اور بھٹو کو  بہ یک وقت وزارتِ عظمیٰ کے خواب دکھا رہے تھے اور اندر ہی اندر  پیپلزپارٹی کی اکثریت کو بھی اقلیت میں بدلنے کی سازش کر رہے تھے۔  Saqoot-e-Dhaka

نتیجہ کے طور پر بھٹو نے حکومت کو وارننگ دی! کہ اگر کٹھ پتلی حکومت مسلظ کی گئی تو پیپلزپارٹی  انقلاب کے ذریعے حکومت کا تختہ الٹ دیگی۔

آخری چنددن

22 نومبر  1971 کو بھارت نے تمام محاذوں پر حملہ کردیا! اور بھٹو نے یحییٰ خان کو مشورہ دیا کہ مغربی پاکستان سے فوج مشرقی پاکستان نہ بھیجی جائے۔

دراصل بھٹو جان چکے تھے! وہ مشرقی پاکستان کہ بچا نہیں سکتے۔! 6 دسمبرکو بھارت نے مغربی محاذ پر بھی حملہ کر دیا۔    Saqoot-e-Dhaka

7 دسمبر کو بھٹو نے نورالامین کو وزیراعظم اور بھٹو کو نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ مقرر کردیا۔                    Saqoot-e-Dhaka

13 دسمبرکو بھٹو نے اقوام متحدہ میں بھارتی جارحیت کیخلاف اپنی تاریخ ساز تقریرکی اور واک آؤٹ کردیا۔!14 دسمبر  کومشرقی پاکستان کے گورنر مالک نے استعفیٰ دیدیا۔

16 دسمبر کو ڈھاکہ بھارت کے قبضے میں چلا گیا۔! 17 دسمبر کو جنگ بندی ہوئی۔  اسکے بعد بھارتی تریبت یافتہ مکتی باہنی کے دہشتگردوں نے غیربنگالیوں کو وحشتناک طور پر قتل کرنا شروع کردیا۔ چن چن بہاریوں، اردو بولنے والوں، پنجابیوں اور دوسرے غیربنگالیوں کو قتل کیا گیا۔ اسکی تفصیل بھی موجود ہے! مگر یہاں تحریر کرنے کی ضرورت نہیں۔

سقوطِ ڈھاکہ کی بھیانک روداد انجام کو پہنچی۔  

Conclusion

مسلمانوں کی تاریخ میں یہ بھیانک باب ہمیشہ رقم رہے گا! کہ ہمارے اندر دو چیزوں نے ہمیشہ سر اٹھایا ہے:

ایک غداری اور دوسرا اقتدار کی ہوس۔! ان کے ساتھ ایک تیسرا عنصر بھی موجود ہے! جس نے مسلمانوں کے عروج کو ہمیشہ زوال میں بدلنے میں مدد دی ہے اور وہ ہے دوراندیشی کی کمی!

سقوطِ ڈھاکہ بھی انہیں تین عناصر کا ایک بھیانک مجموعہ ہے۔ نوزائیدہ پاکستان میں میں اقتدار کی ہوس نے سیاست میں عدم استحکام پیدا کیا۔ سیاسی عدم استحکام نے فوجی بغاوتوں کو دعوت دی۔ فوجی بغاوتوں نے غداری کو جنم دیا۔ غداری نے نفرتوں کے بیچ بوئے۔ اور ان بیچوں سے جو  پھل پیدا ہوا اس نے ملک کی بقا کی رگوں کو زہرآلود کر دیا۔ 

سقوطِ ڈھاکہ  کسی ایک کی غداری یا غفلت کا نتیجہ نہیں! بلکہ یہ ایک Collective Collapse تھا جس میں دونوں جانب کے ساستدانوں سے لیکر فوجی لیڈروں تک  سب کے سب ملوث تھے۔
ذاتی مفادات، اقتدار کی ہوس،وسائل کی غلط ترسیل اور استعمال، حالات کی نزاکت کو سمجھنے کی کمی، بداعمالیاں، سنگین غفلتیں، بدانتظامیاں اور بروقت درست ایکشن کی عدم موجودگی نے غداری کی ایک سازش کو پھلنے پھولنے اور اُسے اسکے مقاصد میں کامیاب ہونے دیا۔

اس پر غضب پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی تھی۔ کسی بھی ڈکٹیٹر – چاہے وہ کتنا ہی ملک پرست کیوں نہ ہو – کو  دنیا میں پذیرائی نہیں ملتی اور اسکی سچائی کو بھی دنیا میں مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ یہی ہوا کہ ایوب خان کے بعد یحییٰ خان کی خارجہ پالیسیوں کی نسبت ہندوستانی خارجہ پالیسیاں کامیاب رہیں۔

مشرق اور مغرب کا ایک ایسا الحاق جس میں  عوام کی سوچ، فکر، رہن سہن، اترن پہن،  ڈھنگ ڈھب، بول چال اور مفادات میں واضح فرق اور جس کے درمیان ازل سے شمن ملک کی 1200 میل کی سرحد حائل کبھی  مضبوط الحاق نہیں ہو سکتا تھا۔

ملک کی تاریخ کے پہلے الیکشن نے ایک بات انتہائی واضح الفاظ میں بیان کر دی کہ مشرقی پاکستان چونکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے لہٰذا انکے پاس قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ نشست ہیں، جو بھی پارٹی – چاہے وہ واحد پارٹی ہو یا  پارٹیوں کا اتحاد – مشرقی پاکستان میں زیادہ سیٹیں جیتے گی وہی مرکزی حکومت بنائے گی۔

اس بات کو ذوالفقارعلی بھٹو بھانپ چکے تھے۔ وہ یہ بھی جان چکے تھے کہ کوئی بھی ایسی پارٹی جو مغربی پاکستان میں بڑی ہو گی وہ کبھی مشرقی پاکستان میں نہیں جیت پائے گی۔ الغرض ایک بار حکومت مغربی پاکستان سے گئی، پھر کبھی نہیں آئے گی۔

اِس صورتحال کو جانتے ہوئےمغربی پاکستانی کی بیشتر سیاسی جماعتوں کیساتھ ساتھ بھٹو بذاتِ خود سقوطِ ڈھاکہ کو prevent کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ بھٹو جو بعد میں صدرات کے عہدے پر برجمان ہوئے انہوں نے ایک کمیشن بنایا جس نے حمودالرحمنٰ کمیشن رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ کو بری طرح manipulated کیا گیا اور وہ حقوق جنکا براہِ راست بھٹو سے رابطہ تھا نکال دیا گیا۔ اسی طرح بھٹو چاہتے تھے پاکستان آرمی پر دباؤ پڑا رہے اسی لیے پاکستان نے سرکاری سطح پر کبھی بھی سقوطِ ڈھاکہ میں نقصانات کی رپورٹ شائع نہیں کی۔ اور انہی جھوٹی رپورٹوں کو گردش میں رکھا جو بھارت اور متنفر بنگالیوں کی بنائی ہوتی تھی۔
 بلکہ ان کے اکثر و بیشتر بیانات زہر آلود اور ْاِدھر ہم اُدھر تم ْ کو تقویت دیتے تھے۔  یہ بات تو ایوب خان بھی جان چکے تھے کہ مشرقی پاکستان سے ہاتھ سے جا چکا ہے مگر ایوب خان نے بھی اسکا کوئی حل نکالنے کی بجائے جو ْہو گا دیکھا جائے گا ْ کو ترجیح دی۔ 

ورنہ غداری کی اسقدر کھلم کھلا  اور ثبوتوں کے ساتھ اور مجرموں کی قبولیت کے باوجود انکو بار بار چھوڑ دینا اور موت کے گھاٹ نہ اتارنا حکومتوں کی ناکام ترین حکمت عملی کیساتھ ساتھ ملک سے غداری کے مترادف تھا۔ مجیب اور اسکے ٹولے کو ٹھکانے لگانے کا بہترین موقع سن 65 کی جنگ تھی۔ حکومتِ وقت جنگ میں دشمن کو انفارمیشن پہنچانے کا الزام لگا کر کیس بنا سکتی تھی۔ مگر حکومتی اور سیاسی لیڈران کی منافقت نے ایسا بھی نہ کیا۔ چنانچہ شیخ مجیب کو غدار سے ہیرو بنانا میں پاکستان کی حکومتی اور سیاسی ناکامی کا نتیجہ ہے!

ملاحظہ اس سیریز کا پارٹ 5 – سقوطِ ڈھاکہ کے کردار اور انکا انجام

Saqoot-e-Dhaka, Bangladesh, Zulifqar Ali Bhutto, Shaikh Mujib ur Rehman, General Yahya, General Ayyub, Pakistan History

بقلم مسعود


Pegham Logo Retina

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.