Politics

Saqoot-e-Dhaka – Kyun aur Kaisey? Part III

Saqoot-e-Dhaka - Kyun aur Kaisey? Part III

تھری ڈبلیو  

جنرل یحییٰ خان بذاتِ خود اقتدار حاصل کرنے کے چکر میں 1965 سے تھے۔ مگر وہ بھی ایک اچھے موقع کی تاک میں تھے۔ Saqoot-e-Dhaka – Kyun aur Kaisey? Part III

جنرل یحیٰی  دوسری جنگِ عظیم میں برٹش انڈیا کے جانب سے مصر، قبرص، اٹلی، عراق اور سوڈان کے محاذوں پر تعینات رہے۔! اٹلی میں جرمن فوجوں کے ہاتھوں گرفتارہوئے اور فرار ہوکر فرانس چلے گئے۔

وہ شروع ہی سے شراب اور شباب کے رسیا تھے! اور جنگ انکا پسندیدہ مشغلہ تھا، جس کی وجہ سے اٹلی میں وہ 3W کے نام سے مشہور تھے یعنی Wine, Women and War

تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان آئے! تو انہیں 1947 میں کشمیر کے محاز پر تعینات کیا گیا۔! وہ ادھر بھی شراب اور شباب کے رسیا رہے۔

کشمیر ہی کے محاز پر جب گھمسان کی جنگ ہو رہی تھی! تو اچانک پتہ چلا کہ دو پاکستانی افسر کئی روز سے لاپتہ ہیں۔! قدرت اللہ شہاب ان دنوں آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل تھے، تفتیش کرنے پر پتہ چلا! کہ وہ دو یحییٰ خان اور اعظم خان تھے! جو بعد میں پاکستان کی سیاست میں اہم ثابت ہوئے۔

بدکردار

 یحییٰ خان ایک گھر سے ملے! جہاں وہ شراب کے نشے میں دھت لوگوں سے عورت لانے کا مطالبہ کر رہے تھے،! چونکہ وہ لوگ مذہبی تھے انہوں نے اس کو یعنی یحییٰ خان  کا منہ کالا کر کے سزا دلوانے کا مطالبہ کیا۔ 

اس میں رتی برابر شک کی گنجائش نہیں! کہ یحییٰ خان اخلاقیات کے معاملے میں انتہائی غلیظ اور گھٹیا اور بدعنوان انسان تھے۔ Saqoot-e-Dhaka – Kyun aur Kaisey? Part III

شرابیں  اور عورتیں انکی سخت مجبوری تھی۔! اسی کے دور میں پاکستان کا غلیظ ترین !دور گزرا جب جنرل رانی خان کا قصہ زبانِ عام پر تھا۔

یہی نہیں ایوانِ صدر کے اندر یحییٰ خان کے غیراخلاقی اور بدکردار عورتوں کا جھمگٹا لگا رہتا تھا۔! یہاں تک کہ ملکہ ترنم نورجہاں تک اسکی عیاشیوں کی زینت بنی! اداکارہ ترانہ سے لیکر اقلیم اختر عرف رانی خان اور انگنت دوسری طوائفانہ! کردار کی عورتیں جنرل یحییٰ کے دل و دماغ پر چھائی ہوئی تھی۔

سرکاری گاڑیوں، ٹیلیفون نمبرز، پیسے اور املاک کا بے دریغ استعمال ان عورتوں کے اختیار میں ہوا کرتا تھا۔! یہاں تک کہ خود جنرل یحییٰ خان کا بیٹا بھی انہیں عورتوں کا استعمال عام کرتا تھا۔!

ایوان صدر میں عیاشی عروج پر تھی۔! اور یہاں تک کہ ملک کے کئی ایک اہم مسئلوں پر ان عورتوں کے فیصلوں کی چھاپ لگی ہوئی ہوتی تھی۔

اقتدارکی ہوس

ملٹری انٹیلیجنسز اور سول انٹلیلیجنسز جنرل یحییٰ خان کے دست میں تھیں! جس کی بدولت یحییٰ خان  اکثر ایوب خان کو غلط معلومات پہنچاتے تھے۔!

سیاسی جماعتوں نے یحییٰ خان کو اس نیت سے قبول کیا !کہ وہ جلد ہی الیکش کروا کر اقتدار سول انتظامیہ کو سپرد کر دیں گے! لیکن یہ ان سیاسی جماعتوں کے لیڈران کی خام خیالی تھی۔! یحییٰ خان ایک لمبا عرصہ حکومت کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

اس کا عملی جامہ انہوں نے اس صورت میں دیا! کہ مسندِ اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کی تگ و دو شروع کر دی۔

 ساتھ ہی جنرل یحییٰ جیسے شراب نوش نے مذہبی نقطۂ نظر  رکھنے والوں! کو بھی خوش کر دیا اور اپنی تقریر میں دین کا ٹیکہ لگا دیا۔  Saqoot-e-Dhaka

اُن حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے! ایک بات ماننے میں رتی برابر عذرپیش کرنے کی ضرورت نہیں !کہ اُس وقت کی سیاسی جماعتیں اپنے اپنے مفادات کی خاطر ملک کی تقسیم پر بھی راضی تھیں!

یوں ایک طرف ذوالفقارعلی بھٹوملک اور قوم کی تقدیر کے ساتھ کھیل رہے تھے! تو دوسری جانب اگرتلہ سازش کا مجرم شیخ مجیب اپنی علیحدگی پسند رحجانات کے باعث مشرقی پاکستان میں مقبول ہو رہا تھا۔

اس کی اس مقبولیت میں یحییٰ خان کا مکمل ہاتھ تھا! جو اسکی خفیہ پشت پناہی کر رھا تھا اور اسکے خیالات اسقدر شرانگیز ہو چکے تھے کہ کوئی محب وطن پاکستانی انکا تصور تک نہ کر سکتا تھا۔! اسکے چھ نکات میں پاکستان کے مرکز کی سلامتی پر کاری ضرب تھی۔ 

ملک بھر میں غداریوں کی ایسی ہوا چل نکلی کہ خان قیوم خان نے  قائدِاعظم مسلم لیگ کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی

مشرقی پاکستان کی دوسری جماعتوں کے انتہاپسند نعروں کا اپنا لیا! اور مغربی پاکستان میں پختونستان کے نام سے علیحدہ صوبے کے قیام کے لیے خان عبدلغفار کی حمایت کر دی۔! قطع نظر اسکے کی خان عبدالغفار خان کے منصوبے دہلی اور کابل میں بنتے تھے۔

لندن پلان 

ماضی میں بھی حکومتوں کے خلاف سازشوں کے لیے لندن میں  خفیہ مذاکرات کیے جاتے رہے ہیں۔  Saqoot-e-Dhaka

یحییٰ خان نے اعلان کیا کہ وہ 2 اکتوبر 1969 میں الیکشن کروا کے عوام کے منتخب نمائیندوں کو اقتدار سونپنا چاہتے ہیں۔! اس ضمن میں لندن میں  سیاسی جماعتوں کا جھرمٹ شروع ہو گیا۔

بھٹو نے مختلف اپوزیشن لیڈروں سے ملاقاتیں کیں! اور ایک ایسا فارمولا پیش کرنے کی کوشش کی جو تمام جماعتوں کے لیے متفقہ ہو۔! جبکہ شیخ مجیب لندن میں بھارتی ایجنٹوں سے ملنا چاہتے تھے۔

 صدر یحییٰ نے اپنی انٹلیجنسز کو ان سیاستدانوں کی ملاقاتوں کو ٹیپ کرنے کا حکم دیا۔

شیخ مجیب کی ایک انڈین ایجنٹ سے ملاقات کی گفتگو ٹیپ کر لی گئی! جس میں شیخ مجیب  صدر یحییٰ کو گالی دیکر کہہ رھا تھا کہ وہ صدر بننے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔!جبکہ بھارتی ایجنٹ اُسے کہہ رھا ہے کہ تمہاری منزل الیکشن نہیں آزادی ہے۔

لندن کی ان ملاقاتوں کی ٹیپ بھٹو اور دوسرے لوگوں کی بھی حکومت کی تحویل میں آئی۔

انہی دنوں جبکہ شیخ مجیب ڈھاکہ نہیں تھا،! مگر اسکے حکم سے مشرقی پاکستان میں ہنگاموں کا سلسلہ شروع ہو گیا جسے روکنے کے لیے فوج بلانا پڑی۔

یحییٰ خان نے شیخ مجیب کو ٹیلیکس کیا کہ جلدی ڈھاکہ پہنچو ورنہ تمہاری خیر نہیں! شیخ مجیب  کو 9 نومبر کو لندن سے ڈھاکہ جاتے ہوئے! براہ راست کراچی گرفتار کر لیا گیا۔

جنرل یحییٰ خان نے اسے فون کیا کہ “میں تمہارے کرتوتوں سے واقف ہوں اور تمہیں آخری موقع دے رہا ہوں! فوراً ڈھاکہ جاؤ اور  حرامزادوں کو کنٹرول کرو، جنہیں لندن سے! آگ اور خون کا کھیل رچانے کے احکامات دئیے گئے تھے”

 یحییٰ خان نے مزید کہا کہ! “اگر مشرقی پاکستان میں حالات ٹھیک نہ ہوئے تو میں کچھ بھی کر سکتا ہوں”۔! اس سے یہ ہوا کہ مشرقی پاکستان میں حالات قدرِ بہتر ہو گئے۔

یکم اپریل 1970 کو ون یونٹ کا خاتمہ کر دیا گیا! جس کے تحت مغربی پاکستان کے چار صوبے جو ایک یونٹ میں تھے! وہ اب سب الگ الگ صوبہ میں واپس آ گئے۔ 

انتخابات سے پہلے 

یکم جنوری 1970 کو سیاسی سرگرمیوں پر سے پابندی اٹھائی گئی! تو پندرہ جنوری کو جماعتِ اسلامی کے امیر مولانا مودودی مشرقی پاکستان کے دورے گئے۔

وہ ڈھاکہ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرنے ہی والے تھے! کہ مسلح افراد نے جلسہ گاہ پر حملہ کر دیا۔! زبردست پتھراؤ کیا گیا پنڈال کو آگ لگا دی گئی!جس سے ایک شخص ہلاک اور چار سو کے قریب زخمی ہوئے۔

دہشتگردوں نے جن کا تعلق ہندوستان کی تربیت یافتہ مکتی ہاہنی کے غنڈے تھے! جنکا مقصد مشرقی پاکستان میں بغاوت اور نفرت کی آگ بھڑکانا تھا۔!  ان حملہ آوروں نے جو شیخ مجیب اور مولانا بھاشانی کے حکم پر عمل کرتے تھے انکے ناموں کے نعرے لگاتے رہے۔ Saqoot-e-Dhaka

چند دن بعد جماعتِ اسلامی نے اپنے اجلاس میں! یہ قرارداد پاس کی کہ امریکی سفارتخانہ  کے ارکان دیہات میں! جا کر مجیب کے حق میں پراپوگنڈا کرتے ہیں!

حکومت سے مطالبہ کیا کہ امریکی سفیر فارلینڈ کو ملک بدر کیا جائے،! ایسا ہی ایک الزام  قیوم خان قیوم نے لگایا!کہ مرکز کو کمزور کرنے والے پاکستان کے بدخواہ عناصر وہ لوگ ہیں جو چھ نکات، پختونستان اور جئے سندھ کا نعرہ لگاتے ہیں۔

جبکہ 11 مارچ کو بھٹو نے پیپلزپارٹی کے مرکزی دفتر میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا! کہ انکی پارٹی دستورسازاسمبلی کے ان فیصلوں کو تسلیم نہیں کرے گی! جو عوام کی خواہشات کے خلاف ہونگے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب اس بات کی ضرورت ہے! کہ سامراجیوں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں، راشیوں، غداروں، منافقوں اور مشرقی اور مغربی صوبوں کو علیحدہ کرنے والوں اور بھارت سے کنفیڈریشن چاہنے والوں کو درست کیا جائے۔ یہ کام صرف عوام ہی کر سکتے ہیں۔۔۔۔

اسی طرح 24 مارچ کو مولانابھاشانی نے انکشاف کیا! کہ سن 65 کی جنگ میں امریکہ نے مشرقی پاکستان میں اپنے حواریوں کو یقین دلایا تھا! کہ وہ آزادی کا اعلان کریں تو امریکہ  5 ارب روپے دیگا اور فوراً تسلیم کر لے گا۔ لہذا عام انتخابات میں طرح طرح کے الزام لگنے لگ گئے۔

ڈھاکہ دھشتگردیاں 

مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستانی سیاستدانوں کے جلسوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا۔! اور کوئی بھی جلسہ ایسا نہ تھا جس پر بنگالیوں کے تشدد کی داستان رقم نہ ہوتی۔!

ایسا ہی ایک جلسے میں جب چھ نکات پر تنقید کی گئی! تو اسقدر ہنگامہ برپا ہوا کہ  سیاستدانوں کو اپنے جلسے چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔    Saqoot-e-Dhaka

دراصل اس بلوہ آرائیوں سے مغربی پاکستان کے سیاستدانوں کو تنبیہ کی جارہی تھی! کہ چھ نکات پر کوئی تنقید برداشت نہیں ہو گی۔! مزید ہنگاموں میں 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

گوکہ صدر یحییٰ خان یہ ظاہر کرتے تھے! کہ وہ کسی قسم کا کوئی سیاسی عزم نہیں رکھتے مگر اندر ہی اندر وہ بھٹو اور مجیب کے مخالفین کی مدد کر رہے تھے! کیونکہ وہ چاہتے تھے دو بڑی سیاسی جماعتوں کا جمود ٹوٹے۔

انہوں نے مولانابھاشانی کے ساتھ ساتھ قیوم خان قیوم کی بھرپور مالی معاونت کی۔! جبکہ دینی جماعتوں میں گوکہ ہم آہنگی تھی مگر مفادات سب سے الگ تھے۔!

مولانابھاشانی نے مشرقی پاکستان میں مجیب کی عوامی لیگ کا مقابلہ کرنے کے لیے! مسلم لیگ کے ممتازدولتانہ کو فون کیا اور اتحاد پیش کیا،! مگر مشرقی پاکستان کے حالات اسقدر خراب تھے! کہ کوئی بھی چھ نکات کیخلاف بات کرنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔

غرور

اس ضمن میں ایک اہم واقعہ اس وقت پیش آیا! جب شیخ مجیب نے لاہور میں جلسہ کیا! اور جماعتِ اسلامی کے کارکنوں نے ہلڑبازی شروع کردی۔

شیخ مجیب جان چکا تھا کہ  یہ 15 جنوری کے پلٹن میدان کے جلسے کا بدلہ ہے۔! اس پر شیخ مجیب نے کہا کہ میں یہاں ووٹ کی بھیک مانگنے نہیں آیا! بلکہ جو لوگ ہنگامہ کر رہے ہیں وہ نفرت کا بیچ بو رہے ہیں! میں غریب اور متوسط طبقے کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہتا ہوں۔  Saqoot-e-Dhaka

اگر آئندہ مشرقی پاکستان کے سیاستدانوں کے ساتھ ایسا سلوک ہوا تو اگلی بار مولانامودودی میری اجازت سے ڈھاکہ آئیں گے۔

اس کے جواب میں مولانامودودی نے کہا کہ مجھے ڈھاکہ جانے کے لیے مجیب کی اجازت کی ضرورت نہیں! جس پر مجیب نے جوابی وار کیا  کہ “وہ دن دور نہیں  جب آپ ویزہ کی درخواست دے کر بنگلہ دیش آیا کریں گے”  !!!!

طوفان 

دو اگست 1970 کو مشرقی پاکستان میں سیلاب آیا جس سے  15 ہزار اسکوئر میل کا علاقہ زیرِ آب آ گیا اور 10 ملین لوگ متاثر ہوئے۔

الیکشن اکتوبر کی بجائے دسمبر تک ملتوی کر دئیے گئے۔  Saqoot-e-Dhaka

بدقسمتی سے گیارہ نومبر1970 کو گنگا دریا کے ڈیلٹا میں طوفان آیا! جس سے  20 لاکھ افراد ہلاک ہو گئے۔! یہ طوفان جسے بھولا طوفان کا نام دیا گیا تاریخ کا سخت ترین طوفان تھا۔

اس طوفان پر حکومتِ پاکستان ناقص انتظامات کی وجہ سے شدید تنفید کا نشانہ بنی۔! اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ وہ طوفان تھا !جس نے مشرقی اور مغربی پاکستان کو دلی طور پر ایک دوسرے سے دور کر دیا۔

مشرقی پاکستان کے لوگ خود کو بے یارومددگار محسوس کرنے لگے! اور حکومت کی جانب سے کوئی خاطر خواہ سپورٹ نہ ملی۔! اسکے بعد ڈھاکہ میں حالات مزید بگڑتے چلے گئے۔

پہلا الیکشن

مشرقی پاکستان کے گورنر احسن نے صدر یحییٰ خان کو اطلاع دی! کہ مشرقی پاکستان کے حالات بدتر ہیں! اور کسی بھی مغربی سیاستدان کے لیے یہاں آنا کسی جہنم میں آنے سے کم نہیں۔

بھارت سے تربیت یافتہ تحریب کاروں کی آمد میں تیزی آ گئی ہے! اور وہ شیخ مجیب سے اشارہ پاتے ہی بڑے پیمانے پر کاروائی شروع کر دیں گے۔! نجانے کس مصلحت کے تحت صدر یحییٰ نے  اس کو نظرانداز کر دیا۔

آزادی کے بعد ملک کی تاریخ کا پہلا آزادانہ الیکشن 7 دسمبر 1970 کو پرامن حالات میں منعقد ہوا۔  Saqoot-e-Dhaka

نتیجہ ایک ایسا معرکہ آرا تھا! جس کا کسی بھی سیاسی پارٹی کے وہم و گمان میں نہ تھا۔! یہ تو تصور کیا جا رھا تھا کہ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ جیتے گی،! مگر اس نے 162 میں سے 160 سیٹیں حاصل کیں۔

جبکہ یہ بھی توقع تھی کہ مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی جیتے گی! مگر اس نے 81 سیٹیں حاصل کیں۔! جنرل یحییٰ کی سوچ تھی کہ کوئی پارٹی میجورٹی حاصل نہیں کرے گی لہذا وہ صدر رہے گا۔ مگر ایسا نہ ہوا۔

مابعد الیکشن 

ذوالفقارعلی بھٹو نے 14 دسمبر 1970 کو اخباری نمائندوں کو بیان دیتے ہوئے کہا! کہ اگر دونوں  بڑی سیاسی جماعتیں  120 دن میں کسی فارمولے پر نہ پہنچ سکیں! تو پیپلزپارٹی اپوزیشن میں بیٹھے گی!

مزید کچھ دن بعد انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میری جیب میں ہیں مرکز میں کوئی حکومت پیپلزپارٹی کے بغیر نہیں چل سکتی! – اسکے جواب میں عوامی لیگ کے تاج الدین نے کہا! کہ وہ دن گئے جب پنجاب اور سندھ طاقت کا سرچشمہ تھا!

ڈھاکہ سے  خطرناک خبریں آ رہی تھیں! کہ اگر حکومت نے انتقالِ اقتدار کے مرحلے کو جلد مکمل نہ کیا! تو صورتحال بہت زیادہ بگڑ جائیگی۔  Saqoot-e-Dhaka

شیخ مجیب پر عوام کا دباؤ بڑھتا چلا جا رھا تھا! کہ وہ یکطرفہ طور پر آزادی کا اعلان کر دیں!  10 جنوری 1971 کو شیخ مجیب نے اپنی رہائش گاہ کے باہر جمع لوگوں سے کہا کہ! “تمہیں بنگلہ دیش مبارک ہو اگر تم لوگ عوامی لیگ کو اسقدر بھاری مینڈیٹ سے کامیاب نہ کراتے تو تم کو وہ (یعنی مغربی پاکستان والے) کتے کی موت مار دیتے”۔

ملاقاتیں  

گورنر احسن نے اسی شام ڈھاکہ سے ایک ٹاپ سیکرٹ خبر صدر یحییٰ خان کو بھیجی کہ! کسی قسم کی تاخیر کیے بغیر فوجی قیادت شیخ مجیب الرحمنٰ سے ملاقات کرے! اور عوامی لیگ کو یہ باور کرایا جائے !کہ اسکی بھارت نواز پالیسی کے باعث حکومت انتہائی اقدام پر مجبور ہو جائے گی۔  Saqoot-e-Dhaka

12 جنوری مجیب الرحمنٰ سے ایوانِ صدر ڈھاکہ میں جنرل یحییٰ خان کی ملاقات ہوئی! جس میں جنرل نے مجیب سے کہا کہ کامیاب تو تم ہو ہی چکے! ہو اب بہتر یہ ہے کہ اپنے منشور میں تبدیلی لا کر! اسے مغربی پاکستان کے لیے بھی قابلِ قبول بناو۔

جس پر مجیب نے کہا کہ سر چھ نکات میں خرابی کیا ہے؟! جس پر یحییٰ نے کہا کہ اس سلسلے میں مغربی پاکستان کے قائدین سے رابطہ کرو! 14 جنوری کو ڈھاکہ سے روانہ ہوتے ہوئے! جنرل یحییٰ نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ اگلے وزیراعظم مجیب الرحمنٰ ہونگے۔

ذوالفقارعلی بھٹو کی شیخ مجیب سے 27 اور 28 جنوری کو دو ملاقاتیں ہوئیں۔! مگر بے نتیجہ رہیں کیونکہ شیخ مجیب اپنے چھ نکات سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہی نہ تھا۔

طیارہ سازش

25 یا 30 جنوری کو انڈین ائرلائنز کا فوکر تیارہ سرینگر سے دہلی جاتے ہوئے! کشمیری حریت پسند ہاشم نے اغوا کر لیا  اور لاہور پہنچا دیا۔

مسافروں کو جہاز سے نکالنے کے بعد اسے دھماکے سے اڑا دیا۔! یہ اس ہندوستانی سازش کا ایک حصہ تھا جس کی بنیاد مشرقی پاکستان میں نفرت کا بیچ بونے کی رکھی جا چکی۔! اسکا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان نے مغربی اور مشرقی پاکستان کے درمیان اپنی فضائی حدود بند کر دی۔  Saqoot-e-Dhaka

یحییٰ خان نے 3 مارچ 1971 کو ڈھاکہ میں آئین ساز اسمبلی کا اجلاس بلایا،! مگر بھٹو نے یہ کہہ کر اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا!کہ  چھ نکات میں رد و بدل اور مفاہمت کے بغیر انکا اس اجلاس میں شرکت بے سود ہے۔

ادھر مشرقی پاکستان میں اس اجلاس کے لیے مکمل تیاری کی گئی! یہاں تک کہ شیخ مجیب نے کچھ لوگوں کو ہندوستان بھیج دیا!کہ اگر اجلاس ملتوی ہوتا ہے تو ہندوستان سے مسلح جدوجہد میں مدد لی جا سکے۔

ڈیڈلاک

اجلاس سے پہلے 19 فروری کو یحییٰ خان نے کوئی پانچ گھنٹے بھٹو سے ملاقات کی۔  Saqoot-e-Dhaka

بھٹو نے کہا کہ عوامی لیگ اگر کرنسی، امور خارجہ اور ٹیکسوں کے متعلق مجوزہ دفعات میں ردوبدل کرے ہم تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود اجلاس کا انعقاد نہ ہو سکا۔

اجلاس کے التوا کی خبر سن کر شیخ مجیب نے 2 مارچ کو ڈھاکہ اور 3 مارچ کو ملک بھر میں ہڑتال کی اپیل کر دی۔ ادھر بھٹو نے 28 فروری کو ملک گیر ہڑتال کی کال دیدی۔  ڈھاکہ میں حالات اسقدر بدتر ہو گئے کہ کرفیو لگانا پڑا۔ 

بھٹو سے ملاقات کے بعد جنرل یحییٰ نے 25 مارچ 1971 کو اسمبلی کا سیشن بلا لیا۔  Saqoot-e-Dhaka

  شیخ مجیب نے اجلاس میں شرکت کے لیے چار شرائط پیش کر دیں:  اول ملک سے مارشل لا اٹھایا جائے، دوم فوج کر بیرکوں میں واپس بھیجا جائے، سوم اقتدار عوام کے نمائندوں کے حوالے کیا جائے چہارم مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان فوج بھجوانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

اسی جلسے میں شیخ مجیب نے تحریک عدم تعاون شروع کرنے کا اعلان کیا اور لوگوں کو ھدایت کی کہ وہ ٹیکس نہ دیں، سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں ہڑتالیں کی جائیں، تعلیمی ادارے بند رکھے جائیں، بنکوں یا دیگر ذرائع سے رقوم مغربی پاکستان نہ بھیجی جائیں۔

اس کے بعد ڈھاکہ میں خانہ جنگی شروع ہو چکی تھی اور غیربنگالیوں پر حملے شروع ہو چکے تھے۔

سقوطِ ڈھاکہ – کیوں اور کیسے؟ پارٹ 4

Saqoot-e-Dhaka, Bangladesh, Zulifqar Ali Bhutto, Shaikh Mujib ur Rehman, General Yahya, General Ayyub, Pakistan History

بقلم مسعود


Pegham Logo Retina

About the author

Masood

ایک پردیسی جو پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے ملک سے بے پناہ محبت رکھتا ہے، اپنے ملک کی حالت پر سخت نالاں،۔ ایک پردسی جس کا قلم مشکل ترین سچائی لکھنے سے باز نہیں آتا، پردیسی جسکے قلم خونِ جگر کی روشنائی سے لکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ تلخ ہے، ہضم مشکل سے ہوتی ہے، پردسی جو اپنے دل کا اظہار شاعری میں بھی کرتا ہے

Add Comment

Click here to post a comment

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.